مقامی انڈسٹری کا ڈیلرز پر کاروں کی غیر قانونی درآمد کا الزام

گزشتہ دوسال کے دوران جاپان سے 80 ہزار کاریں درآمد کی گئیں

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹوپارٹس اینڈمینوفیکچررز کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوںسے سستے داموں دستاویزات خرید کر ان کے نام پرکاروں کی منظم تجارت کی جا رہی ہے۔ فوٹو: رائٹرز

مقامی آٹو انڈسٹری نے حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ گفٹ، بیگج اور ٹرانسفر آف ریزنڈنس اسکیم کے نام پر جاپان سے استعمال شدہ کاروںکی منظم تجارت کی تحقیقات کی جائیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نام پر کاریں درآمد کرکے اسکیموںکے غلط استعمال کو روکا جائے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیوپارٹس ایسسریز مینوفیکچررز(پاپام)کے چیئرمین نبیل ہاشمی نے سیکریٹری صنعت شفقت نغمی کوارسال کردہ خط میں کار ڈیلرز ایسوسی ایشن پرالزامات عائد کیے ہیں۔خط کے ذریعے کار ڈیلرز پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ہنڈی کے ذریعے رقوم کی بیرون ملک منتقلی میں ملوث ہیں،بیرون ملک مقیم پاکستانیوںسے سستے داموں دستاویزات خرید کر ان کے نام پرکاروں کی منظم تجارت کی جا رہی ہے جس کے لیے رقوم غیرقانونی ذرائع سے بیرون ملک بھیجی جاتی ہیں۔


انڈسٹری کے مطابق جاپان میں 10 ہزار پاکستانی تارکین وطن قیام پذیرہیںجبکہ حیرت انگیز طور پر گزشتہ دوسال کے دوران جاپان سے 80 ہزار کاریں درآمد کی گئیںاس طرح جاپان میں مقیم ہر پاکستانی فرد نے دوسال کے دوران 8 کاریں پاکستان بھیجی ہیں۔ انڈسٹری نے ڈیلرزپراعدادوشمار اورحقائق کوگمراہ کن طور پر پیش کرنے کابھی الزام عائدکیا۔ایسوسی ایشن نے ڈیلرز پرغیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزارت صنعت کی سطح پر ہونے والے مشاورتی اجلاس میں ڈیلرز کو مدعو کرنے پرسخت احتجاج کیاہے،سیکریٹری انڈسٹریز نے مقامی انڈسٹری کے احتجاج پر رواں ہفتے ایک اور اجلاس کی یقین دہانی کرائی ہے جس میں ڈیلرز کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔

اس سے قبل 13ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں مقامی انڈسٹری کے ساتھ ڈیلرز کو بھی اسلام آباد مدعو کیا گیا تھا جس پر پاما اور پاپام نے احتجاج کرتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا تھا،آٹوانڈسٹری کی دونوںایسوسی ایشنزپاما اور پاپام نے اجلاس میں ڈیلرز کو مدعو کیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وزارت صنعت کی ذمے داری ڈیلرز کو سپورٹ کرنے کے بجائے صنعتوںکوسہولت اورتحفظ فراہم کرنا ہے۔

لوکل انڈسٹری کے دعوے کے مطابق کار ڈیلرز کی ایسوسی ایشن ڈائریکٹر جنرل ٹریڈآرگنائزیشن میں بھی رجسٹرڈ نہیںہے اورنان رجسٹرڈتجارتی ایسوسی ایشن کو وزارت کی سطح کے اجلاس میں شرکت کرناحیرت انگیز فیصلہ ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال 54ہزار استعمال شدہ کاریں درآمد کی گئیں جس سے مقامی سطح پر کار اسمبلرز کو سخت دبائو کا سامنا کرنا پڑا۔ رواں ماہ کے ابتدائی دو ماہ کار انڈسٹری کی فروخت غیرمعمولی حدتک کم رہی اور ایک بڑی کمپنی کودو ماہ میں 10 روز پیداواری عمل بھی معطل رکھنا پڑگیاتھا۔
Load Next Story