پاکستانی قلم اور تلوار
ایک طرف پاکستان ہے دوسری طرف بھارت ہے اور بھارتی کارندے ہیں جو ہماری صفوں میں پہلے تو چھپے ہوئے تھے..
Abdulqhasan@hotmail.com
ان دنوں خامہ صریر نوائے سروش ہے اور تلوار کی جھنکار گونج رہی ہے۔ قلم اور تلوار کو اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے بٹھائے اچانک یہ کیا ہو گیا، یہ سب ہمارے نئے دور کے شاخسانے ہیں۔ ورنہ قلم سر جھکا کر کسی کمزور ہاتھ میں الفاظ تلاش کر رہا تھا اور تلوار نیام کے اندر تھکان دور کر رہی تھی کسی نئے معرکے کی تیاری میں۔ ہمارے نظریاتی ملک کو ہر وقت قلم کی کمک کی ضرورت رہتی ہے تاکہ وہ لمحہ بہ لمحہ سر اٹھاتے ہوئے خطروں کا مقابلہ کرتی رہے۔ یہ خطرے اسے ملک سے باہر سے بھی لاحق ہوتے رہتے ہیں اور ملک کے اندر سے بھی نہ جانے کیوں غصہ میں آ کر یعنی پاکستان کے خلاف غصے میں آ کر کوئی قلمکار اس کے جدید ترین ذہن اور کلچر کے حامل شخص کو مولوی کہہ دیتا ہے یہ یاد کیے بغیر کہ اس کے اپنے آبائو اجداد ہمارے آپ کے وظیفہ خوار مولوی قریبی آباد رئوسا کے پروردہ امام مسجد تھے۔
اسی طرح کچھ بازاری لوگ کسی فوجی آبادی سے گزرتے ہوئے اس کے کسی گھر کے اندر پتھر پھینک دیتے تھے۔ نہ قلمکار اور نہ یہ پتھر مار سوچتے ہیں کہ وہ کتنا بڑا قومی گناہ کر رہے ہیں اور کن مقدس شخصیتوں اور مقامات کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ انتہائی خلاف توقع ہوتا ہے اور پاکستان کی محبت سے سرشار لوگ گھبرا جاتے ہیں بالخصوص اس وقت جب صریر خامہ اور تلوار کی جھنکار دلوں کی دنیا میں گونجنے لگے، ایسے میں ہر پاکستانی جس کے پاس قلم ہے وہ قلم اٹھا لیتا ہے اور جس کے پاس تلوار ہے وہ اسے نیام سے نکال کر ہاتھوں میں سجا لیتا ہے کیونکہ اب خاموش رہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں جو جہاں ہے وہ میدان کارزار میں ہے اور سربکف ہے۔
ہم ایک تو دشمنوں کو ساتھ لے کر پیدا ہوئے دوسرے دشمنوں کے مقابلے میں اب تک نہ صرف زندہ ہیں بلکہ مقابلے کی ٹکر بنے ہوئے ہیں۔ آج ہی ہمارے ایک سابقہ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا بیان چھپا ہے کہ بھارت اندر سے ہم سے خوفزدہ ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ہم اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور وہ ایک برباد ملک بن کر سامنے آئے گا اور ہمارے وزیر خارجہ کی یہ کوئی گپ نہیں ہے اس کی تائید میں ہمارے ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وہ تفصیلات مختصراً پیش کرتا ہوں۔ ان کے راولپنڈی کے دفتر میں ان کے میزائلوں کے نئے نئے تجزیوں پر بات ہو رہی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ یہ بھارت کا نقشہ دیکھیں اور پاکستان سے اس کے بڑے شہروں کا فاصلہ ملاحظہ کریں۔ ہمارے میزائلوں سے یہ اتنے منٹ اور سیکنڈ کے فاصلے پر ہیں۔ ہمارے میزائلوں کو راستے میں روکا نہیں جا سکتا اس کی رفتار کا کوئی توڑ موجود نہیں ہے اور یہ وہ میزائل ہیں جو ایٹم بموں سے لیس ہیں اس سے آگے تو بات کرتے ہوئے بھی خوف آتا ہے۔ بھارت کو یہ سب معلوم ہے لیکن وہ جو چاہے کہتا رہے فضائوں کو منٹوں سکینڈوں میں چیرتا ہوا میزائل کسی کی نہیں سنتا وہ اپنی قیامت خیز دھن میں فضائوں پر حکمرانی کرتا ہے۔
بھارت جیسے مکروہ دشمن کے قریب ترین پڑوسی ہونے کے باوجود ہم اگر اس کی بدی اور بدنیتی سے محفوظ ہیں تو یہ سب ہمارے وردی والوں کی مرہون منت ہے جو ان دنوں ہمارے بعض لوگوں کے نشانے پر ہیں۔ یہ پاکستانی کہلانے والے ہمارے نہیں ہیں اور اسی طرح اگر کوئی لکھنے والا بھی بھارتی بدخواہی کے مقابلے میں خاموش رہتا ہے تو اس پر افسوس ہے۔ ہمارے تو ملک کے اندر بھی ایسے غدار موجود ہیں جو اس ملک کی جڑوں پر قلم چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم پاکستانی حمایتیوں کو اپنے ان ساتھیوں سے خبردار رہنا چاہیے اور انھیں ان کے پاکستان کے خلاف ہر لفظ کا جواب دینا چاہیے۔ تازہ ترین صورت حال میں ہم میدان جنگ میں ہیں جہاں قلم اور تلوار دونوں کو سرگرم ہوناہے۔
ایک طرف پاکستان ہے دوسری طرف بھارت ہے اور بھارتی کارندے ہیں جو ہماری صفوں میں پہلے تو چھپے ہوئے تھے اب کھل کر سامنے آگئے ہیں اور ہماری انتہائی بدقسمتی سے ان کی سرپرستی اعلیٰ حلقوں میں بھی کی جا رہی ہے لیکن ہر ایک کا اپنا اپنا ایمان اور پاکستان ہے۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں مگر ہم اپنے ایمان اور پاکستان پر جان نچھاور کرتے رہیں گے کیونکہ ہمارے پاس یہی کچھ ہے۔ محل ماڑیاں نہیں ہیں اور ہاں ایک مچھر دانی ہے جو گائوں میں میرے گھر کے سامنے والے مکان کی چھت پر ان گرمیوں میں دکھائی دیتی ہے اور یہ کسی فوجی کی چھٹی پر آنے کی اطلاع دیتی ہے۔ میں اس مچھر دانی سے پیار کرتا ہوں جو مجھے کسی محاذ جنگ کی خبر دیتی ہے۔ معلوم ہوا کہ ملیریا وغیرہ ہو جائے تو سپاہی کو سزا ملتی ہے اس لیے وہ اپنی حفاظت کے لیے اپنے ساتھ مچھر دانی ضرور رکھتا ہے۔ آپ یوں سمجھیں کہ یہ مچھر دانی اس سپاہی کی حفاظت کرتی ہے جو میری حفاظت پر متعین ہے اور اس کی ضمانت دیتا ہے۔
میں ایک فوجی علاقے کا باشندہ ہوں اور فوجیوں کو ان کی چھائونیوں اور جنگ کے میدان کے باہر کی زندگی میں دیکھتا ہوں۔ ان کی جانثاری اور فرض شناسی کی لاتعداد مثالیں مجھے معلوم ہیں جو میرے لیے فخر کا سرمایہ ہیں اور جن کو یاد کرکے میں دشمن کو حقارت کی نظروں سے دیکھتا ہوں۔ اب قلم اور تلوار کا معرکہ درپیش ہے اور خوش قسمتی سے میرے پاس قلم موجود ہے اس وطن عزیز کی خدمت کے لیے۔
اسی طرح کچھ بازاری لوگ کسی فوجی آبادی سے گزرتے ہوئے اس کے کسی گھر کے اندر پتھر پھینک دیتے تھے۔ نہ قلمکار اور نہ یہ پتھر مار سوچتے ہیں کہ وہ کتنا بڑا قومی گناہ کر رہے ہیں اور کن مقدس شخصیتوں اور مقامات کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ انتہائی خلاف توقع ہوتا ہے اور پاکستان کی محبت سے سرشار لوگ گھبرا جاتے ہیں بالخصوص اس وقت جب صریر خامہ اور تلوار کی جھنکار دلوں کی دنیا میں گونجنے لگے، ایسے میں ہر پاکستانی جس کے پاس قلم ہے وہ قلم اٹھا لیتا ہے اور جس کے پاس تلوار ہے وہ اسے نیام سے نکال کر ہاتھوں میں سجا لیتا ہے کیونکہ اب خاموش رہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں جو جہاں ہے وہ میدان کارزار میں ہے اور سربکف ہے۔
ہم ایک تو دشمنوں کو ساتھ لے کر پیدا ہوئے دوسرے دشمنوں کے مقابلے میں اب تک نہ صرف زندہ ہیں بلکہ مقابلے کی ٹکر بنے ہوئے ہیں۔ آج ہی ہمارے ایک سابقہ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا بیان چھپا ہے کہ بھارت اندر سے ہم سے خوفزدہ ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ہم اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور وہ ایک برباد ملک بن کر سامنے آئے گا اور ہمارے وزیر خارجہ کی یہ کوئی گپ نہیں ہے اس کی تائید میں ہمارے ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وہ تفصیلات مختصراً پیش کرتا ہوں۔ ان کے راولپنڈی کے دفتر میں ان کے میزائلوں کے نئے نئے تجزیوں پر بات ہو رہی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ یہ بھارت کا نقشہ دیکھیں اور پاکستان سے اس کے بڑے شہروں کا فاصلہ ملاحظہ کریں۔ ہمارے میزائلوں سے یہ اتنے منٹ اور سیکنڈ کے فاصلے پر ہیں۔ ہمارے میزائلوں کو راستے میں روکا نہیں جا سکتا اس کی رفتار کا کوئی توڑ موجود نہیں ہے اور یہ وہ میزائل ہیں جو ایٹم بموں سے لیس ہیں اس سے آگے تو بات کرتے ہوئے بھی خوف آتا ہے۔ بھارت کو یہ سب معلوم ہے لیکن وہ جو چاہے کہتا رہے فضائوں کو منٹوں سکینڈوں میں چیرتا ہوا میزائل کسی کی نہیں سنتا وہ اپنی قیامت خیز دھن میں فضائوں پر حکمرانی کرتا ہے۔
بھارت جیسے مکروہ دشمن کے قریب ترین پڑوسی ہونے کے باوجود ہم اگر اس کی بدی اور بدنیتی سے محفوظ ہیں تو یہ سب ہمارے وردی والوں کی مرہون منت ہے جو ان دنوں ہمارے بعض لوگوں کے نشانے پر ہیں۔ یہ پاکستانی کہلانے والے ہمارے نہیں ہیں اور اسی طرح اگر کوئی لکھنے والا بھی بھارتی بدخواہی کے مقابلے میں خاموش رہتا ہے تو اس پر افسوس ہے۔ ہمارے تو ملک کے اندر بھی ایسے غدار موجود ہیں جو اس ملک کی جڑوں پر قلم چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم پاکستانی حمایتیوں کو اپنے ان ساتھیوں سے خبردار رہنا چاہیے اور انھیں ان کے پاکستان کے خلاف ہر لفظ کا جواب دینا چاہیے۔ تازہ ترین صورت حال میں ہم میدان جنگ میں ہیں جہاں قلم اور تلوار دونوں کو سرگرم ہوناہے۔
ایک طرف پاکستان ہے دوسری طرف بھارت ہے اور بھارتی کارندے ہیں جو ہماری صفوں میں پہلے تو چھپے ہوئے تھے اب کھل کر سامنے آگئے ہیں اور ہماری انتہائی بدقسمتی سے ان کی سرپرستی اعلیٰ حلقوں میں بھی کی جا رہی ہے لیکن ہر ایک کا اپنا اپنا ایمان اور پاکستان ہے۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں مگر ہم اپنے ایمان اور پاکستان پر جان نچھاور کرتے رہیں گے کیونکہ ہمارے پاس یہی کچھ ہے۔ محل ماڑیاں نہیں ہیں اور ہاں ایک مچھر دانی ہے جو گائوں میں میرے گھر کے سامنے والے مکان کی چھت پر ان گرمیوں میں دکھائی دیتی ہے اور یہ کسی فوجی کی چھٹی پر آنے کی اطلاع دیتی ہے۔ میں اس مچھر دانی سے پیار کرتا ہوں جو مجھے کسی محاذ جنگ کی خبر دیتی ہے۔ معلوم ہوا کہ ملیریا وغیرہ ہو جائے تو سپاہی کو سزا ملتی ہے اس لیے وہ اپنی حفاظت کے لیے اپنے ساتھ مچھر دانی ضرور رکھتا ہے۔ آپ یوں سمجھیں کہ یہ مچھر دانی اس سپاہی کی حفاظت کرتی ہے جو میری حفاظت پر متعین ہے اور اس کی ضمانت دیتا ہے۔
میں ایک فوجی علاقے کا باشندہ ہوں اور فوجیوں کو ان کی چھائونیوں اور جنگ کے میدان کے باہر کی زندگی میں دیکھتا ہوں۔ ان کی جانثاری اور فرض شناسی کی لاتعداد مثالیں مجھے معلوم ہیں جو میرے لیے فخر کا سرمایہ ہیں اور جن کو یاد کرکے میں دشمن کو حقارت کی نظروں سے دیکھتا ہوں۔ اب قلم اور تلوار کا معرکہ درپیش ہے اور خوش قسمتی سے میرے پاس قلم موجود ہے اس وطن عزیز کی خدمت کے لیے۔