چارسدہ میں پولیس وین پر بم حملہ

دھماکا ریموٹ کنٹرول تھاجس میں4کلوبارودی مواد استعمال کیا گیا...

دھماکا ریموٹ کنٹرول تھاجس میں4کلوبارودی مواد استعمال کیا گیا. فوٹو؛ایکسپریس نیوز/فائل

صوبہ خیبر پختون خوا میں بدامنی کے خلاف طویل عرصے سے جنگ جاری ہے، لیکن سلام ہے اس صوبے کے عوام اور پولیس کو جنھوں نے اس ضمن میں بڑی سے بڑی قربانی دینے سے گریز نہیں کیا اور تاحال وہ بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف نبرد آزما ہیں، بالخصوص پشاور تو ایسا بدنصیب شہر ثابت ہوا ہے جس میں ہر دوسرے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان حملوں میں متاثر ہوا ہے ۔ جب بھی پولیس شرپسندوں کی گرفتاری عمل میں لاتی ہے یا ان کے گرد گھیرا تنگ کرتی ہے تو جوابی کارروائی کے طور پر پولیس پرحملہ کیا جاتا ہے، امن کے ایک مختصر وقفے کے بعد پولیس پر حملوں کے پے درپے واقعات رونما ہوئے ہیں۔


چارسدہ میں ایک حالیہ افسوس ناک واقعے کے نتیجہ میں پولیس موبائل پر ریموٹ کنٹرول دھماکے سے ایک اہلکار سمیت چار افراد جاں بحق جب کہ13پولیس اہلکاروں سمیت 39افراد زخمی ہوئے، دھماکا ریموٹ کنٹرول تھاجس میں4کلوبارودی مواد استعمال کیا گیا۔قبل ازیں پشاورکے نواحی علاقے بڈھ بیر جانے خوڑ میں نامعلوم افراد کے حملے میں شہید ہونے والے اے ایس آئی سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کی نمازجنازہ ادا کی گئی ،دوسرے واقعے میں پشاور کے تھانہ ہشتنگری کی حدود میں موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار جاں بحق جب کہ تین افراد شدید زخمی ہوگئے۔

مندرجہ بالا واقعات سے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے، بدامنی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک کتنا منظم اور فعال ہے کہ وہ ہدف کو کتنی کامیابی سے نشانہ بناتے ہیں ، گو کہ پشاور پولیس نے پے درپے حملوںکے بعد اسپتالوں کے سرچ آپریشن کے دوران سرکاری اسپتال میں اپنے زخمی ساتھیوںکوعلاج کے لیے لانے والے نومبینہ عسکریت پسندوںکو گرفتارکیا ہے ، جن میں تین زخمی ساتھی شامل ہیں۔مجرموں کے خلاف جنگ میں محکمہ پولیس کے اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اس قوم کے محافظ ہیں اور ان کی یہ قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف اس جنگ میں آخری فتح پاکستانی عوام کی ہوگی ۔
Load Next Story