14روز گزر گئے 3دوستوں کے قتل کی تحقیقات میں پیش رفت نہ ہوسکی
تینوں کا تعلق متحدہ سے تھا،اس روز نسیم اتفاقیہ طور پر دوستوں سے ملنے آیا تھا
15اپریل کو لیاقت آباد نمبر6 میں دکان پر نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کی تھی ۔ فوٹو : فائل
14روزگزرگئے مگر لیاقت آباد میں واقع دکان پر فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے3 دوستوں کے قتل کی تحقیقات میں تاحال کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
مقتولین کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے تھا، تفصیلات کے مطابق15 اپریل کو لیاقت آباد نمبر6 میں واقع دکان پر موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی اور فرار ہو گئے تھے جس سے40 سالہ شبیر احمد،45 سالہ نسیم احمد جاں بحق اور41 سالہ ارشد حسین نقوی زخمی ہو گیا تھا، واقعے کے3 روز بعد ارشد اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا، مقتولین آپس میں گہرے دوست تھے، تہرے قتل کی واردات کی تحقیقات میں اب تک کوئی اہم پیش رفت نہ ہو سکی، مقتول شبیر کے بھائی خالد نے بتایا کہ شبیر3 بیٹوں اور ایک بیٹی کا باپ تھا، والد کی وفات کے بعد گھر کی ذمے داری بڑے بھائی شبیر پر تھی۔
انھوں نے بتایا کہ مقتول نسیم احمد عائشہ منزل میں رہائش پذیر تھا، اس کے سوگواران میں4 بچے، بیوہ اور بوڑھی والدہ شامل ہیں، نسیم واقعے کے روز اتفاقیہ طور پر اپنے دوستوں ارشد اور شبیر سے ملنے آیا تھا، مقتول ارشد کے بی آر سوسائٹی کا رہائشی تھا، اہلخانہ نے بتایا کہ وہ 4 بچوں کا باپ تھا، مقتول کی لیاقت آباد میں بچوں کے ڈائپرز کی دکان تھی، مقتولین کے اہلخانہ نے اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
انویسٹی گیشن افسر ایس آئی او لیاقت آباد حامد گوندل نے بتایا کہ اب تک تفتیشی میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، جائے وقوع سے ملنے والے9 ایم ایم پستول کے7خولوں کو تجزیے کیلیے فارنزک لیبارٹری بھجوا دیا تھا تاہم رپورٹ موصول نہیں ہوئی، انھوں نے بتایا کہ پولیس کی کوشش ہے کہ ملزمان کا جلد از جلد سراغ لگایا جائے اور انھیں عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔
مقتولین کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے تھا، تفصیلات کے مطابق15 اپریل کو لیاقت آباد نمبر6 میں واقع دکان پر موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی اور فرار ہو گئے تھے جس سے40 سالہ شبیر احمد،45 سالہ نسیم احمد جاں بحق اور41 سالہ ارشد حسین نقوی زخمی ہو گیا تھا، واقعے کے3 روز بعد ارشد اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا، مقتولین آپس میں گہرے دوست تھے، تہرے قتل کی واردات کی تحقیقات میں اب تک کوئی اہم پیش رفت نہ ہو سکی، مقتول شبیر کے بھائی خالد نے بتایا کہ شبیر3 بیٹوں اور ایک بیٹی کا باپ تھا، والد کی وفات کے بعد گھر کی ذمے داری بڑے بھائی شبیر پر تھی۔
انھوں نے بتایا کہ مقتول نسیم احمد عائشہ منزل میں رہائش پذیر تھا، اس کے سوگواران میں4 بچے، بیوہ اور بوڑھی والدہ شامل ہیں، نسیم واقعے کے روز اتفاقیہ طور پر اپنے دوستوں ارشد اور شبیر سے ملنے آیا تھا، مقتول ارشد کے بی آر سوسائٹی کا رہائشی تھا، اہلخانہ نے بتایا کہ وہ 4 بچوں کا باپ تھا، مقتول کی لیاقت آباد میں بچوں کے ڈائپرز کی دکان تھی، مقتولین کے اہلخانہ نے اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
انویسٹی گیشن افسر ایس آئی او لیاقت آباد حامد گوندل نے بتایا کہ اب تک تفتیشی میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، جائے وقوع سے ملنے والے9 ایم ایم پستول کے7خولوں کو تجزیے کیلیے فارنزک لیبارٹری بھجوا دیا تھا تاہم رپورٹ موصول نہیں ہوئی، انھوں نے بتایا کہ پولیس کی کوشش ہے کہ ملزمان کا جلد از جلد سراغ لگایا جائے اور انھیں عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔