صدر مملکت کا خطاب
موجودہ حکومت کاشغر اور گوادر کو سڑک اور ریل کے ذریعے ملانے کے لیے سرگرم ہے
موجودہ حکومت کاشغر اور گوادر کو سڑک اور ریل کے ذریعے ملانے کے لیے سرگرم ہے،صدر ممنون حسین فوٹو: پی آئی ڈی /فائل
صدر مملکت ممنون حسین نے ساؤتھ ایشیا لیبر کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن وامان کا مسئلہ ہمارا پیدا کردہ نہیں' یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی بلکہ خطے میں دوسرے لوگوں نے شروع کی اور اس کی مصیبت ہم جھیل رہے ہیں' جنوبی ایشیا کے ممالک کو امن' جمہوریت' انصاف' تحمل اور برداشت کو فروغ دینا ہو گا اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کاوشیں کرنا ہوں گی' انسانی وسائل کی ترقی سے خطے کے ممالک غربت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔
صدر ممنون حسین نے ملک میں امن و امان کے حوالے سے موجود جن مسائل کی نشاندہی کی ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جس جنگ کا آغاز کیا اس سے افغانستان کا خطہ تو متاثر ہوا ہی پاکستان پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ یہ جنگ جنھوں نے شروع کی وہ اور ان کے عوام تو محفوظ رہے مگر اس کے عذاب اور مصیبتیں پاکستان کو بھی جھیلنا پڑیں۔ اب امریکا افغانستان چھوڑ کر جا رہا ہے مگر اس جنگ کے جو تکلیف دہ اثرات جنم لے چکے ہیں پاکستان کو ان سے کئی عشروں تک نمٹنا پڑے گا۔ دہشت گردی کے خاتمے کی اس جنگ سے پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ سول ریاستی ادارے اس مسئلے کو حل کرنے میں بے بس ہو گئے تو مجبوراً حکومت کو ریاستی رٹ بحال کرنے کے لیے فوج سے مدد لینا پڑی۔
آج صورت حال اس قدر گمبھیر ہو چکی ہے کہ تمام حکومتی سیکیورٹی ادارے امن و امان بحال کرنے کے لیے تگ ودو کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کی اس جنگ نے جہاں پاکستان میں امن و امان کے مسائل جنم دیے وہاں اس نے اس کی معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ حکومت کو اپنے وسائل کا خطیر حصہ معیشت کی بحالی اور عوام کی خوشحالی کے بجائے امن و امان کی بحالی پر صرف کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ خوش آیند امر ہے کہ حکومت ملک کو درپیش مسائل اور چیلنجز سے فرار حاصل کرنے کے بجائے ان سے نمٹنے کے لیے پرعزم اور ان پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے برسراقتدار آنے کے بعد ملک کی دگرگوں معیشت کو درست راستے پر رواں دواں کرنے کے لیے اپنی کوششوں کا آغاز کر دیا۔ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی طرف راغب ہونا حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر اعتماد پر دلالت کرتا ہے۔
چین پاکستان میں بتیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ جس تیزی سے غیرملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب ہو رہی ہیں اس سے یہ امید جنم لے رہی ہے کہ جلد ہی ملک میں معاشی خوشحالی کے دروازے وا ہو جائیں گے۔ جمعے کو بلوچستان کے دورہ کے موقعے پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گوادر کو دبئی' سنگاپور اور ہانگ کانگ کی طرز پر فری پورٹ کی حیثیت سے ترقی دینے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ حکومت گوادر کی ترقی کے لیے وسیع البنیاد منصوبہ رکھتی ہے۔ بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال غیرتسلی بخش ہے، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم نے واضح کیا کہ علاقے میں مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے غیرملکی شہریوں بالخصوص چینی باشندوں کے تحفظ کے لیے نئی سیکیورٹی فورس بھی قائم کی جائے گی۔
موجودہ حکومت کاشغر اور گوادر کو سڑک اور ریل کے ذریعے ملانے کے لیے سرگرم ہے،یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس سے بلوچستان میں تجارتی ترقی کے نئے راستے کھل جائیں گے، اس کے علاوہ پاکستان' چین اقتصادی راہداری کے لیے 162 ارب روپے صرف بلوچستان کے لیے وقف کیے گئے ہیں۔ اسی جانب صدر ممنون حسین نے بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے آیندہ پانچ سال میں پاکستان خطے کا سب سے اہم ملک بننے جا رہا ہے۔ اس سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک کو فائدہ ہو گا' روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور خوشحالی آئے گی۔ جنوبی ایشیا کے ممالک کی معاشی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو جو تصویر ابھرتی ہے وہ مسائل زدہ ہے۔
جنوبی ایشیا کے تمام ممالک غربت' جہالت اور بیماریوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کے عوام کی بڑی اکثریت پسماندگی کا عذاب جھیل رہی ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک کے باہمی تنازعات بھی ان کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں،ان ممالک کو بھی اس کا بخوبی ادراک ہے مگر اس سب کے باوجود وہ انھیں ختم کرنے پر خلوص نیت سے کام نہیں کر رہے ۔صدر ممنون حسین نے اس مسئلے کا واضح حل بتاتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا کے ممالک کو غربت کے خاتمے اور انسانی وسائل کو ترقی دینے کے لیے مشترکہ کاوشیں کرنا ہوں گی۔
دریں اثنا وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت ہونے والی اقتصادی مشاورتی کونسل میں اس حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اقتصادی مشاورتی کونسل نے غربت کے لیے جو پیمانہ مقرر کیا ہے اس کے مطابق اب پاکستان میں 2 ڈالر یا 200 روپے یومیہ سے کم آمدنی رکھنے والا فرد غریب تصور ہو گا۔ غربت کے اس نئے پیمانے کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی نصف آبادی غربت کی چکی میں پس رہی ہے۔ اس سے قبل سوا ڈالر یا سوا سو روپیہ کمانے والا فرد غریب تصور ہوتا تھا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے غربت کے لیے دو سو روپے یومیہ آمدن کا یہ پیمانہ مقرر کیا ہے وہ درست نہیں، مہنگائی جس قدر بڑھ چکی ہے اس حساب سے کم از کم پانچ سو روپے یومیہ آمدن سے کم کمانے والا غریب تصور ہونا چاہیے۔ معاشی ماہرین کے اس پیمانے کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی 70فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کے دن گزار رہی ہے۔ موجودہ حکومت ملک میں معاشی انقلاب لانے کے لیے جس راستے پر چل رہی ہے ہماری دعا ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہو جائے اور پاکستان کا شمار خوشحال ممالک میں ہونے لگے۔
صدر ممنون حسین نے ملک میں امن و امان کے حوالے سے موجود جن مسائل کی نشاندہی کی ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکا نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جس جنگ کا آغاز کیا اس سے افغانستان کا خطہ تو متاثر ہوا ہی پاکستان پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ یہ جنگ جنھوں نے شروع کی وہ اور ان کے عوام تو محفوظ رہے مگر اس کے عذاب اور مصیبتیں پاکستان کو بھی جھیلنا پڑیں۔ اب امریکا افغانستان چھوڑ کر جا رہا ہے مگر اس جنگ کے جو تکلیف دہ اثرات جنم لے چکے ہیں پاکستان کو ان سے کئی عشروں تک نمٹنا پڑے گا۔ دہشت گردی کے خاتمے کی اس جنگ سے پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ سول ریاستی ادارے اس مسئلے کو حل کرنے میں بے بس ہو گئے تو مجبوراً حکومت کو ریاستی رٹ بحال کرنے کے لیے فوج سے مدد لینا پڑی۔
آج صورت حال اس قدر گمبھیر ہو چکی ہے کہ تمام حکومتی سیکیورٹی ادارے امن و امان بحال کرنے کے لیے تگ ودو کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کی اس جنگ نے جہاں پاکستان میں امن و امان کے مسائل جنم دیے وہاں اس نے اس کی معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ حکومت کو اپنے وسائل کا خطیر حصہ معیشت کی بحالی اور عوام کی خوشحالی کے بجائے امن و امان کی بحالی پر صرف کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ خوش آیند امر ہے کہ حکومت ملک کو درپیش مسائل اور چیلنجز سے فرار حاصل کرنے کے بجائے ان سے نمٹنے کے لیے پرعزم اور ان پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے برسراقتدار آنے کے بعد ملک کی دگرگوں معیشت کو درست راستے پر رواں دواں کرنے کے لیے اپنی کوششوں کا آغاز کر دیا۔ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی طرف راغب ہونا حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر اعتماد پر دلالت کرتا ہے۔
چین پاکستان میں بتیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ جس تیزی سے غیرملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب ہو رہی ہیں اس سے یہ امید جنم لے رہی ہے کہ جلد ہی ملک میں معاشی خوشحالی کے دروازے وا ہو جائیں گے۔ جمعے کو بلوچستان کے دورہ کے موقعے پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے گوادر کو دبئی' سنگاپور اور ہانگ کانگ کی طرز پر فری پورٹ کی حیثیت سے ترقی دینے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ حکومت گوادر کی ترقی کے لیے وسیع البنیاد منصوبہ رکھتی ہے۔ بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال غیرتسلی بخش ہے، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم نے واضح کیا کہ علاقے میں مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے غیرملکی شہریوں بالخصوص چینی باشندوں کے تحفظ کے لیے نئی سیکیورٹی فورس بھی قائم کی جائے گی۔
موجودہ حکومت کاشغر اور گوادر کو سڑک اور ریل کے ذریعے ملانے کے لیے سرگرم ہے،یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس سے بلوچستان میں تجارتی ترقی کے نئے راستے کھل جائیں گے، اس کے علاوہ پاکستان' چین اقتصادی راہداری کے لیے 162 ارب روپے صرف بلوچستان کے لیے وقف کیے گئے ہیں۔ اسی جانب صدر ممنون حسین نے بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے آیندہ پانچ سال میں پاکستان خطے کا سب سے اہم ملک بننے جا رہا ہے۔ اس سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک کو فائدہ ہو گا' روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور خوشحالی آئے گی۔ جنوبی ایشیا کے ممالک کی معاشی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو جو تصویر ابھرتی ہے وہ مسائل زدہ ہے۔
جنوبی ایشیا کے تمام ممالک غربت' جہالت اور بیماریوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کے عوام کی بڑی اکثریت پسماندگی کا عذاب جھیل رہی ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک کے باہمی تنازعات بھی ان کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں،ان ممالک کو بھی اس کا بخوبی ادراک ہے مگر اس سب کے باوجود وہ انھیں ختم کرنے پر خلوص نیت سے کام نہیں کر رہے ۔صدر ممنون حسین نے اس مسئلے کا واضح حل بتاتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا کے ممالک کو غربت کے خاتمے اور انسانی وسائل کو ترقی دینے کے لیے مشترکہ کاوشیں کرنا ہوں گی۔
دریں اثنا وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیرصدارت ہونے والی اقتصادی مشاورتی کونسل میں اس حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اقتصادی مشاورتی کونسل نے غربت کے لیے جو پیمانہ مقرر کیا ہے اس کے مطابق اب پاکستان میں 2 ڈالر یا 200 روپے یومیہ سے کم آمدنی رکھنے والا فرد غریب تصور ہو گا۔ غربت کے اس نئے پیمانے کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی نصف آبادی غربت کی چکی میں پس رہی ہے۔ اس سے قبل سوا ڈالر یا سوا سو روپیہ کمانے والا فرد غریب تصور ہوتا تھا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے غربت کے لیے دو سو روپے یومیہ آمدن کا یہ پیمانہ مقرر کیا ہے وہ درست نہیں، مہنگائی جس قدر بڑھ چکی ہے اس حساب سے کم از کم پانچ سو روپے یومیہ آمدن سے کم کمانے والا غریب تصور ہونا چاہیے۔ معاشی ماہرین کے اس پیمانے کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی 70فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کے دن گزار رہی ہے۔ موجودہ حکومت ملک میں معاشی انقلاب لانے کے لیے جس راستے پر چل رہی ہے ہماری دعا ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہو جائے اور پاکستان کا شمار خوشحال ممالک میں ہونے لگے۔