جامعہ کراچی سینڈیکٹ کا اجلاس 3اساتذہ کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا
طالبات سے غیرمہذب گفتگوکے الزام میں لیکچرار کوتاحکم ثانی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا،ٹیکنالوجی پارک کے قیام کی منظوری۔
طالبات سے غیرمہذب گفتگوکے الزام میں لیکچرار کوتاحکم ثانی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا،ٹیکنالوجی پارک کے قیام کی منظوری، فوٹو: فائل
جامعہ کراچی کی سینڈیکیٹ نے نظم وضبط کی خلاف ورزی اورقوائد وضوابط کی پابندی نہ کرنیوالے 5اساتذہ کے خلاف بیک وقت کارروائی کاآغاز کرتے ہوئے3کوملازمت سے فارغ کردیا۔
ایک ٹیچر کو جبری رخصت پربھیج دیا گیاجبکہ خاتون ٹیچرکے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی،مزید براں سینڈیکیٹ نے سائنس اینڈٹیکنالوجی پارک کے قیام کے فیصلے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ٹیکنالوجی پارک کو ایچ ای جے کے بجائے جامعہ کراچی کی انتظامیہ کے کنٹرول سے مشروط کردیا گیا ہے، ان فیصلوں کی منظوری یونیورسٹی کے اعلیٰ اختیاراتی ادارے سینڈیکیٹ کے اجلاس میں دی گئی جس کی صدارت جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر نے کی۔
اجلاس میں طالبات کے ساتھ غیرمہذب گفتگو کے الزام میں شعبہ اردو کے لیکچرار ساجد خان کوتاحکم ثانی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا،ایک حتمی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جوسینڈیکیٹ کے اراکین حاجی حنیف طیب،مظفرشجرہ اورحسیب خان پرمشتمل ہوگی، اجلاس میں گزشتہ چند برسوں سے تدریسی عمل جاری نہ رکھنے والی کلیہ ادویات کی لیکچرار تسنیم مریم ساجد کو بھی نوٹس دیا گیا ہے اور ایک سہ رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
جامعہ کراچی کے اعلامیے کے مطابق طویل رخصت پر جانے والے تین لیکچرارز کی رخصت کی میعادختم ہونے اور جامعہ کراچی کی جانب سے لکھے گئے کئی خطوط کے باوجود رابطہ نہ کرنے پرمتعلقہ اساتذہ کویونیورسٹی کے اساتذہ کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے، ان میں شعبہ طبیعات کی صائمہ اقبال، شعبہ عمومی تاریخ کی تانیہ بیگ اور شعبہ شماریات کے محمد اکرام شامل ہیں، سینڈیکیٹ کے اجلاس میں ایچ ای جے ریسرچ سینٹرکی جانب سے یونیورسٹی روڈ پرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے منصوبے کومکمل طورپرایچ ای جے کے حوالے کیے جانے پراعتراض کیا گیا اورکہا گیاکہ ایچ ای جے کومسلسل بنیادوں پرزمینیں دیے جانے سے یونیورسٹی کاریسورس جنریشن کامنصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکے گا۔
بعدازاں فیصلہ کیا گیاکہ اس منصوبے کاپی سی ون جامعہ کراچی کی انتظامیہ ایچ ای جے کے ساتھ ملکربنائے گی، شیخ الجامعہ کراچی ڈاکٹر محمد قیصر کی زیر صدارت جلاس میں کئی شعبوں کے صدور کی منظوری بھی دی گئی جس میں شعبہ عمرانیات میں پروفیسر ڈاکٹرثوبیہ، شعبہ سیاسیات میں پروفیسر ڈاکٹر احمد قادری، شعبہ عربی میں پروفیسر ڈاکٹر احسان الحق(تا وقت ریٹائرمنٹ)، شعبہ ابلاغ عامہ میں پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود ، شعبہ فلسفہ میں ظہورالحسن بابر،شعبہ فارماسیوٹیکل کیمسٹری میں پروفیسر ڈاکٹر فیاض وید، انسٹیٹیوٹ آف ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن میں پروفیسر ڈاکٹر بلقیس گل اور اپلائید اکنامکس ریسرچ سینٹر میں پروفیسر ڈاکٹر نزہت احمد کو مزید احکامات آنے تک چارج دے دیا گیا ہے مزید براں شعبہ کمپیوٹر سائنس میں سنیارٹی کے معاملے پر صادق علی خان کو ندیم محمود کے مقابلے میں سنیارٹی حاصل ہوئی ہے۔
ایک ٹیچر کو جبری رخصت پربھیج دیا گیاجبکہ خاتون ٹیچرکے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی،مزید براں سینڈیکیٹ نے سائنس اینڈٹیکنالوجی پارک کے قیام کے فیصلے کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ٹیکنالوجی پارک کو ایچ ای جے کے بجائے جامعہ کراچی کی انتظامیہ کے کنٹرول سے مشروط کردیا گیا ہے، ان فیصلوں کی منظوری یونیورسٹی کے اعلیٰ اختیاراتی ادارے سینڈیکیٹ کے اجلاس میں دی گئی جس کی صدارت جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر نے کی۔
اجلاس میں طالبات کے ساتھ غیرمہذب گفتگو کے الزام میں شعبہ اردو کے لیکچرار ساجد خان کوتاحکم ثانی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا،ایک حتمی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جوسینڈیکیٹ کے اراکین حاجی حنیف طیب،مظفرشجرہ اورحسیب خان پرمشتمل ہوگی، اجلاس میں گزشتہ چند برسوں سے تدریسی عمل جاری نہ رکھنے والی کلیہ ادویات کی لیکچرار تسنیم مریم ساجد کو بھی نوٹس دیا گیا ہے اور ایک سہ رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
جامعہ کراچی کے اعلامیے کے مطابق طویل رخصت پر جانے والے تین لیکچرارز کی رخصت کی میعادختم ہونے اور جامعہ کراچی کی جانب سے لکھے گئے کئی خطوط کے باوجود رابطہ نہ کرنے پرمتعلقہ اساتذہ کویونیورسٹی کے اساتذہ کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے، ان میں شعبہ طبیعات کی صائمہ اقبال، شعبہ عمومی تاریخ کی تانیہ بیگ اور شعبہ شماریات کے محمد اکرام شامل ہیں، سینڈیکیٹ کے اجلاس میں ایچ ای جے ریسرچ سینٹرکی جانب سے یونیورسٹی روڈ پرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے قیام کے منصوبے کومکمل طورپرایچ ای جے کے حوالے کیے جانے پراعتراض کیا گیا اورکہا گیاکہ ایچ ای جے کومسلسل بنیادوں پرزمینیں دیے جانے سے یونیورسٹی کاریسورس جنریشن کامنصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکے گا۔
بعدازاں فیصلہ کیا گیاکہ اس منصوبے کاپی سی ون جامعہ کراچی کی انتظامیہ ایچ ای جے کے ساتھ ملکربنائے گی، شیخ الجامعہ کراچی ڈاکٹر محمد قیصر کی زیر صدارت جلاس میں کئی شعبوں کے صدور کی منظوری بھی دی گئی جس میں شعبہ عمرانیات میں پروفیسر ڈاکٹرثوبیہ، شعبہ سیاسیات میں پروفیسر ڈاکٹر احمد قادری، شعبہ عربی میں پروفیسر ڈاکٹر احسان الحق(تا وقت ریٹائرمنٹ)، شعبہ ابلاغ عامہ میں پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود ، شعبہ فلسفہ میں ظہورالحسن بابر،شعبہ فارماسیوٹیکل کیمسٹری میں پروفیسر ڈاکٹر فیاض وید، انسٹیٹیوٹ آف ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن میں پروفیسر ڈاکٹر بلقیس گل اور اپلائید اکنامکس ریسرچ سینٹر میں پروفیسر ڈاکٹر نزہت احمد کو مزید احکامات آنے تک چارج دے دیا گیا ہے مزید براں شعبہ کمپیوٹر سائنس میں سنیارٹی کے معاملے پر صادق علی خان کو ندیم محمود کے مقابلے میں سنیارٹی حاصل ہوئی ہے۔