پی سی بی کی ’’احسان فراموشی‘‘ پر ڈپارٹمنٹس رنجیدہ

کرکٹرز جو ساری زندگی ڈپارٹمنٹل کرکٹ سے کھاتے رہے آج اسی ڈپارٹمنٹل کرکٹ میں کیڑے نکال رہے ہیں، اقبال قاسم

کرکٹرز جو ساری زندگی ڈپارٹمنٹل کرکٹ سے کھاتے رہے آج اسی ڈپارٹمنٹل کرکٹ میں کیڑے نکال رہے ہیں، اقبال قاسم ۔ فوٹو: فائل

HYDERABAD:
پی سی بی کی ''احسان فراموشی''پر ڈپارٹمنٹس رنجیدہ دکھائی دیتے ہیں، فرسٹ کلاس کرکٹ میں کردار محدود کرکے ریجنل یا علاقائی ٹیموں کی مالی کفالت انہی اداروں سے کرانے کے منصوبے پر سخت تشویش ظاہر کی جا رہی ہیں۔


مختلف حلقوں نے ان پر سخت تحفظات ظاہر کر دیے،کئی سابق ٹیسٹ کرکٹرزنے بھی اسے ملکی کرکٹ کو تباہی سے دوچار کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم نے اس حوالے سے کہاکہ وہ کرکٹرز جو ساری زندگی ڈپارٹمنٹل کرکٹ سے کھاتے رہے، مراعات لیتے رہے اور اسی کی وجہ سے بورڈ تک پہنچے، آج اسی ڈپارٹمنٹل کرکٹ میں کیڑے نکال رہے ہیں۔اقبال قاسم نے کہا کہ ماضی میں بھی پی سی بی میں طویل عرصے سے موجود اعلیٰ افسران ہر نئے چیئرمین کو اس طرح کے منصوبے پیش کرتے رہے،ایسے لوگوںکا مقصد ادارتی کرکٹ ختم کرنا رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے50 ٹیسٹ میں171وکٹیں حاصل کرنے والے اقبال قاسم نے مزیدکہا کہ اس پورے معاملے میں وزیراعظم کے سامنے غلط تصویر پیش کی جا رہی ہے،اگر پاکستانی کرکٹ میں اداروں کا موجودہ کردار تبدیل کردیا گیا تو خوفناک نتائج سامنے آئینگے۔

انھوں نے کہا کہ ریجنل کرکٹ کا اصل کام کلب کرکٹ کو منظم انداز میں چلانا ہے، اس کے بعد جو بھی کھلاڑی سامنے آئے ڈپارٹمنٹس اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اداروں نے ان کرکٹروں کو ملازمتیں دیکر ان کا مستقبل بہتر کرنے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ اقبال قاسم نے کہا کہ اداروں کا اپنا سسٹم اور پالیسی ہے، یہ صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ دیگرکھیلوں کو بھی اسپانسر کرتے ہیں، وہ کسی بھی صورت میں مخصوص ریجن کو اسپانسر نہیں کر سکتے،ان کے اپنے پلیئرز کہاں جائینگے؟انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کرکٹ بورڈ نے ریجنل سربراہ بناتے ہوئے کئی لوگوں کو مراعات اور16 سو سی سی کی گاڑیاں دیں لیکن اس سب کا کیا ہوا؟ اس سے کرکٹ کو کتنا فائدہ ہوا؟ لہٰذا ضروری ہے کہ ریجنل کرکٹ کا راگ الاپنے والے پہلے سسٹم کو بہترین شکل دیں پھر نافذ کریں۔ یاد رہے کہ اقبال قاسم نیشنل بینک شعبہ اسپورٹس سے وابستہ ہیں۔
Load Next Story