مثبت معاشی اعشاریے
حکومت کو تھری جی اور فور جی کی فروخت سے ایک ارب گیارہ کروڑ ڈالر کی رقم حاصل ہوئی ۔۔۔
۔حکومت کو تھری جی اور فور جی کی فروخت سے ایک ارب گیارہ کروڑ ڈالر کی رقم حاصل ہوئی فوٹو: فائل
حکومت کو کمزور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششوں میں پہلی بڑی کامیابی حاصل ہوئی جو خوش آیند ہے۔حکومت کو تھری جی اور فور جی کی فروخت سے ایک ارب گیارہ کروڑ ڈالر کی رقم حاصل ہوئی ہے جس سے قومی خزانے میں بہتری آئے گی۔بدھ کو اسلام آباد میں تھری جی کے چار اور فور جی کے دو لائسنسوں کی نیلامی کے لیے بولی لگائی گئی جس میں ملک کی چار سیلولر کمپنیوں نے حصہ لیا۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد رواں مالی سال کے بجٹ میں تھری جی اور فور جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی مد میں ایک کھرب بیس ارب روپے کے حصول کا ہدف رکھا تھا،فور جی کا ایک لائسنس جو اکیس ملین ڈالر کی مالیت کا حامل ہے اسے وفاقی کابینہ اور وزیر اعظم کی مشاورت سے جلد نیلامی کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔
ایک ارب گیارہ کروڑ ڈالر ملنے سے کمزور ملکی معیشت کو ایک بڑا سہارا ملا ہے جس کے بعد حکومت ملکی ترقی کے منصوبوں کو باآسانی پایہ تکمیل تک پہنچا سکے گی۔یہ خوش کن امر ہے کہ تھری جی اور فور جی سپیکٹرم کی نیلامی سے لاکھوں افراد کو روزگار ملنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی میسر آئے گی۔حکومت ملکی ترقی کے منصوبوں کے لیے اتنی بڑی رقم کے حصول کے لیے اگر ورلڈ بینک سے رابطہ کرتی تو اسے اس کے حصول کے لیے بہت تگ و دو کرنا پڑتی، پھر آئی ایم ایف بہت سی شرائط عائد کرتا اور پھر کہیں جا کر قسطوں میں یہ رقم ملتی اور اس پر حکومت کو سود پر ادا کرنا پڑتا۔اس طرح دوسرے معنوں میں ملنے والا قرضہ ملکی معیشت پر ایک بوجھ بھی ہوتا،جسے حکومت کو ایک مدت بعد واپس بھی کرنا ہوتا۔اب مذکورہ نیلامی سے حکومت اس تمام جھنجھٹ سے بچ گئی ہے۔
اس امر سے انکار نہیں کہ موجودہ حکومت کو کمزور معیشت' امن و امان کی غیر تسلی بخش صورت حال' اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بڑے بوجھ اور توانائی بحران جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ حکومت ان تمام مشکلات اور چیلنجز کے سامنے جھکنے یا فرار ہونے کے بجائے ان سے بہتر انداز میں نمٹنے کا مسلسل اظہار کر رہی ہے۔ اب تک کی حکومتی کوششیں اس امر کی عکاس ہیں کہ اس کی اقتصادی پالیسیاں درست سمت میں رواں دواں ہیں۔ یہ خوش کن امر ہے کہ اندرون اور بیرون ملک سرمایہ کار حکومتی اقتصادی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، بہت سی غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی جانب راغب ہورہی ہیں۔ چین پاکستان میں 32 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔
ملک میں جس تیزی سے غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری کے لیے آ رہی ہیں اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو امید کی جاتی ہے کہ پاکستان کی معیشت میں انقلاب آ جائے گا۔ پوری دنیا میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو سراہا جا رہا ہے۔ حکومت اس عزم کا اظہار کر رہی ہے کہ وہ اپنی اقتصادی پالیسیوں کی بدولت ملک کو خوش حال بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اور پاکستان 2050ء میں دنیا کی 18ویں بڑی معاشی قوت بن جائے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت ملک میں معیشت کی مضبوطی' دہشت گردی و شدت پسندی کے خاتمے' توانائی کے بحران پر قابو پانے اور تعلیمی شعبے میں انقلاب برپا کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہے اور حکومت آیندہ بجٹ میں تعلیمی بجٹ میں دگنا اضافہ کر کے جی ڈی پی کی شرح چار تک لائے گی۔ تعلیمی شعبے کی اس وقت جو حالت ہے وہ قطعی تسلی بخش نہیں۔ تعلیمی اداروں کی حالت بہتر نہیں، بہت سے اسکولوں کی عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں' کچھ اسکول ایسے بھی ہیں جن کی عمارت سرے سے موجود ہی نہیں اور بچے گرمی سردی اور بارش میں کھلے میدان میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔
اساتذہ کی جانب سے تعلیمی سہولیات کے فقدان کے ساتھ ساتھ کم اجرت کی شکایت بھی عام ہے۔ حکومت کی جانب سے آیندہ بجٹ میں تعلیمی بجٹ کو دگنا کرنے کا اعلان تعلیم کے شعبے پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت مختلف منصوبوں کا آغاز کر چکی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سندھ کے علاقے کشمور کے مقام پر 747 میگاواٹ پیداوار کے حامل گدو گیس پاور پانٹ کا افتتاح کیا علاوہ ازیں متبادل ذرایع سے بھی زیادہ سے زیادہ توانائی کے حصول کے لیے منصوبے تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ چولستان میں 10ہزار ایکڑ پر مشتمل قائداعظم سولر پارک کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے، اس مقصد کے لیے حکومت پنجاب 50 لاکھ ڈالر صرف کر رہی ہے۔ قائداعظم سولر پارک دنیا کے شمسی توانائی کے چند بڑے مراکز میں سے ایک ہوگا۔
معاشی ماہرین حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار تو کر رہے ہیں مگر ان کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ حکومت ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی اقتصادی پالیسیوں کا ایجنڈا واضح کرے' جس طرح ماضی میں ملکی ترقی کے لیے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے بنائے گئے اسی طرح موجودہ حکومت بھی ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرے تاکہ حکومتی پالیسیاں سامنے آ سکیں اور سرمایہ کاروں میں پائی جانے والی موجودہ گومگو کی کیفیت ختم ہو سکے۔ جب تک حکومت کی اقتصادی پالیسیاں اپنی جزئیات کے ساتھ سامنے نہیں آئیں گی ملکی ترقی کا سفر سست رفتار رہے گا۔ حکومت زراعت کے شعبے کی تیز رفتار ترقی کے لیے بھی انقلابی اقدامات اٹھائے کیونکہ یہ شعبہ ملکی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایک ارب گیارہ کروڑ ڈالر ملنے سے کمزور ملکی معیشت کو ایک بڑا سہارا ملا ہے جس کے بعد حکومت ملکی ترقی کے منصوبوں کو باآسانی پایہ تکمیل تک پہنچا سکے گی۔یہ خوش کن امر ہے کہ تھری جی اور فور جی سپیکٹرم کی نیلامی سے لاکھوں افراد کو روزگار ملنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی میسر آئے گی۔حکومت ملکی ترقی کے منصوبوں کے لیے اتنی بڑی رقم کے حصول کے لیے اگر ورلڈ بینک سے رابطہ کرتی تو اسے اس کے حصول کے لیے بہت تگ و دو کرنا پڑتی، پھر آئی ایم ایف بہت سی شرائط عائد کرتا اور پھر کہیں جا کر قسطوں میں یہ رقم ملتی اور اس پر حکومت کو سود پر ادا کرنا پڑتا۔اس طرح دوسرے معنوں میں ملنے والا قرضہ ملکی معیشت پر ایک بوجھ بھی ہوتا،جسے حکومت کو ایک مدت بعد واپس بھی کرنا ہوتا۔اب مذکورہ نیلامی سے حکومت اس تمام جھنجھٹ سے بچ گئی ہے۔
اس امر سے انکار نہیں کہ موجودہ حکومت کو کمزور معیشت' امن و امان کی غیر تسلی بخش صورت حال' اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بڑے بوجھ اور توانائی بحران جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ حکومت ان تمام مشکلات اور چیلنجز کے سامنے جھکنے یا فرار ہونے کے بجائے ان سے بہتر انداز میں نمٹنے کا مسلسل اظہار کر رہی ہے۔ اب تک کی حکومتی کوششیں اس امر کی عکاس ہیں کہ اس کی اقتصادی پالیسیاں درست سمت میں رواں دواں ہیں۔ یہ خوش کن امر ہے کہ اندرون اور بیرون ملک سرمایہ کار حکومتی اقتصادی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، بہت سی غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی جانب راغب ہورہی ہیں۔ چین پاکستان میں 32 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔
ملک میں جس تیزی سے غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری کے لیے آ رہی ہیں اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو امید کی جاتی ہے کہ پاکستان کی معیشت میں انقلاب آ جائے گا۔ پوری دنیا میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو سراہا جا رہا ہے۔ حکومت اس عزم کا اظہار کر رہی ہے کہ وہ اپنی اقتصادی پالیسیوں کی بدولت ملک کو خوش حال بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اور پاکستان 2050ء میں دنیا کی 18ویں بڑی معاشی قوت بن جائے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت ملک میں معیشت کی مضبوطی' دہشت گردی و شدت پسندی کے خاتمے' توانائی کے بحران پر قابو پانے اور تعلیمی شعبے میں انقلاب برپا کرنے کے لیے سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہے اور حکومت آیندہ بجٹ میں تعلیمی بجٹ میں دگنا اضافہ کر کے جی ڈی پی کی شرح چار تک لائے گی۔ تعلیمی شعبے کی اس وقت جو حالت ہے وہ قطعی تسلی بخش نہیں۔ تعلیمی اداروں کی حالت بہتر نہیں، بہت سے اسکولوں کی عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں' کچھ اسکول ایسے بھی ہیں جن کی عمارت سرے سے موجود ہی نہیں اور بچے گرمی سردی اور بارش میں کھلے میدان میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔
اساتذہ کی جانب سے تعلیمی سہولیات کے فقدان کے ساتھ ساتھ کم اجرت کی شکایت بھی عام ہے۔ حکومت کی جانب سے آیندہ بجٹ میں تعلیمی بجٹ کو دگنا کرنے کا اعلان تعلیم کے شعبے پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت مختلف منصوبوں کا آغاز کر چکی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سندھ کے علاقے کشمور کے مقام پر 747 میگاواٹ پیداوار کے حامل گدو گیس پاور پانٹ کا افتتاح کیا علاوہ ازیں متبادل ذرایع سے بھی زیادہ سے زیادہ توانائی کے حصول کے لیے منصوبے تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ چولستان میں 10ہزار ایکڑ پر مشتمل قائداعظم سولر پارک کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے، اس مقصد کے لیے حکومت پنجاب 50 لاکھ ڈالر صرف کر رہی ہے۔ قائداعظم سولر پارک دنیا کے شمسی توانائی کے چند بڑے مراکز میں سے ایک ہوگا۔
معاشی ماہرین حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار تو کر رہے ہیں مگر ان کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ حکومت ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی اقتصادی پالیسیوں کا ایجنڈا واضح کرے' جس طرح ماضی میں ملکی ترقی کے لیے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے بنائے گئے اسی طرح موجودہ حکومت بھی ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرے تاکہ حکومتی پالیسیاں سامنے آ سکیں اور سرمایہ کاروں میں پائی جانے والی موجودہ گومگو کی کیفیت ختم ہو سکے۔ جب تک حکومت کی اقتصادی پالیسیاں اپنی جزئیات کے ساتھ سامنے نہیں آئیں گی ملکی ترقی کا سفر سست رفتار رہے گا۔ حکومت زراعت کے شعبے کی تیز رفتار ترقی کے لیے بھی انقلابی اقدامات اٹھائے کیونکہ یہ شعبہ ملکی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔