برآمدی شعبوں کیلیے بجلی پر 5 فیصد سیلز ٹیکس عائد

9 نجی پاور کمپنیوں کے گیس سے پیداکردہ بجلی 5 برآمدی شعبوں کو دینے پر صفر ٹیکس سہولت ختم، سیلز ٹیکس جنرل آرڈرجاری

9 نجی پاور کمپنیوں کے گیس سے پیداکردہ بجلی 5 برآمدی شعبوں کو دینے پر صفر ٹیکس سہولت ختم، سیلز ٹیکس جنرل آرڈرجاری۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے بجلی پیدا کرنے والی 9 نجی کمپنیوں کی طرف سے گیس سے پیدا کردہ بجلی کی ٹیکسٹائل، لیدر اور گارمنٹس سمیت 5 ایکسپورٹ اورینٹڈ شعبوں کو فراہمی پر صفر سیلز ٹیکس کی سہولت واپس لے کر 5 فیصد رعایتی سیلز ٹیکس پر بجلی سپلائی کی اجازت دے دی ہے۔


اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی طرف سے باضابطہ طور پر ترمیمی سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 35 جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت 13 ستمبر 2007 کو جاری کردہ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 18میں ترامیم کردی گئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ عدنان پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، جوبلی انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ، گیٹرو پاور پرائیویٹ لمیٹڈ، بھنیرو انرجی لمیٹڈ، لکی انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ، این پی واٹر پروف ٹیکسٹائل ملز پرائیویٹ لمیٹڈ، نوین انڈسٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ، سیفائر انرجی لمیٹڈ اور ٹاٹا انرجی لمیٹڈ کو 5 ایکسپورٹ اورینٹڈ شعبوںکے لیے اشیا کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والی بجلی کی گیس پر پیداوار کے لیے حاصل صفر سیلز ٹیکس کی سہولت واپس لے لی گئی ہے، اب مذکورہ پاور کمپنیوں کی طرف سے سوئی سدرن گیس کمپنی سے حاصل کردہ گیس سے پیدا ہونیوالی بجلی کی ان ایکسپورٹ اورینٹڈ شعبوں کو فراہمی پر 5 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہو گا۔
Load Next Story