دہلی کالونی دھماکے میں 2 اسٹروک ویسپا رکشا استعمال کیا گیا
پولیس نے 2013 سے چوری اور چھینے جانے والے رکشوں کا ریکارڈ حاصل کرلیا
بم دھماکے کو 4 روز گزر جانے کے باجود تفتیش میں اہم پیش رفت نہیں ہو سکی۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل
دہلی کالونی بم دھماکے میں 2 اسٹروک ویسپا رکشا استعمال کیا گیا۔
تفتیشی پولیس نے 2013 سے چوری اور چھینے جانے والے رکشوں کا ریکارڈ حاصل کر کے تفتیش شروع کردی، تفصیلات کے مطابق 25 اپریل کودہلی کالونی میں کھڑے رکشے میں کیے جانیوالے خوفناک بم دھماکے کو4روز گزر جانے کے باجود تفتیش میں اہم پیش رفت نہیں ہو سکی، تفتیشی پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں استعمال کیے جانے رکشے کے پارٹس کی فارنزک رپورٹ میں رکشے کے رجسٹریشن نمبر اور چیسز نمبر کے حوالے کوئی چیز سامنے نہیں آسکی، انھوں نے بتایا کہ اب تک کی جانے والی تفتیش میں صرف یہ معلوم ہوسکاکہ دھماکے میں 2 اسٹروک ویسپا رکشا استعمال کیا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے عینی شاہدین نے بھی تفتیشی پولیس کو بتایا کہ مذکور رکشا10منٹ سے کھڑا ہوا تھا اور اس کا ڈرائیور غائب تھا، انھوں نے بتایا کہ پولیس نے 2013 سے اب تک چوری اور چھینے جانے والے تمام رکشوں جن میں 2 اسٹروک ویسپا رکشے اور 4 اسٹروک سی این جی رکشے شامل ہیں۔
ان کا مکمل ریکارڈ حاصل کرلیا اور فرداً فرداً رکشا مالکان سے رابطہ کیا جا رہا ہے کہ انھیں اپنا رکشا واپس ملا یانہیں، انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ دھماکا سی این جی رکشا رجسٹریشن نمبر D-70495 میں کیا گیا تھا تاہم دوران تفتیش معلوم ہوا کہ مذکورہ رکشے کا ڈرائیور شکیل خان نامی شخص ہے جوکہ بم دھماکے میں زخمی ہو گیا تھا اور اب زیر علاج ہے، دوسری جانب سے سی آئی ڈی انویسٹی گیشن پولیس کے ذرائع کے مطابق فوری طور پر دہلی کالونی بم دھماکے کی تفتیش میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انھوں نے بتایا کہ سی آئی ڈی پولیس سمیت دیگر پولیس کی کئی ٹیمیں دھماکے کی تحقیقات کر رہی ہیں جلد کسی نہ کیسی نتیجے پر پہنچ جائیں گی، واضح رہے کہ مذکورہ بم دھماکے میں ماں بیٹا ، پیش امام اور رکشا ڈرائیور سمیت 6 افراد جاں بحق اور 28 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔
تفتیشی پولیس نے 2013 سے چوری اور چھینے جانے والے رکشوں کا ریکارڈ حاصل کر کے تفتیش شروع کردی، تفصیلات کے مطابق 25 اپریل کودہلی کالونی میں کھڑے رکشے میں کیے جانیوالے خوفناک بم دھماکے کو4روز گزر جانے کے باجود تفتیش میں اہم پیش رفت نہیں ہو سکی، تفتیشی پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں استعمال کیے جانے رکشے کے پارٹس کی فارنزک رپورٹ میں رکشے کے رجسٹریشن نمبر اور چیسز نمبر کے حوالے کوئی چیز سامنے نہیں آسکی، انھوں نے بتایا کہ اب تک کی جانے والی تفتیش میں صرف یہ معلوم ہوسکاکہ دھماکے میں 2 اسٹروک ویسپا رکشا استعمال کیا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے عینی شاہدین نے بھی تفتیشی پولیس کو بتایا کہ مذکور رکشا10منٹ سے کھڑا ہوا تھا اور اس کا ڈرائیور غائب تھا، انھوں نے بتایا کہ پولیس نے 2013 سے اب تک چوری اور چھینے جانے والے تمام رکشوں جن میں 2 اسٹروک ویسپا رکشے اور 4 اسٹروک سی این جی رکشے شامل ہیں۔
ان کا مکمل ریکارڈ حاصل کرلیا اور فرداً فرداً رکشا مالکان سے رابطہ کیا جا رہا ہے کہ انھیں اپنا رکشا واپس ملا یانہیں، انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ دھماکا سی این جی رکشا رجسٹریشن نمبر D-70495 میں کیا گیا تھا تاہم دوران تفتیش معلوم ہوا کہ مذکورہ رکشے کا ڈرائیور شکیل خان نامی شخص ہے جوکہ بم دھماکے میں زخمی ہو گیا تھا اور اب زیر علاج ہے، دوسری جانب سے سی آئی ڈی انویسٹی گیشن پولیس کے ذرائع کے مطابق فوری طور پر دہلی کالونی بم دھماکے کی تفتیش میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہو سکی۔ انھوں نے بتایا کہ سی آئی ڈی پولیس سمیت دیگر پولیس کی کئی ٹیمیں دھماکے کی تحقیقات کر رہی ہیں جلد کسی نہ کیسی نتیجے پر پہنچ جائیں گی، واضح رہے کہ مذکورہ بم دھماکے میں ماں بیٹا ، پیش امام اور رکشا ڈرائیور سمیت 6 افراد جاں بحق اور 28 سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔