امریکا نے یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کردیا مغرب کی پابندیوں کا سامنا کرینگے روس
روس یوکرین کو تقسیم کرنیکی کوشش کررہا ہے، ماسکو نے مداخلت بند نہ کی تو اسے دنیا میں تنہا کردیں گے، امریکی نائب صدر
روسی عوام کوسیاسی کھیل کے ہاتھوں یرغمال بننے نہیں دینگے،وزیراعظم میدویدف، چین بحران کے حل کیلیے مدد کرے، جرمنی۔ فوٹو: فائل
امریکا نے یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کااعلان کردیا جبکہ روسی وزیر اعظم نے کہاہے کہ ماسکو مغرب کی نئی معاشی پابندیوں کا سامنا کرنے کیلیے تیار ہے۔
امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے یوکرین کے رہنماؤں کو بتایا ہے کہ ان کا ملک تحقیرآمیز دھمکیوں سے نمٹنے کیلیے یوکرین کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ جوبائیڈن کیف کے دورے پرہیں جہاں انھوں نے یوکرین کے عبوری صدر الیگزینڈر ٹرچینوف اور نگراں وزیراعظم ارسنی یتسنیوک سے ملاقاتیں کیں۔ نائب صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ روس یوکرین کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکاکریمیا میں روس کے اقدام کوتسلیم نہیں کرتا۔ اگر روس نے یوکرین میں مداخلت بند نہ کی تو اسے دنیا میں مزید تنہا کردیں گے۔ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یوکرین اپنے مستقل کی تگ ودو میں مصروف ہے۔ نائب صدر کا کہنا تھا کہ یوکرین کی حکومت کے پاس موقع ہے کہ وہ ایک متحد ملک بنا سکے لیکن انھوں نے متنبہ کیا کہ اس کے لیے اسے پہلے بدعنوانی کے سرطان سے نمٹنا ہوگا۔
بائیڈن نے مزید کہا کہ یوکرین کو توانائی میں خود کفیل بنانے میں امریکااس کی مدد کرنے کو تیار ہے۔ امریکی نائب صدر نے یوکرین کے لیے 8ملین کے فوجی سازوسامان اور سیاسی حمایت کے علاوہ 50 ملین ڈالر کے امدادی پیکیج کااعلان بھی کیا۔ جوبائیڈن نے روس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنیوا معاہدے پر عملدرآمد کو جلد از جلد ممکن بنایا جائے تاکہ کشیدہ صورتحال میں بہتری پیدا ہو۔ دوسری طرف روسی وزیراعظم دمتری میدویدف نے قانون سازوں کو بتایا ہے کہ ان کا ملک یوکرین کے معاملے پر مغرب کی طرف سے عائد پابندیوں سے نمٹ سکتا ہے۔ منگل کو روسی پارلیمنٹ میں ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ وہ روس کے عوام کو سیاسی کھیل اور غیر دوستانہ اقدام کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دینگے۔ پابندیاں لگائی گئیں تو ہم اپنے وسائل پر انحصار کر کے اس جنگ کو بھی جیت لیں گے۔
امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے یوکرین کے رہنماؤں کو بتایا ہے کہ ان کا ملک تحقیرآمیز دھمکیوں سے نمٹنے کیلیے یوکرین کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ جوبائیڈن کیف کے دورے پرہیں جہاں انھوں نے یوکرین کے عبوری صدر الیگزینڈر ٹرچینوف اور نگراں وزیراعظم ارسنی یتسنیوک سے ملاقاتیں کیں۔ نائب صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ روس یوکرین کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکاکریمیا میں روس کے اقدام کوتسلیم نہیں کرتا۔ اگر روس نے یوکرین میں مداخلت بند نہ کی تو اسے دنیا میں مزید تنہا کردیں گے۔ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یوکرین اپنے مستقل کی تگ ودو میں مصروف ہے۔ نائب صدر کا کہنا تھا کہ یوکرین کی حکومت کے پاس موقع ہے کہ وہ ایک متحد ملک بنا سکے لیکن انھوں نے متنبہ کیا کہ اس کے لیے اسے پہلے بدعنوانی کے سرطان سے نمٹنا ہوگا۔
بائیڈن نے مزید کہا کہ یوکرین کو توانائی میں خود کفیل بنانے میں امریکااس کی مدد کرنے کو تیار ہے۔ امریکی نائب صدر نے یوکرین کے لیے 8ملین کے فوجی سازوسامان اور سیاسی حمایت کے علاوہ 50 ملین ڈالر کے امدادی پیکیج کااعلان بھی کیا۔ جوبائیڈن نے روس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنیوا معاہدے پر عملدرآمد کو جلد از جلد ممکن بنایا جائے تاکہ کشیدہ صورتحال میں بہتری پیدا ہو۔ دوسری طرف روسی وزیراعظم دمتری میدویدف نے قانون سازوں کو بتایا ہے کہ ان کا ملک یوکرین کے معاملے پر مغرب کی طرف سے عائد پابندیوں سے نمٹ سکتا ہے۔ منگل کو روسی پارلیمنٹ میں ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ وہ روس کے عوام کو سیاسی کھیل اور غیر دوستانہ اقدام کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دینگے۔ پابندیاں لگائی گئیں تو ہم اپنے وسائل پر انحصار کر کے اس جنگ کو بھی جیت لیں گے۔