کراچی سمیت سندھ بھر میں پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلیے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ جاری

فوج اور آئی ایس آئی قومی سلامتی کی ضامن ہے اس کے خلاف ہرزہ سرائی ناقابل قبول ہے، مقررین

کراچی میں مختلف جماعتوں اور تنظیموں کے تحت فوج کی حمایت میں مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ فوٹو: فائل

کراچی سمیت سندھ بھر میں پاک فوج اورآئی ایس آئی کی حمایت میں جنگ و جیوکے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

اتوارکو کراچی میں سنی اتحادکونسل اورانجمن نوجوانان اسلام کراچی کی جانب سے افواج پاکستان اورعوام سے اظہار یکجہتی کے لیے آئی آئی چندریگرروڈ پر جنگ وجیو کے دفترکے سامنے احتجاجی دھرنادیا گیا۔ جبکہ اہل سنت والجماعت کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہرعلامہ اللہ وسایاصدیقی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ادھرکراچی میںدیرپا امن اورافواج پاکستان سے اظہاریکجہتی کے لیے مہاجرقومی موومنٹ پاکستان خواتین ونگ کے زیراہتمام شاہین کمپلیکس سے کراچی پریس کلب تک امن واک کااہتمام کیاگیا۔ تفصیلات کے مطابق سنی اتحادکونسل کے احتجاجی دھرنے سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان کی حمایت ویکجہتی کے لیے پوری قوم ہم آواز ہے جبکہ جنگ و جیو حامد میر پر حملے کی آڑ میں آئی ایس آئی پر الزام عائد کرکے قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

آزادی صحافت کا غلط فائدہ اٹھاکر قومی سلامتی کے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانا ملکی مفادات کے یکسر منافی ہے جسے کوئی محب وطن برداشت نہیں کرسکتا۔ طارق محبوب نے کہاکہ ایک طرف حب الوطنی کے دعوے تو دوسری طرف دشمنوں جیسا رویہ اورہٹ دھرمی مضحکہ خیز بات ہے۔ پاکستان بنانے والے پاکستان یاپاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف کسی قسم کی تنقید، الزامات اوربے بنیاد باتیں کسی صورت برداشت نہیں کریںگے۔ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تصویر کے ساتھ نیوزنشر کرنے کا مقصد ابھی تک جنگ جیوکے لفاظی کرنے والے واضح نہیں کرسکے اوراب اپنے کیے پرمعافی اورشرمندگی کے بجائے ہٹ دھرمی کرکے قوم کو ورغلانے اور دھوکادینے میں لگے ہوئے ہیں۔ کراچی سمیت ملک بھرکے عوام پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس موقع پر شرکافوج اورآئی ایس آئی کے حق میںنعرے لگاتے رہے۔

قائدین نے عدالت عظمیٰ سے باربار اپیل کی کہ وہ ملکی سلامتی کے برخلاف کام کرنے، پاک فوج پر بلاوجہ تنقیدکرنے اورآئی ایس آئی پرجھوٹے الزامات عائدکرنے کا سختی سے نوٹس لے کرجیو اورجنگ گروپ کے براڈکاسٹنگ اوراشاعتی لائسنس منسوخ کرکے محب وطن عوام کے جذبات کی ترجمانی کی جائے۔ انھوں نے میرشکیل الرحمن اور میر جاوید رحمن سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ اور جیو سے کالی بھیڑوں کو فوری نکالیں، پاک فوج اور آئی ایس آئی کی 9گھنٹے میڈیا ٹرائل پر عوام پاکستان، افواج پاکستان سے اعلانیہ معافی مانگیں۔ انھوں نے 30اپریل کو یوم شہداافواج پاکستان منانے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آبادڈی چوک پر جلسہ عام کے موقع پر جیو ہیڈآفس کا گھیرائو کیا جائے گا۔ جماعۃ الدعوۃ کراچی کے امیرڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ حامدمیر پرحملے کی آڑ میں افواج پاکستان کے خلاف مہم چلانا ناقابل برداشت ہے۔

ان کی قیادت میںسفاری پارک سے کراچی پریس کلب تک عظیم الشان استحکام پاکستان ریلی نکالی گئیجس میںشہر بھرسے طلبا، وکلا، تاجروں، سول سوسائٹی اوردیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروںافراد نے شرکت کی۔ شرکانے پلے کارڈزاور بینرزاٹھا رکھے تھے جن پرایک قوم ایک آوازپاک فوج زندہ باد، عوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں جیسے جملے درج تھے۔ اس موقع پر پاک فوج زندہ باد، آئی ایس آئی سے رشتہ کیا، لاالہ الااللہ سمیت دیگرفلک شگاف نعرے بھی لگائے جاتے رہے۔ عوامی مسلم لیگ کے رہنما محفوظ یارخان ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ افواج پاکستان کے خلاف جیوٹی وی شرمناک کردار ادا کر رہا ہے جیو کی سرگرمیاں پیمرا قوانین کے منافی ہیں۔

متحدہ علمامحاذ پاکستان کے بانی و سیکریٹری جنرل مولانا محمد امین انصاری اورمحاذ میں شامل علما، مشائخ و مفتیان کرام نے اپنے مشترکہ بیان میں آئی ایس آئی پر اشتعال انگیز اور بے بنیاد الزام لگانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پیمرا سے جنگ و جیو کا لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ معروف عالم اورجامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے کہاکہ پاکستان کاہرطبقہ فکر حامدمیر پرحملے کی مذمت کرتاہے اوران سے ہمدردی کااظہارکرتاہے لیکن جس اندازمیں اس حادثے کوفوج اور آئی ایس آئی کیخلاف استعمال کیاگیایہ کسی بھی محب وطن کیلیے کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کایہ مطلب ہرگزنہیں کہ ملکی وقومی اداروںکی اس طرح عزت پامال کی جائے جس طرح دشمن کرتے ہیں۔

حامدمیر کے ساتھ پیش آئے حادثے کے پس منظروپیش منظرسے محسوس ہوتاہے کہ حامد میر کو استعمال کیاگیا ہے۔ انھوںنے مزیدکہاکہ سیاسی ومذہبی جماعتوںکی جانب سے جنگ وجیوگروپ سے معافی کامطالبہ صحیح ہے۔ اہل سنت والجماعت کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہراحتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اللہ وسایا صدیقی ودیگر نے کہا کہ حامدمیر پر حملے کی خبراور ان کے بھائی کابیان نشر کرنا صحافتی ذمے داری تھی لیکن جیوانتظامیہ نے جس اندازمیں آئی ایس آئی چیف ظہیرالاسلام کی تصویر لگا کر 8 گھنٹے تک تماشا لگایاوہ قابل مذمت ہے۔ رہنمائوںنے کہا کہ موجودہ صورتحال بھارت کے مفاد میں ہے۔ بھارت نے حامدمیر حملے کوآڑ بنا کر آئی ایس آئی اورپاک فوج کے خلاف جو منفی اور زہریلا پروپیگنڈاکیا ہے اس سے ہر باشعور پاکستانی پاک فوج کے خلاف ہونے والی بڑی سازش کو محسوس کر رہا ہے۔


آج ہر پاکستانی اپنی فوج کی پشت پر کھڑا ہے۔ پاکستان میں بھارت، اسرائیل، امریکاکے نمک خوار موجود ہیںجو پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے ذمے دارہیں۔ مہاجرقومی موومنٹ (پاکستان) خواتین ونگ کے زیراہتمام شاہین کمپلیکس سے کراچی پریس کلب تک امن واک کا اہتمام کیا گیا۔ واک کے شرکانے کراچی میںدیرپا امن اورافواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔خطاب کرتے ہوئے مہاجرقومی موومنٹ پاکستان کے وائس چیئرمین شمشادخان غوری نے کہا کہ ہمیںملکی فوج پر فخرہے۔ میڈیا پر چلائے گئے بیانات میں حقیقت نہیں، سازش کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ مہاجرقوم ہر موقع پر افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ حیدر آباد میں تنظیم بزم شاہد نے پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا۔ کرپٹ میڈیا کے دو پتلے بھی جلائے گئے۔

جیکب آباد میں سنی تحریک نے سکھرمیں سکھر پارٹیز الائنس نے منارہ روڈ سے پریس کلب تک ریلی نکالی۔ مقررین نے کہا باوقار ادارے پرالزام عائد کرنیوالوں کو نشان عبرت بنا دیںگے۔ لاڑکانہ میں فیڈریشن آف ٹریڈ ایسوسی ایشنز کا اجلاس کینڈی مارکیٹ میں طارق نظیر شیخ کی زیر صدارت ہوا جس میں پاک فوج اور آئی ایس آئی کے متعلق منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی اداروں کی ہمت افزائی کیلیے اور پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف ریلی نکالی جائے گی۔ جیکب آباد میں پاکستان سنی تحریک کی جانب سے پاک فوج کی حمایت میں مسجد سید عبدالنبی شاہ سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی اور ڈی سی چوک پر ٹائر نذر آتش کیے گئے۔ کوٹ ڈیجی میں سیاسی و سماجی رہنمائوںنے جیو نیوز کی جانب سے آئی ایس آئی کیخلاف ہرزہ سرائی پر احتجاج کیا۔

پاک فوج اورآئی ایس آئی سے اظہاریکجہتی کے لیے گزشتہ روزبھی پنجاب وبلوچستان میں مظاہرے ہوئے اورریلیاں نکالی گئیں۔ مقررین نے کہا کہ فوج اور آئی ایس آئی قومی سلامتی کی ضامن ہے اس کے خلاف ہرزہ سرائی ناقابل قبول ہے، الزامات لگانے والوں نے غیرملکی ایجنڈا پورا کیا، جیو کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔ لاہور میں تنظیم مشائخ وعظام نے صوفی مسعود احمد صدیقی کی قیادت میں ناصر باغ سے داتا دربارتک ریلی نکالی جس میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ سنی تحریک نے بھی ناصر باغ سے ریلی نکالی۔ جمعیت مشائخ پاکستان کے قائد پیر فضل حق نے کہا کہ آئی ایس آئی کو بدنام کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔تحریک صراط مستقیم پاکستان نے لاہور پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا۔

سنی اتحاد کونسل کے زیراہتمام جامعہ رضویہ میں 30اہلسنّت تنظیموں کا مشترکہ اجلاس چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا جنگ اور جیو دفاعی اداروں کی کردار کشی پر قوم اور فوج سے معافی مانگیں۔ ''فوج حمایت تحریک'' چلائی جائے گی اور ہر ضلع میں ''پاک فوج زندہ باد کانفرنس'' منعقد کی جائے گی۔ 11مئی کو ''یومِ مذمت دھاندلی'' منایا جائے گا۔ اس موقع پر ملک بھر میں انتخابی دھاندلیوں کے خلاف مظاہرے ہوں گے اور الیکشن کمیشن کے سامنے دھرنا دیا جائیگا۔ دفاعی اداروں پر الزام تراشی کرنے والوں پر غداری کے مقدمے چلائے جائیں۔ حامد رضا نے کہا کہ حکومت خاموش تماشائی بننے کے بجائے کھل کر ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہو۔ سرگودھا میں فوج کی وردیوں میں ملبوس بچوں اور شہریوں نے ریلی نکالی۔

لک ہائوس سے نکالی جانے والی ریلی مختلف بازاروںسے ہوتی ہوئی شاہین چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ملتان میں متحدہ شہری محاذ کی ریلی میں شرکانے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ آل پاکستان مسلم لیگ کی ریلی میں مقررین نے جیو ٹی وی کا لائسنس منسوخ کرے اور پورے پاکستان میں جنگ گروپ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ کبیروالا میں مختلف تنظیموں اور جماعتوں نے ریلی نکالی، بہاولپور میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے 250 سے زائد آئمہ مساجد اور خطباء کا اجلاس ہوا جس میں جیو کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔ صادق آباد میں مختلف تنظیموں نے غوثیہ چوک سے سجاول چوک تک ریلی نکالی۔

سبی سے نمائندے کے مطابق ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں پاک فوج کی حمایت میں میر غلام قادر مسوری بگٹی کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پاکستان چوک پہنچی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاک افواج اور آئی ایس آئی کیخلاف ہرزہ سرائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک انصاف نے حق نواز پارک سے پریس کلب تک ریلی نکالی، نوشہرہ میں قومی کمیشن برائے بین المذاہب ہم آہنگی اور تحفظ انسانی حقوق پاکستان کے زیر اہتمام شوبرا چوک سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی۔

ریلی کے شرکا نے پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے۔ بنوں، سوات اور دیگر شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں۔ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں پاکستان ہاؤس سوئی سے چیف آف مسوری میر غلام قادر بگٹی کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔ مقررین نے کہا زرد صحافت کا خاتمہ وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ بگٹی قبائل پاکستان کیخلاف ہونے والے سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔مظفر آباد آزاد کشمیر میں بھی ریلی نکال کر پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔ پشاور میں سابق فوجی افسران نے کینٹ میں ریلی نکالی اور وفاقی حکومت سے جنگ گروپ اور جیو ٹی وی چینل کی بندش کا مطالبہ کیا۔
Load Next Story