ناک آؤٹ اسٹرٹیجی بنائی جائے

اب صورت حال بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے اور حکومتی اداروں کے لیے چیلنج بن گئی ہے۔

مہنگائی، غربت اور بیروزگاری ان وارداتوں کے اسباب میں بنیادی فیکٹر ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

KHYBER AGENCY:
کراچی میں دہلی کالونی جامع مسجد فیضان جیلان کے قریب نماز جمعہ کے بعد رکشا میں نصب بم زور دار دھماکا، دوسری جانب مختلف علاقوں میں فائرنگ سے مزید 6 افراد کی ہلاکت جب کہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کے واقعات کو اگر گزشہ تین روز کے سانحات سے جوڑا جائے تو منی پاکستان میں تشدد کی اس ہولناک گمبھیرتا کا منظر نامہ انتہائی تشویش ناک نظر آتا ہے۔

مسلسل وارداتوں کی اس نئی لہر کے حوالے سے ہم وطنوں سمیت منی پاکستان کے عوام کی تشویش بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کیونکہ اب تو اس بات میں بھی کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ تشدد آمیز واقعات کے اعصابی اور سٹرٹیجک اثرات کراچی، لاہور، کوئٹہ یا پشاور تک محدود نہیں رہے بلکہ ہر واقعہ پر تشدد واقعات کی دوسری کڑیوں سے یوں ملا ہوتا ہے جس کے باعث کریمنل عناصر تک رسائی پولیس کے لیے آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ آخر ایسی بھی کیا بے بسی کہ واردات پر واردات ہوتی جاتی ہے اور سیکیورٹی حکام بعد از واردات تحقیقات و تفتیش کی روایتی یقین دہانیوں سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔

شاید وجہ یہ بھی ہو کہ قتل و غارت اور بم دھماکوں کی وارداتوں میں ملوث عناصر اپنے اہداف اور ان پر حملوں کے ایک غیر مرئی داخلی اور عالمی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جس کی تہ تک پہنچنا نہ صرف ناگزیر ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، بشمول مربوط ملکی انٹیلی جنس نیٹ ورک، پر لازم ہے کہ وہ نئی دہشت گردی مخالف ماڈل پالیسی بنائیں، ایک کریک ڈاؤن کرتی اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے جذبے سے سرشار تربیت یافتہ سریع الحرکت ملک گیر فورس فعال ہونی چاہیے جو کراچی اور دیگر صوبائی دارالحکومتوں میں مسلسل وارداتوں کا زور توڑ سکے۔


مختلف شہروں اور قبائلی علاقوں میں بے گناہوں کے خون بہانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، اسٹریٹ کرائم کا مکمل سدباب ہو اور ساتھ ہی منی پاکستان کے معاشی مستقبل اور شہریوں کی زندگی کو لاحق خطرات سے نمٹنے میں تاخیر نہ کی جائے۔ کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے بلکہ اسے تو غریبوں کا شہر کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں غریب سے غریب شخص کو بھی روزی اور روٹی مل جاتی ہے۔ اس شہر میں بدامنی پھیلانے کا مقصد محض یہ نہیں ہے کہ یہاں گڑبڑ پھیلائی جائے بلکہ اس کا مقصد پورے پاکستان کے معاشی پہیے کو جام کرنا ہے۔ بدقسمتی سے مختلف اوقات میں قائم ہونے والی حکومتوں نے کراچی میں جرائم کے خاتمے اور دیگر گروہوں کو ختم کرنے کے سلسلے میں ایک مضبوط پالیسی اختیار نہیں کی۔ سیاسی گروہ بندیوں نے ان گروہوں کو مضبوط ہونے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

اب صورت حال بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے اور حکومتی اداروں کے لیے چیلنج بن گئی ہے۔ اگر حکومتی ادارے اور پالیسی ساز ماضی میں ان گروہوں پر نظر رکھتے تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔ قومی اور عالمی میڈیا بار بار خبردار کر چکا ہے کہ دنیا بھر کے خطرناک مجرموں اور مافیا گینگز کے پراسرار عناصر نے منی پاکستان میں ٹھکانے بنا لیے ہیں، اس لیے ہر ٹارگٹ کلر اور پاکستان کے بد خواہ مسلح گروہ کو جو ملک میں کسی بھی جگہ اپنے غیر ملکی ایجنڈے اور مقامی ہدف کو پانے کے لیے الرٹ نظر آئے اسے ناکام بنایا جائے، حکمران اس وسیع تر فرسٹریشن کا بھی سدباب کریں جس نے سماجی اور معاشی محرومیوں کے بطن سے جنم لیا ہے۔

مہنگائی، غربت اور بیروزگاری ان وارداتوں کے اسباب میں بنیادی فیکٹر ہیں۔ واضح رہے دسمبر 2013ء میں نیویارک میں کم سن سیاہ فام بچے '' ناک آؤٹ پنچ'' گروپ کے طور پر سفید فاموں کے قتل اور تشدد کی کارروائیوں میں سرگرم تھے ان کو کمال تدبیر سے زیر دام لایا گیا۔ ہمارے حکام کو چاہیے کولمبئین پولیس حکام کے تجربات سے استفادہ کریں۔ اعلیٰ پولیس و رینجرز حکام اور انٹیلی جنس ادارے الم ناک وارداتوں کے بعد ملزمان کی گرفتاری میں مسلسل ناکامی کے الزام سے اسی صورت گلو خلاصی حاصل کر سکتے ہیں جب جرائم پیشہ گروہوں، بدامنی، لاقانونیت اور ریاست کے اندر ریاست بنانے کے جنوں میں مبتلا عناصر کی شناخت کو اولین شرط کے طور پر یقینی بنائیں۔ پھر ان کی گرفتاری، عدالتوں میں پیشی، مختلف واقعات کے عینی شاہدین سے حاصل شدہ تفصیل کی روشنی میں بم دھماکوں یا خود کش حملوں میں اچانک تیزی کے اسباب پر سنجیدگی سے غور و فکر کریں۔

ارباب اختیار کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ مذاکرات کے تعطل کے نتیجہ میں جنگ بندی کے خاتمہ کے اعلان کے ممکنہ مضمرات کیا ہو سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پر تشدد واقعات میں تسلسل کا زہر معاشرے کے لیے سم قاتل ہے جس سے جمہوریت، معیشت، قومی سلامتی اور داخلی امن و سکون کو مزید سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قوم مایوس نہیں، ان کی قربانیاں قابل قدر ہیں مگر دہشت گردی کے جن پر قابو پانا ایک چیلنج ہے جب کہ پر تشدد واقعات کی روک تھام ایک براڈ بیسڈ حکمت علی کی محتاج ہے۔ دہشت گردی ایک عفریت کی صورت میں قومی وجود سے چمٹی ہوئی ہے۔ اس سے نجات کا یہی موقع ہے۔
Load Next Story