گزشتہ کاروباری ہفتے عالمی کاٹن ایکچینجز میں تیزی ملکی منڈیوں میں سرگرمیاں منجمد
روئی اوریارن ایکسپورٹرز کو 10فیصد اضافی مراعات دئیے بغیر ٹیکسٹائل انڈسٹری کا بحران ختم نہ ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے
فیصل آباد میں دنیاکی سب سے بڑی چینی ٹیکسٹائل مل قائم ہونے سے روئی کی کھپت بڑھ جائے گی، احسان الحق۔ فوٹو: فائل
امریکا سے چین کی دوبارہ روئی کی خریداری اوربھارت سے سوتی دھاگے کے خریداری معاہدے شروع ہونے کے باعث گزشتہ ہفتے بین الاقوامی منڈیوں میں روئی کی تجارتی سرگرمیوں اورقیمت میں تیزی کا رحجان غالب رہا۔
تاہم پاکستان میں اسکے برعکس ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے سوتی دھاگے کی خریداری اور برآمدی سرگرمیاں منجمد ہونے کے باعث مقامی کاٹن مارکیٹوں میں نہ توروئی کی تجارتی سرگرمیاں بڑھیں اور نہ ہی ان کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان غالب ہوسکا۔ حکومت کی جانب سے کاٹن اور کاٹن یارن ایکسپورٹرز کو 10فیصد اضافی مراعات دیے بغیر پاکستانی کاٹن انڈسٹری میں جاری بحران ختم نہ ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
اس ضمن میں پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے رکن احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران جاری ہونے والی امریکی کاٹن ایکسپورٹ رپورٹ کے مطابق 17اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا سے مجموعی طور پر 1لاکھ 24ہزار روئی کی بیلز کے برآمدی سودے طے پائے جن میں سے چین نے ریکارڈ 1لاکھ 5ہزار روئی کی بیلز امریکا سے خریدیں جبکہ بھارت کی جانب سے اپنے کاٹن یارن ایکسپورٹرز کو 5فیصد اضافی مراعات دیے جانے کے باعث بھارتی کاٹن یارن ایکسپورٹرز بڑے پیمانے پر چین کو سوتی دھاگے کی برآمد کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے روئی کی خریداری شروع نہ ہونے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بڑھتی ہوئی قیمت کے باعث سوتی دھاگے کی برآمدات میں بھی روز بروز کمی ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 25مارچ کو لا ڈویژن کی جانب سے جب سوتی دھاگے کی درآمد پر 5فیصد درآمدی ڈیوٹی کے نفاذ کی منظوری دی گئی تھی تو اصولی طور پر اسکاعملی نفاذبھی فوری طور پر ہو جانا چاہیے تھا لیکن وفاقی وزیر خزانہ کے غیر ملکی دورے کے باعث اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس تین ہفتے کے تاخیر سے 17اپریل کو منعقد ہوا اور جس میں مذکورہ ڈیوٹی کے نفاذ کی منظوری دی گئی لیکن ان تین ہفتوں کے دوران پاکستانی ٹیکسٹائل ملزمالکان نے بڑے پیمانے پر بھارت سے ڈیوٹی فری سوتی دھاگے کی درآمد جاری رکھی اور اطلاعات کے مطابق ان ٹیکسٹائل ملز مالکان کے پاس اب اتنا زیادہ سوتی دھاگہ ابھی تک پڑا ہوا ہے کہ شاید انہیں آئندہ تین ،چار ماہ تک سوتی دھاگے کی خریداری کی ضرورت ہی نہ پڑے، اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ کاٹن اور کاٹن یارن کی برآمدات پر فوری طور پر 10فیصد اضافی مراعات کا اعلان کرے تاکہ پاکستان کاٹن انڈسٹری کی سانس بحال ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت سے ڈیوٹی فری سوتی دھاگے کی درآمدی سہولت کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان نے جولائی /فروری 2013-14 کے دوران بھارت سے 2کروڑ 97لاکھ295کلو گرام دھاگہ درآ مد کیا جو سال 2012-13 کے اسی عرصے کے مقابلے میں ریکارٹ 98فیصد زائد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکس چینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 0.35 سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 94.20سینٹ، جولائی ڈلیوری روئی کے سودے 0.91 سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 93.25سینٹ فی پائونڈ، بھارت میں روئی کی قیمتیں ریکارڈ 927روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 42ہزار 300 روپے فی کینڈی، جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 6ہزار 400 روپے فی من تک مستحکم رہے۔
احسان الحق نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق چین نے فیصل آباد میں دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل مل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو 6لاکھ اسپنڈلز پر مشتمل ہو گی۔ معلوم ہواہے کہ فیصل آباد کے نزدیک سائیاں والا کے مقام پر چین نے کچھ عرصے قبل مسعود ٹیکسٹائل ملز نامی ایک ٹیکسٹائل مل خریدی تھی جسے بڑھا کر 6لاکھ اسپنڈلز تک لے جایا جائے گا جس سے توقع ہے کہ پاکستان میں روئی کی کھپت میں بھی غیر معمولی اضافہ سامنے آئے گا جبکہ معلوم ہوا ہے کہ چین نے پاکستان سے آئل کیک (کھل بنولہ) بھی بڑے پیمانے پر درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور فیصل آباد میں اس مقصد کیلیے ایک پلانٹ نصب کیا گیا ہے جو 30کلو آئل کیک کو پیس کر ایک پیزے کی شکل میں تبدیل کرے گا جسے بعد میں کنٹینرز کے ذریعے چین برآمد کیا جائیگا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران گورنر پنجاب محمد سرور نے فصیل آباد میں ایک زرعی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں اگلے سال کپاس کی پیداوار جو اس وقت 13ملین بیلز کے برابر ہے، کو بڑھا کر 26ملین بیلز تک کر دیا جائیگا۔معلوم ہوا ہے کہ گورنر پنجاب کی اس بڑھک پر سیمینار کے شرکا ہنس دیے اور تبصرہ کیا گیا ہے کپاس کا بیج فروخت کرنیوالی کسی ملٹی نیشنل کمپنی نے پاکستان میں اپنا بیج فروخت کرنے کیلیے گورنر پنجاب کو کوئی خاص بریفنگ دی ہے جبکہ زرعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی مخصوص آب وہوا کے باعث یہاں کوئی غیر ملکی کپاس کا بیج ابھی تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ یاد رہے کہ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے خاص طور پر چین سے کپاس کی کئی اقسام کے بیج پاکستان میں کاشت کرائے لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔
تاہم پاکستان میں اسکے برعکس ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے سوتی دھاگے کی خریداری اور برآمدی سرگرمیاں منجمد ہونے کے باعث مقامی کاٹن مارکیٹوں میں نہ توروئی کی تجارتی سرگرمیاں بڑھیں اور نہ ہی ان کی قیمتوں میں اضافے کا رحجان غالب ہوسکا۔ حکومت کی جانب سے کاٹن اور کاٹن یارن ایکسپورٹرز کو 10فیصد اضافی مراعات دیے بغیر پاکستانی کاٹن انڈسٹری میں جاری بحران ختم نہ ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
اس ضمن میں پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے رکن احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران جاری ہونے والی امریکی کاٹن ایکسپورٹ رپورٹ کے مطابق 17اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکا سے مجموعی طور پر 1لاکھ 24ہزار روئی کی بیلز کے برآمدی سودے طے پائے جن میں سے چین نے ریکارڈ 1لاکھ 5ہزار روئی کی بیلز امریکا سے خریدیں جبکہ بھارت کی جانب سے اپنے کاٹن یارن ایکسپورٹرز کو 5فیصد اضافی مراعات دیے جانے کے باعث بھارتی کاٹن یارن ایکسپورٹرز بڑے پیمانے پر چین کو سوتی دھاگے کی برآمد کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے روئی کی خریداری شروع نہ ہونے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بڑھتی ہوئی قیمت کے باعث سوتی دھاگے کی برآمدات میں بھی روز بروز کمی ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 25مارچ کو لا ڈویژن کی جانب سے جب سوتی دھاگے کی درآمد پر 5فیصد درآمدی ڈیوٹی کے نفاذ کی منظوری دی گئی تھی تو اصولی طور پر اسکاعملی نفاذبھی فوری طور پر ہو جانا چاہیے تھا لیکن وفاقی وزیر خزانہ کے غیر ملکی دورے کے باعث اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس تین ہفتے کے تاخیر سے 17اپریل کو منعقد ہوا اور جس میں مذکورہ ڈیوٹی کے نفاذ کی منظوری دی گئی لیکن ان تین ہفتوں کے دوران پاکستانی ٹیکسٹائل ملزمالکان نے بڑے پیمانے پر بھارت سے ڈیوٹی فری سوتی دھاگے کی درآمد جاری رکھی اور اطلاعات کے مطابق ان ٹیکسٹائل ملز مالکان کے پاس اب اتنا زیادہ سوتی دھاگہ ابھی تک پڑا ہوا ہے کہ شاید انہیں آئندہ تین ،چار ماہ تک سوتی دھاگے کی خریداری کی ضرورت ہی نہ پڑے، اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ کاٹن اور کاٹن یارن کی برآمدات پر فوری طور پر 10فیصد اضافی مراعات کا اعلان کرے تاکہ پاکستان کاٹن انڈسٹری کی سانس بحال ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت سے ڈیوٹی فری سوتی دھاگے کی درآمدی سہولت کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان نے جولائی /فروری 2013-14 کے دوران بھارت سے 2کروڑ 97لاکھ295کلو گرام دھاگہ درآ مد کیا جو سال 2012-13 کے اسی عرصے کے مقابلے میں ریکارٹ 98فیصد زائد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکس چینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 0.35 سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 94.20سینٹ، جولائی ڈلیوری روئی کے سودے 0.91 سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 93.25سینٹ فی پائونڈ، بھارت میں روئی کی قیمتیں ریکارڈ 927روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 42ہزار 300 روپے فی کینڈی، جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 6ہزار 400 روپے فی من تک مستحکم رہے۔
احسان الحق نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق چین نے فیصل آباد میں دنیا کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل مل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو 6لاکھ اسپنڈلز پر مشتمل ہو گی۔ معلوم ہواہے کہ فیصل آباد کے نزدیک سائیاں والا کے مقام پر چین نے کچھ عرصے قبل مسعود ٹیکسٹائل ملز نامی ایک ٹیکسٹائل مل خریدی تھی جسے بڑھا کر 6لاکھ اسپنڈلز تک لے جایا جائے گا جس سے توقع ہے کہ پاکستان میں روئی کی کھپت میں بھی غیر معمولی اضافہ سامنے آئے گا جبکہ معلوم ہوا ہے کہ چین نے پاکستان سے آئل کیک (کھل بنولہ) بھی بڑے پیمانے پر درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور فیصل آباد میں اس مقصد کیلیے ایک پلانٹ نصب کیا گیا ہے جو 30کلو آئل کیک کو پیس کر ایک پیزے کی شکل میں تبدیل کرے گا جسے بعد میں کنٹینرز کے ذریعے چین برآمد کیا جائیگا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران گورنر پنجاب محمد سرور نے فصیل آباد میں ایک زرعی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں اگلے سال کپاس کی پیداوار جو اس وقت 13ملین بیلز کے برابر ہے، کو بڑھا کر 26ملین بیلز تک کر دیا جائیگا۔معلوم ہوا ہے کہ گورنر پنجاب کی اس بڑھک پر سیمینار کے شرکا ہنس دیے اور تبصرہ کیا گیا ہے کپاس کا بیج فروخت کرنیوالی کسی ملٹی نیشنل کمپنی نے پاکستان میں اپنا بیج فروخت کرنے کیلیے گورنر پنجاب کو کوئی خاص بریفنگ دی ہے جبکہ زرعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی مخصوص آب وہوا کے باعث یہاں کوئی غیر ملکی کپاس کا بیج ابھی تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ یاد رہے کہ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے خاص طور پر چین سے کپاس کی کئی اقسام کے بیج پاکستان میں کاشت کرائے لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔