حکومت اور سول سوسائٹی بچوں کے معاشی استحصال کے خاتمے کیلیے اسٹریٹجک اقدامات کریں ماہرین

چائلڈ لیبر کا خاتمہ حکومت پنجاب کی ترجیح ہے، مظفر گڑھ میں اس سلسلے میں ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے،سیکرٹری لیبر

فوٹو: ایکسپریس

بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر ماہرین نے کہا ہے کہ حکومت اور سول سوسائٹی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز بچوں کے معاشی استحصال کے خاتمے کے لیے اسٹریٹجک اقدامات کریں۔

لاہورکے الحمراہال میں منعقدہ سیمینارمیں اظہارخیال کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ توصیف دلشاد کھٹانہ نے بتایا کہ چائلڈ لیبر کا خاتمہ حکومت پنجاب کی ترجیح ہے اور حال ہی میں حکومت نے مظفر گڑھ میں بچوں کو مشقت سے دور کرنے اور انہیں باقاعدہ تعلیمی نظام میں مرکزی دھارے میں لانے کے لیے ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا ہے۔

انہوں نے پائیدار ترقی کے اہداف کے ہدف 8.7 کے مطابق چائلڈ لیبر کی لعنت کو روکنے کے لیے سرکاری محکموں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان مضبوط تعاون کا اعادہ کیا۔
سیمینار میں اظہارخیال کرتے ہوئے ' سرچ فار جسٹس ' نامی این جی اوز کے سربراہ افتخار مبارک کا کہنا تھا کہ چائلڈ لیبر کے نقصان دہ اثرات بہت دور رس ہیں اور جامع جواب کا مطالبہ کرتے ہیں۔

سرچ فار جسٹس نے حکومت، سول سوسائٹی، کمیونٹیز اور افراد سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کے معاشی استحصال کو ختم کرنے کے لیے اسٹریٹجک اقدامات کریں، جیسے کہ بچوں کو مزدوری سے بچانے کے لیے مضبوط قوانین اور ضوابط کے نفاذ اور ان کے نفاذ کی وکالت کرنا اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے مناسب سزاؤں کو یقینی بنانا اور تعمیل کی نگرانی کے لیے اقدامات شامل ہیں۔
بچوں کے حقوق کی کارکن راشدہ قریشی کا کہنا تھا پنجاب میں یہ دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ بچے اپنے حق تعلیم اور پرورش کے ماحول سے لطف اندوز ہونے کے بجائے خطرناک اور استحصالی کاموں میں مصروف ہیں۔

چائلڈ ڈومیسٹک لیبر، خاص طور پر، بچوں کو بڑے خطرے میں ڈالتی ہے، جو انہیں گھر کے اندر مختلف خطرات، استحصال اور بدسلوکی کا نشانہ بنانے کی وجہ بنتی ہے۔

کلینیکل سائیکالوجسٹ فاطمہ طاہرنے مزدور بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے جامع امدادی نظام تیار کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی، بشمول صحت کی دیکھ بھال، نفسیاتی سماجی مدد، اور بحالی کی خدمات تک رسائی۔


انہوں نے کہا کہ بچوں کی مزدوری پر انحصار کم کرنے کے لیے والدین کے لیے پیشہ ورانہ تربیت اور متبادل آمدنی کے مواقع فراہم کریں۔ انہوں نے چائلڈ لیبر پر مانیٹرنگ، رپورٹنگ اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے موثر طریقہ کار کو نافذ کرنے کے کا بھی مطالبہ کیا۔
محکمہ لیبرپنجاب کے ڈائریکٹرداؤد عبداللہ نے چائلدلیبرسے متعلق کیے گئے سروے کے اہم نکات کواجاگرکیا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ چائلڈ لیبرزراعت اورماہی پروری کے شعبے میں ہے، گھریلوملازم بچوں کی تعداد بہت کم ہے۔

انہوں نے پنجاب حکومت کی طرف سے چائلڈلیبرکے تدارک کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ آبادی میں اضافہ چائلڈلیبرکی اہم وجہ ہے۔
اس موقع پرسینئرصحافی آصف محمود نے بھی چائلدلیبرکی وجوہات اورمیڈیا کے کردارکواجاگرکیا،انہوں نے کہا کہ چائلڈلیبرکی شرح کوکم کرنے کے لیے لیبرڈیپارٹمنٹ ، محکمہ اسکول،ہیلتھ، سوشل ویلفیئر، چائلدپروٹیکشن بیورو اور این جی اوز کو ایک پیج پرآنا ہوگا اورکمیونی کیشن کا نظام بہتربناناہوگا، انہوں نے کہا کہ چائلڈلیبرکی ایک بڑی وجہ لوگوں کے معاشی حالات ہیں۔
چائلڈ رائٹس ایکٹیوسٹ صبا شیخ نے چائلڈ لیبر سے نمٹنے کے لیے حکومت، پرائیویٹ سیکٹر اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان موثر تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا۔

انہوں نے چائلڈ لیبر کے خلاف کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے کمیونٹیز، مذہبی رہنماؤں کو شامل کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کے زیرقیادت اقدامات کی حوصلہ افزائی کریں جو تعلیم، بیداری کو فروغ دیتے ہیں اور بچوں کو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کے لیے محفوظ جگہیں فراہم کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں چائلڈپروٹیکشن اینڈ ویلفیئربیورونے لبرٹی چوک لاہورمیں چائلڈلیبرکے خلاف آگاہی واک کا انعقاد کیا جس میں بچوں سمیت مختف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنےو الی شخصیات نے شرکت کی ۔

اس موقع پرچائلڈپروٹیکشن بیوروکی چیئرپرسن سارہ احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں 19 ہزار بچوں کو چائلڈ لیبر سے نکال کر تعلیم فراہم کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس وقت بھی بارہ سو سے زائد بچے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رہائش پذیر ہیں، ہمیں جہاں بھی اطلاع ملتی ہے کارروائی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کوریسکیوکرکےانہیں تحفظ ،تعلیم ،رہائش اورکھانا دیا جاتا ہے،چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال پنجاب بھر میں چائلڈ لیبر کے 3100 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ ایک سال کے دوران بچوں سے بھیک منگوانے کے 5400کیسز سامنے آئے۔ بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم کے مطابق چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے قوانین بنانا ضروری ہیں۔
Load Next Story