پاکستان کرکٹ چند افراد کے گرد گھومنے لگی
سلیکشن کمیٹی سمیت 10عہدیدار ’’4‘‘ کرکٹرز کا انتخاب کریں گے
سلیکشن کمیٹی سمیت 10عہدیدار ’’4‘‘ کرکٹرز کا انتخاب کریں گے. فوٹو : فائل
''ہیلو وقار بھائی۔''
''جی کون؟''
''کراچی سے سلیم خالق بول رہا ہوں۔''
''او، اچھا کیا حال ہے۔''
''ٹھیک، آپ یہ بتائیں کوچنگ کے بارے میں کیا سوچا ہے؟''
''دراصل میں اس وقت ڈرائیو کر رہا ہوں، گھر پہنچ کر فون کروں گا۔''
کچھ عرصے قبل فون پر جب میری یہ گفتگو ہوئی تو وقار یونس کے کترانے سے ہی اندازہ ہو گیا کہ اب ان کی کار پی سی بی کے ہیڈکوارٹر قذافی اسٹیڈیم لاہور جا کر ہی رکے گی، مجھے تھوڑا بہت صحافت کا جو تجربہ ہے اس سے یہ سیکھا کہ کوئی سابق کرکٹر اگر میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ہچکچائے تو اس کا مطلب اسے عنقریب بورڈ میں ملازمت ملنے والی ہے، ورنہ بیچارے ٹیلیویژن چینلز اور اخبارات کے ذریعے خود کو مارکیٹ میں ''اِن'' رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ چند روز بعد جب میں نے وقار یونس کو دوبارہ فون کیا تو اس بار انھیں بچ کر نہ نکلنے دیا۔ مجھے علم ہو چکا تھا کہ اگلے روز بورڈ کی جانب سے اشتہار جاری ہونے والا ہے اس لیے اسی حوالے سے سوال کیا۔ وقار یونس نے جواب دیا کہ اشتہار دیکھ کر ہی درخواست دینے کا فیصلہ کریں گے۔
اسی دوران جب ان کے بھارتی بنگال سے معاہدے کی بات آئی تو وہ بے ساختہ کہہ اٹھے ''اس سے میری پاکستانی ٹیم کی کوچنگ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔'' یوں ناں ناں کرتے سابق پیسر نے اشارہ دے دیا کہ وہ ایک بار پھر کوچ کی حیثیت سے گرین شرٹ زیب تن کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
چند ماہ قبل بھی ان کا معاہدہ تقریباً طے ہو چکا تھا لیکن ذکا اشرف کے جانے سے معاملات خراب ہو گئے اور معین خان نے ذمہ داری سنبھال لی۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ وقار یونس شائد اس ''بے عزتی'' کے بعد پی سی بی کے ساتھ منسلک نہ ہوں، لیکن انھیں اندازہ نہیں کہ ہر ماہ ملنے والے کئی لاکھ روپے کے چیک، مراعات اور دنیا بھر میں پبلسٹی ایسی چیزیں ہیں جن سے بڑے بڑوں کی انا فنا ہو جاتی ہے۔ وقار یونس آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہیں۔ انھوں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح کینگرو بولنگ کوچ کا عہدہ مل جائے مگر مشکوک ماضی آڑے آ گیا۔
ماضی میں وہ خرابیٔ صحت کا بہانہ بنا کر پاکستانی ٹیم کا ساتھ چھوڑ گئے تھے، حالانکہ اصل وجہ کپتان شاہد آفریدی سے اختلافات تھے، حیران کن طور پر کچھ عرصے بعد وہ جب یو اے ای میں کمنٹری کرتے دکھائی دیے تو بالکل ایسا نہیں لگا کہ انھیں کوئی مرض لاحق ہے، جب میں نے اس بارے میں پوچھا تو جواب دیا کہ اب بالکل ٹھیک ہوں، البتہ انھوں نے آفریدی سے تعلقات کی خرابی کا ضرور اعتراف کیا تھا۔ اسی سیریز میں دونوں نے ساتھ بیٹھ کر معاملات ٹھیک بھی کر لیے تھے۔ گزشتہ برس یو اے ای میں ہی جب وقار یونس سے کوچنگ کے حوالے سے بات ہوئی تو انھوں نے مکمل اختیارات ملنے کی صورت میں ہی عہدہ سنبھالنے کا کہا تھا۔ یہ اختیارات یقینی طور پر ٹیم سے بعض سینئرز کی چھٹی ہیں۔ اسی وجہ سے دبے الفاظ میں پلیئرز وقار یونس کو کوچنگ سونپنے پر آواز بلند کر رہے ہیں۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ناقص کارکردگی نے انھیں اس قابل نہیں چھوڑا کہ زور و شور سے احتجاج کر سکیں۔ اسی طرح بطور اسپن کنسلٹنٹ مشتاق احمد کی تقرری کا بھی ذہن بنایا جا چکا، یقینی طور پروہ اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہیں اور انگلش ٹیم بھی ان کے تجربے سے مستفید ہوتی ہے، مگر مشکوک ماضی ان کا پیچھا چھوڑنے پر آمادہ نہیں، ایسے میں ثقلین مشتاق کا تقرر کیا جا سکتا ہے، بیٹنگ کوچ کے لیے انضمام الحق کا نام زیرگردش ہے، گوکہ وہ ازخود درخواست دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے مگر معین خان نے کب کوچ کے لیے اپلائی کیا مگر ان کا تقرر کر دیا گیا تھا.
اسی طرح انضمام کے ساتھ بھی ہو گا، وہ ماضی میں بھی ٹیم کے ساتھ منسلک رہ چکے مگر معاوضے کے تنازع پر مستقل ذمہ داری نہیں سنبھالی تھی، ممکن ہے اب یہ مسئلہ حل ہو جائے، انضمام کو ریٹائرمنٹ پر بورڈ نے ایک کروڑ روپے دیئے تھے، اب چند لاکھ دینے میں کیا قباحت ہو گی؟ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب تمام فیصلے پہلے ہی کر لیے گئے تو اشتہار دینے کی کیا ضرورت تھی تو اس کا سیدھا سا جواب یہ دیا ہے کہ بورڈ قوانین کے تحت دو لاکھ یا زائد کی کسی بھی پوسٹ کے لیے اشتہار جاری کرنا ضروری ہوتا ہے، لہٰذا ایک رسم پوری کی گئی ہے۔
پاکستانی کرکٹ ان دنوں چند افراد کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے سب سے قریبی شخص سابق کپتان معین خان ہیں، وہ یقینی طور پر کرکٹ کا ویژن رکھتے اور پاکستانی ٹیم کو بلندیوں پر لے جانے کے لیے کوشاں ہیں، مگر چیئرمین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر مشکل کا حل معین خان ہی نہیں ہیں، پہلے انھیں چیف سلیکٹر پھر منیجر بنایا،اس کے بعد چیف کوچ کی ذمہ داری ملی، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ٹیم کا تیا پانچا ہوا تو اب چیف سلیکٹر بنا دیا گیا، وہ کوچ ہنٹ کمیٹی میں بھی شامل ہیں، اس سے خود معین کی حیثیت متنازع ہو رہی ہے، وہ غیرمحسوس طور پر چیئرمین بورڈ کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں جس کا اندازہ بعد میں ہی ہوگا، اب انھیں دوبارہ چیف سلیکٹر بنایا گیا تو امید ہے کہ کامیاب ثابت ہوں گے، ان کی نئے ٹیلنٹ پر بھی گہری نظر ہے، ایسے میں وہ ٹیم کو باصلاحیت پلیئرزفراہم کرسکتے ہیں، ساتھ میں وہ منیجر بھی ہوں گے، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ پلیئرز ڈسپلن کی پابندی کریں گے، بصورت دیگر انھیں دھڑکا لگا رہے گا کہ منیجر چیف سلیکٹر بھی ہیں، ناراض کیا تو ٹیم سے ہی چھٹی کر دیں گے۔
معین خان کو سلیکشن کے لیے دیگر 5 افراد کا ساتھ بھی حاصل ہو گا، چیئرمین بورڈ، چیف کوچ، کپتان اور کوارڈی نیٹر ہارون رشید بھی اس عمل میں شریک ہوں گے، یوں یہ 10 افراد مل کر 4،5 پلیئرز کا انتخاب کریں گے، قارئین چونکئے نہیں، اسکواڈ کے 10،11 پلیئرز تو کوئی بھی چن سکتا ہے جو یقینی انتخاب ہوتے ہیں، ٹیم کی اگلی اسائمنٹ میں ابھی کافی وقت باقی مگر سلیکٹرز کا میٹر چل پڑا ہے، بغیر کام کیے انھیں تنخواہیں ملا کریں گی، ایسے میں جواز دیا جائے گا کہ بیشتر سلیکٹرز دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آئے ہیں، بورڈ تو صرف تھوڑی بہت رقم ہی دے گا جو شائد ''چند لاکھ'' تو بن ہی جائے، جیسے چیئرمین پی سی بی کی پوسٹ اعزازی مگر مراعات ایسی کہ کوئی بھی اس عہدے کو حاصل کرنے کے لیے زمین آسمان ایک کر دے۔
ایک طرف نجم سیٹھی اخراجات کم کرنے کی بات کر رہے ہیں دوسری جانب کئی غریب ملازمین کو نکال کر سیکڑوں گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے کر دیے،اسی طرح کوچز اور سلیکٹرز کی فوج تیار کر کے لاکھوں روپے پھونکے جائیں گے۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا، قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے کسی کھلاڑی کو اتنے کوچز کی ضرورت نہیں ہوتی،ایک ہیڈ کوچ کافی ہے، البتہ جزوقتی طور پر اسپن، فاسٹ، بیٹنگ یا وکٹ کیپنگ کوچز کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں، ایک ٹور میں کس کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ پلیئر کی خامیاں دور کرا سکے۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے دوران میں نے خود مشاہدہ کیا کہ بیچارے فیلڈنگ کوچ شعیب محمد کو کسی پریکٹس سیشن میں بمشکل 10 منٹ بھی نہیں ملتے تھے لیکن ملبہ ان پر گرا، ظہیرعباس اتنا بڑا نام رہے ہیں ان کی موجودگی میں ٹیم بنگلہ دیش میں کیسی رسوائی کا شکار ہوئی، مگر وہ کچھ نہ کر سکے، کبھی کہتے میرے پاس جادو کا چراغ نہیں تو کبھی کہتے بیٹسمین ورلڈ کلاس نہیں، تو سر پھر آپ کیوں ٹیم کے ساتھ وقت ضائع کر رہے تھے؟ آرام سے گھر میں بیٹھ کر ٹی وی پر میچز دیکھتے، اس وقت میراڈونا یا سر ایلکس فرگوسن کو پاکستانی فٹبال ٹیم کا منیجر بنا دیا جائے تو وہ بھی کچھ نہ کر سکیں گے، دنیا کا نمبر ون کرکٹ کوچ بھی بنگلہ دیش کی قسمت نہیں بدل سکتا، اصل بات انفراسٹرکچر، سہولیات اور ٹیلنٹ کی ہے، ان معاملات پر توجہ دیئے بغیر آپ کچھ بھی کر لیں فائدہ نہیں ہو گا۔ نجم سیٹھی جن افراد کو اب ٹیم کے ساتھ آہستہ آہستہ لا رہے ہیں ان سب پر ماضی میں انگلیاں اٹھ چکیں، شائد چیئرمین نے جسٹس قیوم کی رپورٹ نہیں پڑھی، ان کے لیے میں اس کا لنک دے رہا ہوں،
https://static.cricinfo.com/db/NATIONAL/PAK/NEWS/qayyumreport/qayyum_report.html
اسے پڑھ کر انھیں بہت سی باتوں کا اندازہ ہو گا، اسپاٹ فکسنگ پر سزا یافتہ محمد عامر کی کھلے عام حمایت اور راشد لطیف جیسے ایماندار شخص کو انگلش بورڈ کی ایما پر ناراض کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، بورڈ کو معاملات کی بہتری پر توجہ دینا ہو گی، راشد پر دانش کنیریا کی حمایت کا الزام ہے، ان پر انگلش بورڈ تاحیات پابندی عائد کر چکا، اسے سابق کپتان کے پی سی بی سے منسلک ہونے پر اعتراض ہوا، وہی انگلش بورڈ مشتاق احمد کو کئی برس سے اسپن بولنگ کوچ بنائے پھر رہا ہے جن کا نام جسٹس قیوم کی میچ فکسنگ انکوائری رپورٹ میں شامل تھا، دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے سے قبل انگلینڈ کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے، کنیریا نے اگر کسی کو فکسنگ پر اکسایا تو انھیں بھی سلمان، عامر اور آصف کی طرح جیل بھیج دینا چاہیے مگر معاملہ ابھی عدالت میں ہے فیصلے کا انتظار ضرور کریں، اسی طرح راشد لطیف کا کہنا ہے کہ وہ وقت آنے پر حقائق بیان کریں گے، نجانے وہ وقت کب آئے گا کنیریا کا کیریئر تو اب ختم ہو ہی چکا ہے۔
پاکستانی ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو بھی چیئرمین کی بھرپور حمایت حاصل ہے، ہو سکتا ہے میں غلط ہوں لیکن ایسے دفاعی قائد کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکتی، ٹی ٹوئنٹی میں تو ہم اپنی ساکھ مٹی میں ملا چکے اب ون ڈے کی تو کچھ فکر کرنی چاہیے، ہمارے پاس شاہد آفریدی موجود ہیں جنھوں نے گزشتہ میگا ایونٹ میں ٹیم کو سیمی فائنل تک پہنچایا، بھارت کے خلاف کیوں ہارے وہ سب کو پتا ہے ورنہ فائنل کھیلنا ناممکن نہ ہوتا،حفیظ کے جبری استعفے کے بعد آفریدی ٹی ٹوئنٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے فیورٹ تھے مگر میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے اس حوالے سے دلچسپی کیا ظاہر کردی کہ گویا طوفان آ گیا، مخالفین نے بیانات داغ کر ان کا سینہ دکھ سے چھلنی کر دیا یہی وجہ ہے کہ وہ اب کپتانی کی بات پر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں، ان کا ووٹ احمد شہزاد کی طرف ہے جو ڈسپلنری مسائل کی تاریخ رکھتے ہیں، انھیں کپتان بنا کر بورڈ نئے مسائل کو دعوت دے گا، اب فیصلہ چیئرمین کے ہاتھ میں ہے، آفریدی محب الوطن انسان ہیں، انھیں سمجھا بجھا کر قیادت کے لیے قائل کرنا ناممکن نہیں ہو گا،ان جیسے فائٹر اور جارح انداز اپنانے والا شخص ہی فیلڈ میں کھلاڑیوں کو لڑا سکتا ہے، اسی صورت بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ مصباح الحق بطور بیٹسمین ٹیم کے کام آ سکتے ہیں، اسی کے ساتھ ان کا دفاعی انداز ٹیسٹ میں کپتانی کے لیے مناسب ہے لہذا اس فارمیٹ میں عہدے پر برقرار رکھنا چاہیے۔
چیئرمین پی سی بی بھی سابق سربراہان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سابق ٹیسٹ کرکٹرز کو دھڑا دھڑ ملازمتیں دے رہے ہیں،اپنی دانست میں اس طرح وہ تنقید کے گولے برسنے والی توپوں کے منہ بند کر دیں گے، مگر انھیں اندازہ نہیں کہ اعجاز بٹ اور ذکا اشرف بھی ایسی کوششوں میں ناکام ہو چکے،پاکستان کرکٹ میں آپ ایک محاذ بند کریں دوسرا کھل جاتا ہے، جیسے عبدالقادر، جاوید میانداد اور محمد الیاس بورڈ سے علیحدہ ہونے کے بعد خوب بیانات داغ رہے ہیں، سابق ڈی جی نے تو عدالت تک جانے کا اعلان کر دیا، بجائے سرفراز نواز، باسط علی اور راشد لطیف جیسے کرکٹرز کو ساتھ ملانے کی کوشش کے چیئرمین کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ کسی کو تنقید کا موقع ہی نہ ملے، معین خان کو کئی ذمہ داریاں سونپنے، اکرم کو بولنگ کوچ سے ہٹا کر اکیڈمی اور سلیکشن کمیٹی میں شامل کرنے،حفیظ سے جبری استعفیٰ لینے، 6 رکنی سلیکشن کمیٹی بنانے اور پہلے کوچز کا تقرر کر کے رسمی اشتہار جاری کر کے وہ ''آ بیل مجھے مار'' کا کام کر رہے ہیں، ایسے میں کوئی سابق کرکٹر یا دیگر شخصیت و ادارہ انھیں تنقید سے نہیں بچا سکتا۔
''جی کون؟''
''کراچی سے سلیم خالق بول رہا ہوں۔''
''او، اچھا کیا حال ہے۔''
''ٹھیک، آپ یہ بتائیں کوچنگ کے بارے میں کیا سوچا ہے؟''
''دراصل میں اس وقت ڈرائیو کر رہا ہوں، گھر پہنچ کر فون کروں گا۔''
کچھ عرصے قبل فون پر جب میری یہ گفتگو ہوئی تو وقار یونس کے کترانے سے ہی اندازہ ہو گیا کہ اب ان کی کار پی سی بی کے ہیڈکوارٹر قذافی اسٹیڈیم لاہور جا کر ہی رکے گی، مجھے تھوڑا بہت صحافت کا جو تجربہ ہے اس سے یہ سیکھا کہ کوئی سابق کرکٹر اگر میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ہچکچائے تو اس کا مطلب اسے عنقریب بورڈ میں ملازمت ملنے والی ہے، ورنہ بیچارے ٹیلیویژن چینلز اور اخبارات کے ذریعے خود کو مارکیٹ میں ''اِن'' رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ چند روز بعد جب میں نے وقار یونس کو دوبارہ فون کیا تو اس بار انھیں بچ کر نہ نکلنے دیا۔ مجھے علم ہو چکا تھا کہ اگلے روز بورڈ کی جانب سے اشتہار جاری ہونے والا ہے اس لیے اسی حوالے سے سوال کیا۔ وقار یونس نے جواب دیا کہ اشتہار دیکھ کر ہی درخواست دینے کا فیصلہ کریں گے۔
اسی دوران جب ان کے بھارتی بنگال سے معاہدے کی بات آئی تو وہ بے ساختہ کہہ اٹھے ''اس سے میری پاکستانی ٹیم کی کوچنگ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔'' یوں ناں ناں کرتے سابق پیسر نے اشارہ دے دیا کہ وہ ایک بار پھر کوچ کی حیثیت سے گرین شرٹ زیب تن کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
چند ماہ قبل بھی ان کا معاہدہ تقریباً طے ہو چکا تھا لیکن ذکا اشرف کے جانے سے معاملات خراب ہو گئے اور معین خان نے ذمہ داری سنبھال لی۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ وقار یونس شائد اس ''بے عزتی'' کے بعد پی سی بی کے ساتھ منسلک نہ ہوں، لیکن انھیں اندازہ نہیں کہ ہر ماہ ملنے والے کئی لاکھ روپے کے چیک، مراعات اور دنیا بھر میں پبلسٹی ایسی چیزیں ہیں جن سے بڑے بڑوں کی انا فنا ہو جاتی ہے۔ وقار یونس آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہیں۔ انھوں نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح کینگرو بولنگ کوچ کا عہدہ مل جائے مگر مشکوک ماضی آڑے آ گیا۔
ماضی میں وہ خرابیٔ صحت کا بہانہ بنا کر پاکستانی ٹیم کا ساتھ چھوڑ گئے تھے، حالانکہ اصل وجہ کپتان شاہد آفریدی سے اختلافات تھے، حیران کن طور پر کچھ عرصے بعد وہ جب یو اے ای میں کمنٹری کرتے دکھائی دیے تو بالکل ایسا نہیں لگا کہ انھیں کوئی مرض لاحق ہے، جب میں نے اس بارے میں پوچھا تو جواب دیا کہ اب بالکل ٹھیک ہوں، البتہ انھوں نے آفریدی سے تعلقات کی خرابی کا ضرور اعتراف کیا تھا۔ اسی سیریز میں دونوں نے ساتھ بیٹھ کر معاملات ٹھیک بھی کر لیے تھے۔ گزشتہ برس یو اے ای میں ہی جب وقار یونس سے کوچنگ کے حوالے سے بات ہوئی تو انھوں نے مکمل اختیارات ملنے کی صورت میں ہی عہدہ سنبھالنے کا کہا تھا۔ یہ اختیارات یقینی طور پر ٹیم سے بعض سینئرز کی چھٹی ہیں۔ اسی وجہ سے دبے الفاظ میں پلیئرز وقار یونس کو کوچنگ سونپنے پر آواز بلند کر رہے ہیں۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ناقص کارکردگی نے انھیں اس قابل نہیں چھوڑا کہ زور و شور سے احتجاج کر سکیں۔ اسی طرح بطور اسپن کنسلٹنٹ مشتاق احمد کی تقرری کا بھی ذہن بنایا جا چکا، یقینی طور پروہ اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہیں اور انگلش ٹیم بھی ان کے تجربے سے مستفید ہوتی ہے، مگر مشکوک ماضی ان کا پیچھا چھوڑنے پر آمادہ نہیں، ایسے میں ثقلین مشتاق کا تقرر کیا جا سکتا ہے، بیٹنگ کوچ کے لیے انضمام الحق کا نام زیرگردش ہے، گوکہ وہ ازخود درخواست دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے مگر معین خان نے کب کوچ کے لیے اپلائی کیا مگر ان کا تقرر کر دیا گیا تھا.
اسی طرح انضمام کے ساتھ بھی ہو گا، وہ ماضی میں بھی ٹیم کے ساتھ منسلک رہ چکے مگر معاوضے کے تنازع پر مستقل ذمہ داری نہیں سنبھالی تھی، ممکن ہے اب یہ مسئلہ حل ہو جائے، انضمام کو ریٹائرمنٹ پر بورڈ نے ایک کروڑ روپے دیئے تھے، اب چند لاکھ دینے میں کیا قباحت ہو گی؟ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب تمام فیصلے پہلے ہی کر لیے گئے تو اشتہار دینے کی کیا ضرورت تھی تو اس کا سیدھا سا جواب یہ دیا ہے کہ بورڈ قوانین کے تحت دو لاکھ یا زائد کی کسی بھی پوسٹ کے لیے اشتہار جاری کرنا ضروری ہوتا ہے، لہٰذا ایک رسم پوری کی گئی ہے۔
پاکستانی کرکٹ ان دنوں چند افراد کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے سب سے قریبی شخص سابق کپتان معین خان ہیں، وہ یقینی طور پر کرکٹ کا ویژن رکھتے اور پاکستانی ٹیم کو بلندیوں پر لے جانے کے لیے کوشاں ہیں، مگر چیئرمین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر مشکل کا حل معین خان ہی نہیں ہیں، پہلے انھیں چیف سلیکٹر پھر منیجر بنایا،اس کے بعد چیف کوچ کی ذمہ داری ملی، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ٹیم کا تیا پانچا ہوا تو اب چیف سلیکٹر بنا دیا گیا، وہ کوچ ہنٹ کمیٹی میں بھی شامل ہیں، اس سے خود معین کی حیثیت متنازع ہو رہی ہے، وہ غیرمحسوس طور پر چیئرمین بورڈ کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں جس کا اندازہ بعد میں ہی ہوگا، اب انھیں دوبارہ چیف سلیکٹر بنایا گیا تو امید ہے کہ کامیاب ثابت ہوں گے، ان کی نئے ٹیلنٹ پر بھی گہری نظر ہے، ایسے میں وہ ٹیم کو باصلاحیت پلیئرزفراہم کرسکتے ہیں، ساتھ میں وہ منیجر بھی ہوں گے، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ پلیئرز ڈسپلن کی پابندی کریں گے، بصورت دیگر انھیں دھڑکا لگا رہے گا کہ منیجر چیف سلیکٹر بھی ہیں، ناراض کیا تو ٹیم سے ہی چھٹی کر دیں گے۔
معین خان کو سلیکشن کے لیے دیگر 5 افراد کا ساتھ بھی حاصل ہو گا، چیئرمین بورڈ، چیف کوچ، کپتان اور کوارڈی نیٹر ہارون رشید بھی اس عمل میں شریک ہوں گے، یوں یہ 10 افراد مل کر 4،5 پلیئرز کا انتخاب کریں گے، قارئین چونکئے نہیں، اسکواڈ کے 10،11 پلیئرز تو کوئی بھی چن سکتا ہے جو یقینی انتخاب ہوتے ہیں، ٹیم کی اگلی اسائمنٹ میں ابھی کافی وقت باقی مگر سلیکٹرز کا میٹر چل پڑا ہے، بغیر کام کیے انھیں تنخواہیں ملا کریں گی، ایسے میں جواز دیا جائے گا کہ بیشتر سلیکٹرز دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آئے ہیں، بورڈ تو صرف تھوڑی بہت رقم ہی دے گا جو شائد ''چند لاکھ'' تو بن ہی جائے، جیسے چیئرمین پی سی بی کی پوسٹ اعزازی مگر مراعات ایسی کہ کوئی بھی اس عہدے کو حاصل کرنے کے لیے زمین آسمان ایک کر دے۔
ایک طرف نجم سیٹھی اخراجات کم کرنے کی بات کر رہے ہیں دوسری جانب کئی غریب ملازمین کو نکال کر سیکڑوں گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے کر دیے،اسی طرح کوچز اور سلیکٹرز کی فوج تیار کر کے لاکھوں روپے پھونکے جائیں گے۔ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا، قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے کسی کھلاڑی کو اتنے کوچز کی ضرورت نہیں ہوتی،ایک ہیڈ کوچ کافی ہے، البتہ جزوقتی طور پر اسپن، فاسٹ، بیٹنگ یا وکٹ کیپنگ کوچز کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں، ایک ٹور میں کس کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ پلیئر کی خامیاں دور کرا سکے۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے دوران میں نے خود مشاہدہ کیا کہ بیچارے فیلڈنگ کوچ شعیب محمد کو کسی پریکٹس سیشن میں بمشکل 10 منٹ بھی نہیں ملتے تھے لیکن ملبہ ان پر گرا، ظہیرعباس اتنا بڑا نام رہے ہیں ان کی موجودگی میں ٹیم بنگلہ دیش میں کیسی رسوائی کا شکار ہوئی، مگر وہ کچھ نہ کر سکے، کبھی کہتے میرے پاس جادو کا چراغ نہیں تو کبھی کہتے بیٹسمین ورلڈ کلاس نہیں، تو سر پھر آپ کیوں ٹیم کے ساتھ وقت ضائع کر رہے تھے؟ آرام سے گھر میں بیٹھ کر ٹی وی پر میچز دیکھتے، اس وقت میراڈونا یا سر ایلکس فرگوسن کو پاکستانی فٹبال ٹیم کا منیجر بنا دیا جائے تو وہ بھی کچھ نہ کر سکیں گے، دنیا کا نمبر ون کرکٹ کوچ بھی بنگلہ دیش کی قسمت نہیں بدل سکتا، اصل بات انفراسٹرکچر، سہولیات اور ٹیلنٹ کی ہے، ان معاملات پر توجہ دیئے بغیر آپ کچھ بھی کر لیں فائدہ نہیں ہو گا۔ نجم سیٹھی جن افراد کو اب ٹیم کے ساتھ آہستہ آہستہ لا رہے ہیں ان سب پر ماضی میں انگلیاں اٹھ چکیں، شائد چیئرمین نے جسٹس قیوم کی رپورٹ نہیں پڑھی، ان کے لیے میں اس کا لنک دے رہا ہوں،
https://static.cricinfo.com/db/NATIONAL/PAK/NEWS/qayyumreport/qayyum_report.html
اسے پڑھ کر انھیں بہت سی باتوں کا اندازہ ہو گا، اسپاٹ فکسنگ پر سزا یافتہ محمد عامر کی کھلے عام حمایت اور راشد لطیف جیسے ایماندار شخص کو انگلش بورڈ کی ایما پر ناراض کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، بورڈ کو معاملات کی بہتری پر توجہ دینا ہو گی، راشد پر دانش کنیریا کی حمایت کا الزام ہے، ان پر انگلش بورڈ تاحیات پابندی عائد کر چکا، اسے سابق کپتان کے پی سی بی سے منسلک ہونے پر اعتراض ہوا، وہی انگلش بورڈ مشتاق احمد کو کئی برس سے اسپن بولنگ کوچ بنائے پھر رہا ہے جن کا نام جسٹس قیوم کی میچ فکسنگ انکوائری رپورٹ میں شامل تھا، دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے سے قبل انگلینڈ کو اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے، کنیریا نے اگر کسی کو فکسنگ پر اکسایا تو انھیں بھی سلمان، عامر اور آصف کی طرح جیل بھیج دینا چاہیے مگر معاملہ ابھی عدالت میں ہے فیصلے کا انتظار ضرور کریں، اسی طرح راشد لطیف کا کہنا ہے کہ وہ وقت آنے پر حقائق بیان کریں گے، نجانے وہ وقت کب آئے گا کنیریا کا کیریئر تو اب ختم ہو ہی چکا ہے۔
پاکستانی ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو بھی چیئرمین کی بھرپور حمایت حاصل ہے، ہو سکتا ہے میں غلط ہوں لیکن ایسے دفاعی قائد کی موجودگی میں پاکستانی ٹیم ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکتی، ٹی ٹوئنٹی میں تو ہم اپنی ساکھ مٹی میں ملا چکے اب ون ڈے کی تو کچھ فکر کرنی چاہیے، ہمارے پاس شاہد آفریدی موجود ہیں جنھوں نے گزشتہ میگا ایونٹ میں ٹیم کو سیمی فائنل تک پہنچایا، بھارت کے خلاف کیوں ہارے وہ سب کو پتا ہے ورنہ فائنل کھیلنا ناممکن نہ ہوتا،حفیظ کے جبری استعفے کے بعد آفریدی ٹی ٹوئنٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے فیورٹ تھے مگر میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے اس حوالے سے دلچسپی کیا ظاہر کردی کہ گویا طوفان آ گیا، مخالفین نے بیانات داغ کر ان کا سینہ دکھ سے چھلنی کر دیا یہی وجہ ہے کہ وہ اب کپتانی کی بات پر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں، ان کا ووٹ احمد شہزاد کی طرف ہے جو ڈسپلنری مسائل کی تاریخ رکھتے ہیں، انھیں کپتان بنا کر بورڈ نئے مسائل کو دعوت دے گا، اب فیصلہ چیئرمین کے ہاتھ میں ہے، آفریدی محب الوطن انسان ہیں، انھیں سمجھا بجھا کر قیادت کے لیے قائل کرنا ناممکن نہیں ہو گا،ان جیسے فائٹر اور جارح انداز اپنانے والا شخص ہی فیلڈ میں کھلاڑیوں کو لڑا سکتا ہے، اسی صورت بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ مصباح الحق بطور بیٹسمین ٹیم کے کام آ سکتے ہیں، اسی کے ساتھ ان کا دفاعی انداز ٹیسٹ میں کپتانی کے لیے مناسب ہے لہذا اس فارمیٹ میں عہدے پر برقرار رکھنا چاہیے۔
چیئرمین پی سی بی بھی سابق سربراہان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سابق ٹیسٹ کرکٹرز کو دھڑا دھڑ ملازمتیں دے رہے ہیں،اپنی دانست میں اس طرح وہ تنقید کے گولے برسنے والی توپوں کے منہ بند کر دیں گے، مگر انھیں اندازہ نہیں کہ اعجاز بٹ اور ذکا اشرف بھی ایسی کوششوں میں ناکام ہو چکے،پاکستان کرکٹ میں آپ ایک محاذ بند کریں دوسرا کھل جاتا ہے، جیسے عبدالقادر، جاوید میانداد اور محمد الیاس بورڈ سے علیحدہ ہونے کے بعد خوب بیانات داغ رہے ہیں، سابق ڈی جی نے تو عدالت تک جانے کا اعلان کر دیا، بجائے سرفراز نواز، باسط علی اور راشد لطیف جیسے کرکٹرز کو ساتھ ملانے کی کوشش کے چیئرمین کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ کسی کو تنقید کا موقع ہی نہ ملے، معین خان کو کئی ذمہ داریاں سونپنے، اکرم کو بولنگ کوچ سے ہٹا کر اکیڈمی اور سلیکشن کمیٹی میں شامل کرنے،حفیظ سے جبری استعفیٰ لینے، 6 رکنی سلیکشن کمیٹی بنانے اور پہلے کوچز کا تقرر کر کے رسمی اشتہار جاری کر کے وہ ''آ بیل مجھے مار'' کا کام کر رہے ہیں، ایسے میں کوئی سابق کرکٹر یا دیگر شخصیت و ادارہ انھیں تنقید سے نہیں بچا سکتا۔