افغانستان کے صدارتی انتخابات

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور سابق وزیر خزانہ اشرف غنی میں دوبارہ مقابلہ ہو گا جس کے لیے 7 جون کی تاریخ متوقع ہے۔۔۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور سابق وزیر خزانہ اشرف غنی میں دوبارہ مقابلہ ہو گا جس کے لیے 7 جون کی تاریخ متوقع ہے فوٹو: فائل

افغانستان کے صدارتی انتخابات کا حسب توقع فیصلہ کن نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا کیونکہ نمایاں امیدواروں میں سے کوئی ایک بھی پچاس فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا۔ چنانچہ اب دو انتخابی امیدواروں سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور سابق وزیر خزانہ اشرف غنی میں دوبارہ مقابلہ ہو گا جس کے لیے 7 جون کی تاریخ متوقع ہے۔

اگرچہ پہلے انتخابی راونڈ میں ڈاکٹر عبداللہ کے ووٹ چوالیس فیصد سے بھی قدرے متجاوز تھے جس سے ان کی فتح مندی کی امید بندھ گئی تھی تاہم پچاس فیصد کی مطلوبہ شرح تک نہ پہنچنے کے باعث اب انھیں دوبارہ خود کو رائے عامہ کے روبرو پیش کرنا ہو گا۔ تاہم اس مرتبہ ان کے مقابلے میں صرف ایک امیدوار یعنی اشرف غنی ہوں گے جنہوں نے پہلے راونڈ میں اکتیس فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

ان کے تیسرے حریف زلمے رسول صرف گیارہ فیصد ووٹ حاصل کرنے کے باعث اب دوسرے مرحلے میں شامل نہیں ہوں گے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی دونوں نے انتخابات پر دھاندلی کے الزامات عاید کیے ہیں جو کہ تیسری دنیا کے ممالک میں ہونے والے انتخابات میں بالعموم ایک معمول کی شکایت ہے۔


پاکستان میں ہونے والے تقریباً سبھی انتخابات پر دھاندلی اور جھرلو وغیرہ کے داغ لگتے رہے ہیں۔ تاہم بھارت کی جمہوریت اس اعتبار سے بلوغت کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ افغانستان کے الیکشن کمیشن، جس کا سرکاری نام آزاد الیکشن کمیشن ہے اس کے چیئرمین احمد نورستانی نے ہفتے کو ایک پریس کانفرنس میں پہلے انتخابی راونڈ کے سرکاری نتائج کا اعلان کیا۔ انھوں نے بتایا کہ انتخابات کا مجموعی طور پر ٹرن آوٹ چونسٹھ فیصد رہا جب کہ اڑھائی لاکھ کے لگ بھگ ووٹ مسترد کر دیے گئے۔

الیکشن کمشنر کے مطابق افغانستان میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ ہے جن میں سے چوسٹھ فیصد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور مجموعی طور پر انہتر لاکھ ووٹ کاسٹ ہوئے۔ ٹرن آوٹ میں مرد ووٹروں کا تناسب چونسٹھ فیصد جب کہ خواتین ووٹروں کا تناسب مردوں سے تقریباً نصف تھا۔ دریں اثنا ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو صدارتی انتخابات میں واضح برتری حاصل ہو چکی ہے مگر بعض عناصر انتخاب کو لازماً دوسرے مرحلے میں لے جانا چاہتے ہیں تا کہ ملک کو بحران میں دھکیلا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی جعلی ووٹوں کو درست بیلٹ پیپرز سے الگ نہیں کیا جا سکا جب کہ نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ دوسرا انتخابی مرحلہ زبردستی اور دھونس دھاندلی کے ذریعے عوام پر مسلط کیا جا رہا ہے جس کی ہم بھرپور مخالفت کریں گے۔

ڈاکٹر اشرف غنی کے ترجمان نے بھی انتخابات میں لاکھوں ووٹوں کی ہیرا پھیری کا الزام عاید کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن کے شکایات کے شعبے نے دھاندلی کے الزامات کی تحقیق کے لیے بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی گنتی دوبارہ شروع کرا دی ہے۔ بہرحال اب معاملہ دوسرے مرحلے تک چلا گیا ہے، دیکھیں افغانستان میں صدارت کے منصب پر کون فائز ہوتا ہے تاہم اگلے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ کے چانسز زیادہ ہیں کیونکہ انھیں مزید چھ فیصد ووٹ کی ضرورت ہے۔

ان کے مقابلے میں اشرف غنی کے لیے ایک پلس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ افغانستان کے پختون ووٹ لے سکتے ہیں کیونکہ ان کا تعلق بھی پختونوں سے ہے۔ زلمے رسول بھی پختون تھے اس لیے ممکن ہے کہ اگلے مرحلے میں زلمے رسول کو پڑنے والے ووٹ بھی اشرف غنی کو پڑ جائیں لیکن اس کے باوجود اشرف غنی کے لیے افغانستان کا صدر بننا مشکل ہے۔ اس لیے زیادہ قوی امکان یہ ہے کہ افغانستان کا اگلا صدر عبداللہ عبداللہ ہو سکتے ہیں۔
Load Next Story