کراچی میں فلور ملوں کی ہڑتال کے باعث مہنگے داموں آٹے کی فروخت جاری
مخصوص تھوک فروشوں نے خوردہ سطح پر آٹے کی50کلو بوری کی قیمت میں500 روپے تک اضافہ کردیا
محکمہ خوراک کی حمایتی فلور ملیں بیوپاریوں کے ذریعے آٹا اور میدہ مہنگا فروخت کروا رہی ہیں، چوہدری یوسف۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
شہر کی فلور ملوں کی 6 روز سے جاری ہڑتال سے تھوک منڈی میں آٹے کی مہنگے داموں فروخت شروع ہوگئی، خوردہ سطح پر آٹے کی 50 کلو بوری کی قیمت میں 360 سے 500 روپے تک اضافہ ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی85 فلورملوں میں سے 81 فلورملوں کی گزشتہ 6 دن سے جاری ہڑتال سے ناجائز منافع خوری کے لیے تھوک منڈی میں بلیک میلروں نے مہنگے داموں آٹے کی فروخت شروع کردی، ہڑتال کے باعث خوردہ سطح پر آٹے کی قلت پیدا ہوتے ہی جوڑیا بازار میں سیالکوٹ والا نامی آٹے کا تھوک فروش اور حاجی بلی نامی بروکر نے ہفتے کوڈھائی نمبر آٹے کی50 کلوگرام بوری کی قیمت خودساختہ طور پر360 روپے بڑھا کر 2100 تا 2150 روپے کردی ہے، فائن آٹے 50 کلو گرام کی حامل بوری کی قیمت400 روپے بڑھا کر 2450 روپے اور 50 کلوگرام میدے کی بوری کی قیمت 500 روپے بڑھاکر 2500 تا2550 روپے کردی ہے۔
خوردہ سطح پر آٹے کی قلت کی تصدیق کرتے ہوئے کراچی ریٹیل گروسرز گروپ کے سیکریٹری فرید قریشی نے بتایا کہ فلور ملوں کی 6 روز سے جاری ہڑتال کی وجہ سے خوردہ فروشوں کے پاس آٹے کا ذخیرہ تقریباً ختم ہوگیا ہے اور وہ تھوک منڈی سے مہنگے داموں آٹا خریدنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ تھوک پر مہنگے داموں آٹا خریدکر عوام کو بھی مہنگے داموں آٹا فروخت کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں مہنگا آٹا فروخت کرنے کی تمام تر ذمے داری ریٹیلرز پر عائد ہوجائے گی، پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل کے چیئرمین چوہدری محمد یوسف نے بتایا کہ محکمہ خوراک کی حمایت یافتہ 4 فلورملوں نے ہڑتال سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے منافع خوری شروع کردی ہے جو جوڑیا بازار کے اپنے مخصوص بیوپاریوں کے ذریعے آٹا اور میدہ مہنگے داموں فروخت کروارہی ہیں۔
انھوں نے صوبائی وزیرخوراک سے استفسار کیا کہ وہ اپنے محکمے کی حمایت یافتہ فلورملوں کی تھوک منڈی میں مہنگے داموں آٹے کی فروخت پر بازپرس کیوں نہیں کر رہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی وزارت ہی کراچی میں آٹا مہنگا کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جس کی بعدازاں ذمے داری فلورملز مالکان پر عائد کردی جائے گی۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے اجلاس سے خطاب میں چیئرمین چوہدری محمدیوسف نے ممبران پر واضح کیا کہ حکومت سندھ کے سرد رویے اور متعلقہ وزیرخوراک کی عدم دلچسپی سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ آئندہ ہفتے فلورملوں کی ہڑتال کا دائرہ ملک گیر سطح پر وسیع ہوجائے گا کیونکہ سندھ کے حکمرانوں کو عوام اور صنعتوں کا مفاد عزیز نہیں ہے وہ صرف اپنی حکمرانی کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں لہٰذا صنعتوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے بجائے وہ دھونس اور دھمکیوں پر اترآئے ہیں لیکن فلورملیں اب کسی دھونس دھمکی میں نہیں آئے گی اور محکمہ خوراک کی غلط پالیسیوں، بدعنوانیوں اور رشوت ستانی کو ختم کرکے دم لیں گے، پیرکو لاہور میں آل پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کا جنرل باڈی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح سندھ سرکل کے اراکین شرکت کریں گے جنرل باڈی اجلاس میں فلورملوں کو درپیش مسائل پر غور اور اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کی85 فلورملوں میں سے 81 فلورملوں کی گزشتہ 6 دن سے جاری ہڑتال سے ناجائز منافع خوری کے لیے تھوک منڈی میں بلیک میلروں نے مہنگے داموں آٹے کی فروخت شروع کردی، ہڑتال کے باعث خوردہ سطح پر آٹے کی قلت پیدا ہوتے ہی جوڑیا بازار میں سیالکوٹ والا نامی آٹے کا تھوک فروش اور حاجی بلی نامی بروکر نے ہفتے کوڈھائی نمبر آٹے کی50 کلوگرام بوری کی قیمت خودساختہ طور پر360 روپے بڑھا کر 2100 تا 2150 روپے کردی ہے، فائن آٹے 50 کلو گرام کی حامل بوری کی قیمت400 روپے بڑھا کر 2450 روپے اور 50 کلوگرام میدے کی بوری کی قیمت 500 روپے بڑھاکر 2500 تا2550 روپے کردی ہے۔
خوردہ سطح پر آٹے کی قلت کی تصدیق کرتے ہوئے کراچی ریٹیل گروسرز گروپ کے سیکریٹری فرید قریشی نے بتایا کہ فلور ملوں کی 6 روز سے جاری ہڑتال کی وجہ سے خوردہ فروشوں کے پاس آٹے کا ذخیرہ تقریباً ختم ہوگیا ہے اور وہ تھوک منڈی سے مہنگے داموں آٹا خریدنے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ تھوک پر مہنگے داموں آٹا خریدکر عوام کو بھی مہنگے داموں آٹا فروخت کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں مہنگا آٹا فروخت کرنے کی تمام تر ذمے داری ریٹیلرز پر عائد ہوجائے گی، پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ سرکل کے چیئرمین چوہدری محمد یوسف نے بتایا کہ محکمہ خوراک کی حمایت یافتہ 4 فلورملوں نے ہڑتال سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے منافع خوری شروع کردی ہے جو جوڑیا بازار کے اپنے مخصوص بیوپاریوں کے ذریعے آٹا اور میدہ مہنگے داموں فروخت کروارہی ہیں۔
انھوں نے صوبائی وزیرخوراک سے استفسار کیا کہ وہ اپنے محکمے کی حمایت یافتہ فلورملوں کی تھوک منڈی میں مہنگے داموں آٹے کی فروخت پر بازپرس کیوں نہیں کر رہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی وزارت ہی کراچی میں آٹا مہنگا کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جس کی بعدازاں ذمے داری فلورملز مالکان پر عائد کردی جائے گی۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے اجلاس سے خطاب میں چیئرمین چوہدری محمدیوسف نے ممبران پر واضح کیا کہ حکومت سندھ کے سرد رویے اور متعلقہ وزیرخوراک کی عدم دلچسپی سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ آئندہ ہفتے فلورملوں کی ہڑتال کا دائرہ ملک گیر سطح پر وسیع ہوجائے گا کیونکہ سندھ کے حکمرانوں کو عوام اور صنعتوں کا مفاد عزیز نہیں ہے وہ صرف اپنی حکمرانی کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں لہٰذا صنعتوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے بجائے وہ دھونس اور دھمکیوں پر اترآئے ہیں لیکن فلورملیں اب کسی دھونس دھمکی میں نہیں آئے گی اور محکمہ خوراک کی غلط پالیسیوں، بدعنوانیوں اور رشوت ستانی کو ختم کرکے دم لیں گے، پیرکو لاہور میں آل پاکستان فلورملز ایسوسی ایشن کا جنرل باڈی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں ملک کے دیگر حصوں کی طرح سندھ سرکل کے اراکین شرکت کریں گے جنرل باڈی اجلاس میں فلورملوں کو درپیش مسائل پر غور اور اہم فیصلے کیے جائیں گے۔