حکومتی نظام شفاف نہیں بیورو کریسی رویہ درست کرے قائمہ کمیٹی برائے استحقاق

اتحادیوں کے لئے نئی وزارتیں غیرآئینی ہیں، سینیٹر رضا ربانی

مردم شماری جلدکرانیکی سفارش،ایوان میں اقلیتی نشستیں بڑھانے کابل موخر، اردویونیورسٹی میں بے قاعدگیوں پرکمیٹی قائم . فوٹو: فائل

سینیٹ قائمہ کمیٹی قواعد وضوابط واستحقاق نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کی اجلاس میں بغیراطلاع عدم شرکت پراحتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کیا وزیراعظم کاسیکریٹری وفاقی وزیراورپارلیمانی کمیٹی سے بالاترہے۔

گریڈ 22 کے سرکاری افسر کی اجلاس میں غیر حاضری پارلیمنٹ اورپارلیمانی کمیٹی کی توہین ہے،اجلاس چیئرمین طاہرمشہدی کی صدارت میں ہوا۔رضاربانی، سعیدہ صغریٰ امام، زاہدخان،لالہ عبدالرؤف،حاجی عدیل، وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی ،وفاقی سیکریٹری پٹرولیم ،چیئرمین اوگرا نے شرکت کی ،اجلاس میں 30 دنوں کے اندروزارت پٹرولیم کووزیر اعظم سے مالاکنڈ ،تمیرگڑھ، کوپہلی ترجیع منصوبے میں شامل کروا کر ایس این جی پی ایل اور اوگرا کے اشتراک سے نامکمل منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت کی گئی اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیاگیا،اجلاس میں سابق وزراعظم گیلانی، راجا پرویز اشرف کی طرف سے مالاکنڈ میں سوئی گیس فراہمی کے لیے 60 کروڑ ، پختونخوا حکومت کے 2کروڑکے فنڈزکے منصوبے پرکام کی بندش پرشدید غصے کا اظہار کیا گیا ۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سول بیوروکریسی رویہ درست کر کے سرکاری فریضہ سرانجام دیں وفاقی وزارتیں اپنی کارکردگی بہتر سے ہے۔


پی ٹی آئی والے اگر امن وامان کی بات کرتے ہیں توکے پی کے میں جو ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے اگر کوئی طالبان کی بات کرتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ یہ کوئی ایشو ہی نہیں ہے،ہم جمہوریت کی مضبوطی کیلئے پارلیمنٹ کے ساتھ ہیں،تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا کہ ہمیں جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلئے الیکشن کے عمل کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے، پچھلے الیکشن میں دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے ۔11 مئی کو ہم حکومت کو گرانے نہیں جارہے ہمارے احتجاج کاپہلے سے ہی پروگرام طے تھا،ہمارا احتجاج حکومت نہیں الیکشن کے نظام کے خلاف ہے،جس وقت یہ الیکشن ہوئے اس وقت کے چیف جسٹس کا رول بہت متنازعہ رہا ہے،طاہرالقادری کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے ہمارااپنا پروگرام ہے ہم کسی کے پروگرام میں شامل نہیں ہوں گے۔

جمعیت علمائے (ف) کے رہنما جان اچکزئی نے کہا کہ ن لیگ کے ساتھ اختلاف ہے مگر ہم پھر بھی جمہوریت کی مضبوطی چاہتے ہیں ہم ان طاقتوں کو فائدہ نہیں پہنچاناچاہتے جوجمہوریت کے خلاف ہوں ، طاہر القادری کا توریاست میں کوئی سٹیک ہی نہیں ہے وہ یہاں پر چھٹیاں منانے آتے ہیں اگر پی ٹی آئی طاہر القادری کا ساتھ دیتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک گریٹر ایجنڈہ ہے،تمام پارٹیوں سے سوال کرتا ہوں کہ اگر الیکشن ٹھیک نہیں ہوئے تو وہ پھر بیٹھے کیوں ہیں،پاکستان عوامی تحریک کے ترجمان عمرریاض عباسی نے کہا کہ آج کی جمہوریت کے ہاتھوں جمہور مر رہے ہیں،طاہر القادری کی دہری شہریت کی وجہ گرین پاسپورٹ ہے کیونکہ پاکستان کے پاسپورٹ کی عزت نہیں،افتخار چوہدری نے سپریم کورٹ میں بیٹھ کرسیاست کی ہے ، ہم حکومت میں نہیں رہنا چاہتے احتجاج ہمارا حق ہے ۔
Load Next Story