فلور ملز میں کام بند 6 ہزار ٹن آٹا تیار نہ کیا جاسکا
شہری ضروریات کے لیے مطلوبہ مقدار میں آٹے کی ممکنہ عدم دستیابی کے سبب بلیک مارکیٹنگ شروع ہوجائے گی
فلور ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کے بعد کورنگی کی فلور مل میں کام بند پڑا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کی کال پرسرکاری اداروں کی رشوت خوری کے خلاف کراچی میں فلورملز کی غیرمعینہ مدت کی ہڑتال شروع ہونے کے باعث منگل کو6 ہزار ٹن آٹاتیار نہ کیاجاسکا۔
منگل کو شروع ہونے والی ہڑتال میں کراچی کی 84 میں سے81 فلور ملز شامل ہیں جن کے مالکان نے ملز میں کام وترسیل مکمل طور پر بند کرکے ملوں کے باہر احتجاجی بینر آویزاں کردیے ہیں، ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ قوانین کی خلاف ورزی اور فلورملز انڈسٹری کے مفادات کے خلاف سرگرمیوں پرایسوسی ایشن نے جن 3 فلورملوں کی گزشتہ 6 ماہ سے رکنیت معطل کر رکھی ہے، وہ کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں ، آٹے کے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ منگل سے فلور ملز کی شروع ہونے والی ہڑتال کے منفی اثرات بدھ سے مرتب ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ شہری ضروریات کے لیے مطلوبہ مقدار میں آٹے کی ممکنہ عدم دستیابی کے سبب بلیک مارکیٹنگ شروع ہوجائے گی جس سے براہ راست شہری متاثر ہونگے۔
ذرائع نے بتایا کہ کراچی کی فلور ملز میں 12،12 گھنٹوں کی 2 شفٹوں میں 12150 افراد کا براہ راست روزگار وابستہ ہے جن میں سے50 فیصد ملازمین یومیہ اجرت پر خدمات انجام دیتے ہیں، ہڑتال کی وجہ سے 6075 ملازمین کی یومیہ اجرت بھی منگل سے بند ہوگئی، اس ضمن میں پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل کے چیئرمین چوہدری محمد یوسف نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ منگل سے شروع ہونے والی ہڑتال انتہائی کامیاب ہے،ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی مانیٹرنگ کے لیے 5 خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی ہیں جنھوں نے منگل کی صبح سے ہی شہر کے پانچوں اضلاع میں فلورملز کی مانیٹرنگ کرنے کے بعد ایسوسی ایشن کو باقاعدہ رپورٹ دی ہے۔
چوہدری محمد یوسف نے بتایا کہ فلور ملز مالکان عوامی مفاد میں ہڑتال کرنے کے حق میں نہیں تھے لیکن محکمہ خوراک ، پولیس اورمحکمہ ایکسائز کے اہلکاروںکی بھتہ خوری نے کراچی کی فلورملز کو ہڑتال پر جانے پر مجبورکردیا تھا، انھوں نے بتایا کہ سرکاری اداروں کی کاشتکاروں سے گندم کی خریداری کے بعد اس کی ترسیل کے دوران ہر مرحلے پر رشوت خوری کی وجہ سے کراچی میں گندم کی آمد رک گئی تھی جس کے نتیجے میں گزشتہ ایک ہفتے سے اوپن مارکیٹ میں بھی گندم غائب ہوگئی تھی، شہر بھر کی فلورملوں کے پاس گندم کے ذخائر ختم ہوگئے تھے۔
اس سال سندھ میں 41 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار ہوئی ہے جس میں سے تاحال صرف5 تا8 فیصد گندم مارکیٹ میں پہنچی تھی،صوبے میں گندم کی وافر مقدار میں دستیابی کے باوجود اس کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں ،انھوں نے بتایا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں فی100 کلوگرام گندم کی قیمت3 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے،سندھ میں اس کے برعکس گندم کی فی بوری قیمت3125 روپے رکھی گئی ہے لہٰذا متعلقہ ذمے دار اداروں کو چاہیے کہ وہ عوامی مفاد کو مدنظررکھتے ہوئے اس طرز کی پالیسی وضع کریں جس کے ذریعے عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
منگل کو شروع ہونے والی ہڑتال میں کراچی کی 84 میں سے81 فلور ملز شامل ہیں جن کے مالکان نے ملز میں کام وترسیل مکمل طور پر بند کرکے ملوں کے باہر احتجاجی بینر آویزاں کردیے ہیں، ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ قوانین کی خلاف ورزی اور فلورملز انڈسٹری کے مفادات کے خلاف سرگرمیوں پرایسوسی ایشن نے جن 3 فلورملوں کی گزشتہ 6 ماہ سے رکنیت معطل کر رکھی ہے، وہ کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں ، آٹے کے بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ منگل سے فلور ملز کی شروع ہونے والی ہڑتال کے منفی اثرات بدھ سے مرتب ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ شہری ضروریات کے لیے مطلوبہ مقدار میں آٹے کی ممکنہ عدم دستیابی کے سبب بلیک مارکیٹنگ شروع ہوجائے گی جس سے براہ راست شہری متاثر ہونگے۔
ذرائع نے بتایا کہ کراچی کی فلور ملز میں 12،12 گھنٹوں کی 2 شفٹوں میں 12150 افراد کا براہ راست روزگار وابستہ ہے جن میں سے50 فیصد ملازمین یومیہ اجرت پر خدمات انجام دیتے ہیں، ہڑتال کی وجہ سے 6075 ملازمین کی یومیہ اجرت بھی منگل سے بند ہوگئی، اس ضمن میں پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل کے چیئرمین چوہدری محمد یوسف نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ منگل سے شروع ہونے والی ہڑتال انتہائی کامیاب ہے،ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی مانیٹرنگ کے لیے 5 خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی ہیں جنھوں نے منگل کی صبح سے ہی شہر کے پانچوں اضلاع میں فلورملز کی مانیٹرنگ کرنے کے بعد ایسوسی ایشن کو باقاعدہ رپورٹ دی ہے۔
چوہدری محمد یوسف نے بتایا کہ فلور ملز مالکان عوامی مفاد میں ہڑتال کرنے کے حق میں نہیں تھے لیکن محکمہ خوراک ، پولیس اورمحکمہ ایکسائز کے اہلکاروںکی بھتہ خوری نے کراچی کی فلورملز کو ہڑتال پر جانے پر مجبورکردیا تھا، انھوں نے بتایا کہ سرکاری اداروں کی کاشتکاروں سے گندم کی خریداری کے بعد اس کی ترسیل کے دوران ہر مرحلے پر رشوت خوری کی وجہ سے کراچی میں گندم کی آمد رک گئی تھی جس کے نتیجے میں گزشتہ ایک ہفتے سے اوپن مارکیٹ میں بھی گندم غائب ہوگئی تھی، شہر بھر کی فلورملوں کے پاس گندم کے ذخائر ختم ہوگئے تھے۔
اس سال سندھ میں 41 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار ہوئی ہے جس میں سے تاحال صرف5 تا8 فیصد گندم مارکیٹ میں پہنچی تھی،صوبے میں گندم کی وافر مقدار میں دستیابی کے باوجود اس کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں ،انھوں نے بتایا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں فی100 کلوگرام گندم کی قیمت3 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے،سندھ میں اس کے برعکس گندم کی فی بوری قیمت3125 روپے رکھی گئی ہے لہٰذا متعلقہ ذمے دار اداروں کو چاہیے کہ وہ عوامی مفاد کو مدنظررکھتے ہوئے اس طرز کی پالیسی وضع کریں جس کے ذریعے عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔