ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلیوں کی لہر
چائے کی پیالی میں طوفان مچانے کے ارادے
چائے کی پیالی میں طوفان مچانے کے ارادے. فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
پاکستان میں چہروں کے بجائے نظام بدلنے کا نعرہ ہمیشہ مقبول عام رہا ہے۔
مختلف ادوار میں اقتدار کی باگ ڈور تبدیل ہوئی بھی تو عوام کی تقدیر نہ بدل سکی، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول آج بھی ہمارے سسٹم کی پہچان سمجھا جاتا ہے، دیگر ملکی ادارے تو ایک طرف ارباب اختیار سپورٹس فیڈریشنز اور کرکٹ بورڈ کو بھی بے لگام چھوڑ دینے کی غلطی نہیں کرتے، جس کی حکومت اس کا پی سی بی، ایک ایسا فارمولا ہے جسے جمہوری ہو یا غیر جمہوری کسی حکمران نے نظر انداز نہیں کیا، ادھر اقتدار منتقل ہوا، ادھر عہدوں کی متمنی شخصیات کے حوصلے جوان ہوگئے، ملک وقوم کی خدمت کے لیے بتیاب درجنوں میں سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا موقع ان کو ہی ملتا ہے جو نئے حکمرانوں کے ساتھ وفاداری کا لائسنس جیب میں رکھتے ہوں، ضروری نہیں کہ ان کو گاڑی چلانا بھی آتی ہو۔ ماضی کی بیشتر مثالوں کو چھوڑ کر چند سال پیچھے چلتے ہیں، ذکاء اشرف ایک بینکار اور کاروباری شخصیت کے طور پر زندگی کا بہترین وقت گزارچکے تھے کہ ان کو کرکٹ سدھارنے کا ٹھیکہ مل گیا۔
انہوں نے کوشش کی کہ حکومت بدلنے کے ساتھ چیئرمین کی تبدیلی کی روایت ٹوٹ جائے، نام نہاد جمہوری انداز میں منتخب ہوکر اپنی کرسی بچانے کے لیے مہم بھی چلائی لیکن حکومت اور اس کے نامزد نجم سیٹھی کے ساتھ میوزیکل چیئر گیم کے بعد ان کو گھر جانا ہی پڑا، اب ایک مایہ ناز صحافی قومی کرکٹ کو عروج کی طرف گامزن کرنے کے لیے اپنی ''مہارت'' آزماتے نظر آتے ہیں، اپنے دور کی حکومتی تائید و حمایت کے ساتھ ساتھ ساتھ دونوں بورڈ سربراہوں میں ایک قدر مشترک اور بھی ہے کہ کرکٹ کا تجربہ اور تکنیکی باریکیوں سے عدم واقفیت کی بنا پر ان کو چند ایسے چہروں پر انحصار کرنا پڑاجو خود بدلنے کے بجائے نظام بدلنے کے دعوے کرکے سال ہا سال سے اپنا وجود پی سی بی کے لیے ناگزیر ثابت کرتے چلے آئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بورڈ دفاتر کے اندر اور آس پاس بڑی بڑی فائلیں بغل میں دبائے نظر آنے والوں کی اس بے مثال ''جدوجہد'' کا ثمر کہیں نظر نہیں آتا،کوئی بھی نیا چیئرمین سیاسی حمایت کی ڈگری دکھا کر عہدہ سنبھالے تو اس کو نام نہاد منصوبوں کے کورکھ دھندوں میں الجھائے رکھنا ہی ان کی بقا کی ضمانت بن جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک شاہکار پراجیکٹ ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے میں تبدیلوں کے نام پر متعارف ہوچکا،گزشتہ دہائی میں ہر دو سال بعد نیا فارمولا سامنے لانے والے پی سی بی نے ایک بار پھر اپنے ہی بنائے سسٹم کو میرٹ پر چلانے کے بجائے نئی پالیسی کے ساتھ نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ بورڈ کے نئے آئین میں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کو ختم کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ ادارے اپنی ٹیمیں تشکیل دینے کے بجائے ریجنل ایسوسی ایشنز کو سپورٹ کریں گے، اس منصوبے پر عمل درآمد ہونے کی صورت میں ریجن کے عہدیداروں کا کرداربھی عملاً ختم اور نظام براہ راست بورڈ کے تابع ہوجائے، مجوزہ پلان کے مطابق نئے سیٹ اپ میں ریجنل ایسوسی ایشن کا صدر ریجن جبکہ سیکرٹری اس ادارے سے ہوگا جو متعلقہ ریجن کو مالی طور پر سپورٹ کرے گا، خازن پی سی بی کی طرف سے نامزد ہوگا، ریجنل ایسوسی ایشن کوئی تقرری کرنے کی بھی اہل نہیں ہوگی،نائب قاصد تک کا تقرر بھی خود بورڈ ہی کرے گا۔
اس منصوبے کے خالق عہدیداروں کا موقف ہے کہ سسٹم میں تبدیلیوں سے ٹیموں کی تعداد میں کمی جبکہ کھیل کے معیار میں اضافہ ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے، مختلف ڈیپارٹمنٹ ایک ٹیم پر سالانہ 3 کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں،یہ رقم ریجنز پر لگائی جائے تو علاقائی کرکٹ کو فروغ ملے گا۔ دیکھا جائے تو اس بات میں اتنا وزن نہیں دکھائی دیتا،ٹیموں اور کرکٹر کی تعداد میں کمی سے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی ہونے سے کھیل کو فروغ کیسے حاصل ہوگا؟ ایک اندازے کے مطابق ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں ختم کرنے سے فوری طور پر ملک بھر میں 15 سو کرکٹرز کا روزگار چھن جائے گا، ان میں تقریباً 4 سو فرسٹ کلاس کے ساتھ ساتھ اداروں کی ریجنز اور ماتحت ٹیموں کے لگ بھگ 8 سو کھلاڑی بھی شامل ہیں، فرسٹ کلاس کھیلنے والے تقریباً 200 اور 100 کے قریب خواتین کرکٹرز بھی بے روزگار ہونے والوں کی فہرست میں ہونگے،گریڈ ٹو کرکٹ کھیلنے والے 26 مختلف قومی اور نجی اداروں کی ٹیموں کے کھلاڑی اس کے علاوہ ہیں۔
ملک میں کھیلوں کی ترقی میں قومی اور نجی اداروں کے کردار کی اہمیت کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان کی طرف سے اداروں کوکئی بار احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ وہ لازمی طور پر قومی سطح کی 4 سے 6 ٹیمیں تشکیل دیں،دوسری طرف وزیراعظم کے حکم پر ہی قائم ہونے والی پی سی بی کی انتظامی کمیٹی ملکی سطح پر نمایاں کارکردگی کے حامل کرکٹرز کو بے روزگار کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے، حیرت کی بات ہے کہ ملک میں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے کی تجا ویز تیار کرنے والے پی سی بی کے ڈائریکٹر گیم ڈویلپمنٹ ہارون رشید، ان کے حامی منصور رانا اور دیگر کرکٹرز خود سالہا سال تک مختلف اداروں سے بھاری تنخواہیں وصول کرتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کا سٹرکچر ذکاء اشرف کے دور میں تبدیل کیا گیا تھا، اداروں اور ریجنز کے الگ الگ ایونٹ کرانے کی پالیسی پر عمل درآمد کیا گیا، قائد اعظم ٹرافی میں 14 ریجنل ٹیموں نے شرکت کی جن میں سے 8 نے مین راؤنڈ میں حصہ لیا جبکہ باقی پر مشتمل پلیٹ لیگ کروائی گئی،ریجنز کو ڈیپارٹمنٹس کے 5 کرکٹر شامل کرنے کی اجازت تھی جن میں سے 4 کو پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا جاسکتا تھا۔
پریذیڈنٹ ٹرافی ٹورنامنٹ میں 11 ڈیپارٹمنٹل ٹیموں نے راؤنڈ رابن لیگ طرز کے مقابلوں میں شرکت کی جن میں سے سر فہرست دو نے فائنل میں جگہ بنائی۔ اس وقت ادارہ جاتی ٹیموں میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز، زرعی ترقیاتی بینک، نیشنل بینک، حبیب بینک، خان ریسرچ لیبارٹریز، سوئی ناردرن گیس، واپڈا، سٹیٹ بینک، یونائیٹڈ بینک، پورٹ قاسم اتھارٹی اور پاکستان ٹیلی ویژن شامل ہیں جن کو پاکستان میں انگلش کاؤنٹیز جیسی حیثیت حاصل ہے، ملک کے ٹاپ کرکٹرز میں سے بیشتر کو ماضی کے سپر سٹارز ظہیر عباس، جاوید میانداد، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس اور دیگر کی طرح انگلینڈ میں مالی آسودگی کے ساتھ کھیل میں بہتری لانے کے مواقع میسر نہیں آئے لیکن اسی ملکی سسٹم سے ہی نکل کر آگے آئے ہیں، ریجنز میں اختیارات کی کھچڑی پکنے سے اس سلسلے کو بھی بریک لگ جائے گی، مالی طور پر معاونت حاصل کرنے والے کرکٹرز کی تعداد میں کمی سے نئے کھلاڑیوں کو آگے آنے کا حوصلہ نہیں ہوگا، کھیل کے ذریعے بہتر مستقبل کی طرف بڑھنے کی کشش ختم ہوئی تو ہاکی کی طرح کرکٹ میںبھی نیا ٹیلنٹ ناپید ہوتا جائے گا۔
اس صورتحال میں ڈیپارٹمنٹس کے حکام اداروں کی ٹیموں کو ختم کرکے ریجنز کو سپورٹ کرنے کی پابندی کو اپنے لئے بوجھ اور کرکٹ کے لیے نقصان دہ قرار دینے لگے ہیں، انہوں نے ان تجاویز کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے تمام ڈیپارٹمنٹس کے شعبہ سپورٹس کے سربراہوں کا ایک اہم اجلاس آئندہ چند دنوں میں طلب کرکے نئے سسٹم کو قبول نہ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا،ان کا موقف ہے کہ بورڈ کی مجوزہ تبدیلیوں پر عمل ہونے کی صورت میں ادارہ جاتی ٹیموں کا خاتمے ہوا تو ان کی الگ شناخت بھی ختم ہوجائے گی، ایسی صورت میں کوئی بھی ڈیپارٹمنٹ مالی قربانی دینے کے حق میں نہیں ہوگا، اگر کوئی ریجنز کو سپورٹ کرکے مضبوط بنانا چاہتا ہے تو اس کے لیے سپانسرز تلاش کرلئے جائیں لیکن اداروں کو پرائے گھروں کے بچے گود لینے کا پابند نہ کیا جائے۔
دوسری طرف ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں مالی خسارے کا شکار ادارے پی آئی اے، واپڈا، سوئی ناردرن گیس اور چند بینک اپنی فرسٹ کلاس ٹیموں کے لیے تو کسی نہ کسی طور وسائل فراہم کررہے ہیں لیکن ریجنز کو سال بھر پیسے دینے کے لیے کیسے تیار ہونگے جبکہ ان کا نام اور اختیارات بھی پہلے جیسے نہ ہوں۔ ڈیپارٹمنٹس کے سپورٹس حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ جاتی ٹیمیں ختم ہونے پر ملکی کرکٹ چند لوگوں کے قبضے میں جانے کے ساتھ ساتھ من پسند کھلاڑیوں تک محدود ہوجائے گی اور نیا ٹیلنٹ سامنے آنے کا سلسلہ رک جائے گا۔
مجوزہ تبدیلیوں کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا فیصلہ تو چند روز میں ہوجائے گا، سوچنے کی بات یہ ہے کہ پرانے سسٹم کو متعارف کروانے والوں میں سے بیشتر اس وقت بھی پی سی بی میں کاغذی طور پر خاصے سرگرم ہیں، نت نئے منصوبے لانے کے بجائے پلان پر شفاف انداز میں عمل کرانا اہم تھا جس کی کسی نے ضرورت محسوس نہیں کی، ایک سیزن میں بورڈ کے30 کروڑ خرچ ہوجانے کے باوجود ہم نئے ٹیلنٹ کی کمی کا رونا روتے نظر آتے ہیں، کلب سے لیکر فرسٹ کلاس ٹیموں تک کئی عمررسیدہ کرکٹر کارکردگی میں جمود کا شکار ہونے کے باوجود کرکٹ سے چمٹے ہوئے ہیں،کئی باصلاحیت نوجوان کھلاڑی بڑی سفارش نہ ہونے پر 12ویں کھلاڑی کے طور پر ''بزرگوں'' کو پانی پلاتے پلاتے آگے بڑھنے کے خواب دیکھنا ہی چھوڑ جاتے ہیں، سسٹم کوئی بھی ہو اس میں بہتری لانے کی ہمیشہ گنجائش ہوتی ہے لیکن میرٹ کو ہی نظر انداز کیا جاتا رہے تو کوئی بھی نسخہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔
تبدیلیوں کی تازہ لہر چائے کی پیالی میں طوفان مچانے کے مصداق ہے، ریجنز کو مضبوط بنانا ہے تو ڈمی کلبز کے ووٹوں سے الیکشن جیت کر عہدے سنبھالنے والوں کا راستہ روکا جائے، سیاسی حمایت سے کرتا دھرتا بننے والوں کے بجائے کرکٹ کا درد اور سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد کو آگے لایا جائے تو سڑکوں، گلیوں میں امیدوں کو حسرتوں میں بدلتا ٹیلنٹ میدانوں میں نظر آنا شروع ہوجائے گا۔ چیئرمین سے لے کرسلیکٹرز تک کا تقرر اہلیت اور تجربہ کے بجائے ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر ہوگا تو گراس روٹ سطح سے اوپر تک میرٹ پر فیصلوں کی توقع نہیں کی جاسکتی، ملک کی طرح کرکٹ بورڈ کے سسٹم کا کورکھ دھندہ بنانے والوں کی نہیں دیانتداری سے چلانے والوں کی ضرورت ہے، قومیں اور ٹیمیں فائلوں کے انباروں میں نہیں میدان عمل میں بنتی ہیں۔
پاکستان میں چہروں کے بجائے نظام بدلنے کا نعرہ ہمیشہ مقبول عام رہا ہے۔
مختلف ادوار میں اقتدار کی باگ ڈور تبدیل ہوئی بھی تو عوام کی تقدیر نہ بدل سکی، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول آج بھی ہمارے سسٹم کی پہچان سمجھا جاتا ہے، دیگر ملکی ادارے تو ایک طرف ارباب اختیار سپورٹس فیڈریشنز اور کرکٹ بورڈ کو بھی بے لگام چھوڑ دینے کی غلطی نہیں کرتے، جس کی حکومت اس کا پی سی بی، ایک ایسا فارمولا ہے جسے جمہوری ہو یا غیر جمہوری کسی حکمران نے نظر انداز نہیں کیا، ادھر اقتدار منتقل ہوا، ادھر عہدوں کی متمنی شخصیات کے حوصلے جوان ہوگئے، ملک وقوم کی خدمت کے لیے بتیاب درجنوں میں سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا موقع ان کو ہی ملتا ہے جو نئے حکمرانوں کے ساتھ وفاداری کا لائسنس جیب میں رکھتے ہوں، ضروری نہیں کہ ان کو گاڑی چلانا بھی آتی ہو۔ ماضی کی بیشتر مثالوں کو چھوڑ کر چند سال پیچھے چلتے ہیں، ذکاء اشرف ایک بینکار اور کاروباری شخصیت کے طور پر زندگی کا بہترین وقت گزارچکے تھے کہ ان کو کرکٹ سدھارنے کا ٹھیکہ مل گیا۔
انہوں نے کوشش کی کہ حکومت بدلنے کے ساتھ چیئرمین کی تبدیلی کی روایت ٹوٹ جائے، نام نہاد جمہوری انداز میں منتخب ہوکر اپنی کرسی بچانے کے لیے مہم بھی چلائی لیکن حکومت اور اس کے نامزد نجم سیٹھی کے ساتھ میوزیکل چیئر گیم کے بعد ان کو گھر جانا ہی پڑا، اب ایک مایہ ناز صحافی قومی کرکٹ کو عروج کی طرف گامزن کرنے کے لیے اپنی ''مہارت'' آزماتے نظر آتے ہیں، اپنے دور کی حکومتی تائید و حمایت کے ساتھ ساتھ ساتھ دونوں بورڈ سربراہوں میں ایک قدر مشترک اور بھی ہے کہ کرکٹ کا تجربہ اور تکنیکی باریکیوں سے عدم واقفیت کی بنا پر ان کو چند ایسے چہروں پر انحصار کرنا پڑاجو خود بدلنے کے بجائے نظام بدلنے کے دعوے کرکے سال ہا سال سے اپنا وجود پی سی بی کے لیے ناگزیر ثابت کرتے چلے آئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بورڈ دفاتر کے اندر اور آس پاس بڑی بڑی فائلیں بغل میں دبائے نظر آنے والوں کی اس بے مثال ''جدوجہد'' کا ثمر کہیں نظر نہیں آتا،کوئی بھی نیا چیئرمین سیاسی حمایت کی ڈگری دکھا کر عہدہ سنبھالے تو اس کو نام نہاد منصوبوں کے کورکھ دھندوں میں الجھائے رکھنا ہی ان کی بقا کی ضمانت بن جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک شاہکار پراجیکٹ ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے میں تبدیلوں کے نام پر متعارف ہوچکا،گزشتہ دہائی میں ہر دو سال بعد نیا فارمولا سامنے لانے والے پی سی بی نے ایک بار پھر اپنے ہی بنائے سسٹم کو میرٹ پر چلانے کے بجائے نئی پالیسی کے ساتھ نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ بورڈ کے نئے آئین میں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کو ختم کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ ادارے اپنی ٹیمیں تشکیل دینے کے بجائے ریجنل ایسوسی ایشنز کو سپورٹ کریں گے، اس منصوبے پر عمل درآمد ہونے کی صورت میں ریجن کے عہدیداروں کا کرداربھی عملاً ختم اور نظام براہ راست بورڈ کے تابع ہوجائے، مجوزہ پلان کے مطابق نئے سیٹ اپ میں ریجنل ایسوسی ایشن کا صدر ریجن جبکہ سیکرٹری اس ادارے سے ہوگا جو متعلقہ ریجن کو مالی طور پر سپورٹ کرے گا، خازن پی سی بی کی طرف سے نامزد ہوگا، ریجنل ایسوسی ایشن کوئی تقرری کرنے کی بھی اہل نہیں ہوگی،نائب قاصد تک کا تقرر بھی خود بورڈ ہی کرے گا۔
اس منصوبے کے خالق عہدیداروں کا موقف ہے کہ سسٹم میں تبدیلیوں سے ٹیموں کی تعداد میں کمی جبکہ کھیل کے معیار میں اضافہ ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے، مختلف ڈیپارٹمنٹ ایک ٹیم پر سالانہ 3 کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں،یہ رقم ریجنز پر لگائی جائے تو علاقائی کرکٹ کو فروغ ملے گا۔ دیکھا جائے تو اس بات میں اتنا وزن نہیں دکھائی دیتا،ٹیموں اور کرکٹر کی تعداد میں کمی سے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی ہونے سے کھیل کو فروغ کیسے حاصل ہوگا؟ ایک اندازے کے مطابق ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں ختم کرنے سے فوری طور پر ملک بھر میں 15 سو کرکٹرز کا روزگار چھن جائے گا، ان میں تقریباً 4 سو فرسٹ کلاس کے ساتھ ساتھ اداروں کی ریجنز اور ماتحت ٹیموں کے لگ بھگ 8 سو کھلاڑی بھی شامل ہیں، فرسٹ کلاس کھیلنے والے تقریباً 200 اور 100 کے قریب خواتین کرکٹرز بھی بے روزگار ہونے والوں کی فہرست میں ہونگے،گریڈ ٹو کرکٹ کھیلنے والے 26 مختلف قومی اور نجی اداروں کی ٹیموں کے کھلاڑی اس کے علاوہ ہیں۔
ملک میں کھیلوں کی ترقی میں قومی اور نجی اداروں کے کردار کی اہمیت کے پیش نظر وزیراعظم پاکستان کی طرف سے اداروں کوکئی بار احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ وہ لازمی طور پر قومی سطح کی 4 سے 6 ٹیمیں تشکیل دیں،دوسری طرف وزیراعظم کے حکم پر ہی قائم ہونے والی پی سی بی کی انتظامی کمیٹی ملکی سطح پر نمایاں کارکردگی کے حامل کرکٹرز کو بے روزگار کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے، حیرت کی بات ہے کہ ملک میں ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کرنے کی تجا ویز تیار کرنے والے پی سی بی کے ڈائریکٹر گیم ڈویلپمنٹ ہارون رشید، ان کے حامی منصور رانا اور دیگر کرکٹرز خود سالہا سال تک مختلف اداروں سے بھاری تنخواہیں وصول کرتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کا سٹرکچر ذکاء اشرف کے دور میں تبدیل کیا گیا تھا، اداروں اور ریجنز کے الگ الگ ایونٹ کرانے کی پالیسی پر عمل درآمد کیا گیا، قائد اعظم ٹرافی میں 14 ریجنل ٹیموں نے شرکت کی جن میں سے 8 نے مین راؤنڈ میں حصہ لیا جبکہ باقی پر مشتمل پلیٹ لیگ کروائی گئی،ریجنز کو ڈیپارٹمنٹس کے 5 کرکٹر شامل کرنے کی اجازت تھی جن میں سے 4 کو پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا جاسکتا تھا۔
پریذیڈنٹ ٹرافی ٹورنامنٹ میں 11 ڈیپارٹمنٹل ٹیموں نے راؤنڈ رابن لیگ طرز کے مقابلوں میں شرکت کی جن میں سے سر فہرست دو نے فائنل میں جگہ بنائی۔ اس وقت ادارہ جاتی ٹیموں میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز، زرعی ترقیاتی بینک، نیشنل بینک، حبیب بینک، خان ریسرچ لیبارٹریز، سوئی ناردرن گیس، واپڈا، سٹیٹ بینک، یونائیٹڈ بینک، پورٹ قاسم اتھارٹی اور پاکستان ٹیلی ویژن شامل ہیں جن کو پاکستان میں انگلش کاؤنٹیز جیسی حیثیت حاصل ہے، ملک کے ٹاپ کرکٹرز میں سے بیشتر کو ماضی کے سپر سٹارز ظہیر عباس، جاوید میانداد، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس اور دیگر کی طرح انگلینڈ میں مالی آسودگی کے ساتھ کھیل میں بہتری لانے کے مواقع میسر نہیں آئے لیکن اسی ملکی سسٹم سے ہی نکل کر آگے آئے ہیں، ریجنز میں اختیارات کی کھچڑی پکنے سے اس سلسلے کو بھی بریک لگ جائے گی، مالی طور پر معاونت حاصل کرنے والے کرکٹرز کی تعداد میں کمی سے نئے کھلاڑیوں کو آگے آنے کا حوصلہ نہیں ہوگا، کھیل کے ذریعے بہتر مستقبل کی طرف بڑھنے کی کشش ختم ہوئی تو ہاکی کی طرح کرکٹ میںبھی نیا ٹیلنٹ ناپید ہوتا جائے گا۔
اس صورتحال میں ڈیپارٹمنٹس کے حکام اداروں کی ٹیموں کو ختم کرکے ریجنز کو سپورٹ کرنے کی پابندی کو اپنے لئے بوجھ اور کرکٹ کے لیے نقصان دہ قرار دینے لگے ہیں، انہوں نے ان تجاویز کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے تمام ڈیپارٹمنٹس کے شعبہ سپورٹس کے سربراہوں کا ایک اہم اجلاس آئندہ چند دنوں میں طلب کرکے نئے سسٹم کو قبول نہ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا،ان کا موقف ہے کہ بورڈ کی مجوزہ تبدیلیوں پر عمل ہونے کی صورت میں ادارہ جاتی ٹیموں کا خاتمے ہوا تو ان کی الگ شناخت بھی ختم ہوجائے گی، ایسی صورت میں کوئی بھی ڈیپارٹمنٹ مالی قربانی دینے کے حق میں نہیں ہوگا، اگر کوئی ریجنز کو سپورٹ کرکے مضبوط بنانا چاہتا ہے تو اس کے لیے سپانسرز تلاش کرلئے جائیں لیکن اداروں کو پرائے گھروں کے بچے گود لینے کا پابند نہ کیا جائے۔
دوسری طرف ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں مالی خسارے کا شکار ادارے پی آئی اے، واپڈا، سوئی ناردرن گیس اور چند بینک اپنی فرسٹ کلاس ٹیموں کے لیے تو کسی نہ کسی طور وسائل فراہم کررہے ہیں لیکن ریجنز کو سال بھر پیسے دینے کے لیے کیسے تیار ہونگے جبکہ ان کا نام اور اختیارات بھی پہلے جیسے نہ ہوں۔ ڈیپارٹمنٹس کے سپورٹس حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ جاتی ٹیمیں ختم ہونے پر ملکی کرکٹ چند لوگوں کے قبضے میں جانے کے ساتھ ساتھ من پسند کھلاڑیوں تک محدود ہوجائے گی اور نیا ٹیلنٹ سامنے آنے کا سلسلہ رک جائے گا۔
مجوزہ تبدیلیوں کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اس کا فیصلہ تو چند روز میں ہوجائے گا، سوچنے کی بات یہ ہے کہ پرانے سسٹم کو متعارف کروانے والوں میں سے بیشتر اس وقت بھی پی سی بی میں کاغذی طور پر خاصے سرگرم ہیں، نت نئے منصوبے لانے کے بجائے پلان پر شفاف انداز میں عمل کرانا اہم تھا جس کی کسی نے ضرورت محسوس نہیں کی، ایک سیزن میں بورڈ کے30 کروڑ خرچ ہوجانے کے باوجود ہم نئے ٹیلنٹ کی کمی کا رونا روتے نظر آتے ہیں، کلب سے لیکر فرسٹ کلاس ٹیموں تک کئی عمررسیدہ کرکٹر کارکردگی میں جمود کا شکار ہونے کے باوجود کرکٹ سے چمٹے ہوئے ہیں،کئی باصلاحیت نوجوان کھلاڑی بڑی سفارش نہ ہونے پر 12ویں کھلاڑی کے طور پر ''بزرگوں'' کو پانی پلاتے پلاتے آگے بڑھنے کے خواب دیکھنا ہی چھوڑ جاتے ہیں، سسٹم کوئی بھی ہو اس میں بہتری لانے کی ہمیشہ گنجائش ہوتی ہے لیکن میرٹ کو ہی نظر انداز کیا جاتا رہے تو کوئی بھی نسخہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔
تبدیلیوں کی تازہ لہر چائے کی پیالی میں طوفان مچانے کے مصداق ہے، ریجنز کو مضبوط بنانا ہے تو ڈمی کلبز کے ووٹوں سے الیکشن جیت کر عہدے سنبھالنے والوں کا راستہ روکا جائے، سیاسی حمایت سے کرتا دھرتا بننے والوں کے بجائے کرکٹ کا درد اور سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد کو آگے لایا جائے تو سڑکوں، گلیوں میں امیدوں کو حسرتوں میں بدلتا ٹیلنٹ میدانوں میں نظر آنا شروع ہوجائے گا۔ چیئرمین سے لے کرسلیکٹرز تک کا تقرر اہلیت اور تجربہ کے بجائے ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر ہوگا تو گراس روٹ سطح سے اوپر تک میرٹ پر فیصلوں کی توقع نہیں کی جاسکتی، ملک کی طرح کرکٹ بورڈ کے سسٹم کا کورکھ دھندہ بنانے والوں کی نہیں دیانتداری سے چلانے والوں کی ضرورت ہے، قومیں اور ٹیمیں فائلوں کے انباروں میں نہیں میدان عمل میں بنتی ہیں۔