لاپتہ افراد کے لواحقین پر بلاجواز تشدد

ڈی چوک میں لاپتہ افراد کے لواحقین پر پولیس کی آنسوگیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج نامناسب عمل تھا

ڈی چوک میں لاپتہ افراد کے لواحقین پر پولیس کی آنسوگیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج نامناسب عمل تھا فوٹو: آئی این پی

RAWALPINDI:
پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے ڈی چوک میں لاپتہ افراد کے لواحقین پر پولیس کی آنسوگیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج نامناسب عمل تھا جس سے کئی مظاہرین بے ہوش اور زخمی ہوگئے جب کہ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ سمیت 12 افراد کو گرفتار کرلیا تاہم وزیراعظم کے حکم پر گرفتار افراد کو بعد میں رہا کردیا گیا ۔شکر ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر وزیراعظم نے ان کی فوری رہائی کا حکم دیدیا جب کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اے ایس پی سیکریٹریٹ اور اے ایس پی سٹی کو معطل کرنے اور واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور موقعے پر مامور حکام اور اہلکاروں کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ جمہوری انداز میں پر امن احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔


دنیا بھر کے جمہوری معاشروں میں حکومت یا ریاستی اداروں کے خلاف عوامی احتجاج ہوتے رہتے ہیں، برطانیہ میں ڈائون اسٹریٹ کے سامنے یا واشنگٹن میں بھی سیاسی اور دیگر پریشر گروپس اپنے مطالبات کے حق میں پہلے سے طے شدہ شیڈول کے تحت قانون و آئین کے دائرہ میںرہتے ہوئے آزادی اجتماع و آزادی اظہار کا اپنا بنیادی حق استعمال کرتے ہیں اور کوئی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا نہیں ہوتی مگر پیر کو اسلام آباد میں سیکیورٹی حکام اور مقامی لیڈیز پولیس کی پر امن مظاہرین پر بلاجواز لاٹھی چارج اور شیلنگ کرنے کا کوئی جواز نہ تھا ۔ لاپتہ افراد کے لواحقین پہلے کی طرح اس بار بھی ڈی چوک میں دھرنا دیے بیٹھے تھے ، تاہم پولیس کے اینٹی رائٹ یونٹ کے اہلکاروں کا ان پر جس بے رحمی سے لاٹھی چارج اور انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں خواتین سمیت متعدد افراد زخمی اور بے ہوش ہوگئے، وہ سخت قابل افسوس ہے۔

وزیراعظم نے گرفتار افراد کو رہا کرنے اور واقعے کے ذمے دار افراد کے خلاف سخت اور فوری ایکشن کے احکامات دیتے ہوئے یاد دلایا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن مظاہرہ کرنا ہر پاکستانی کا جمہوری حق ہے اور کسی کو اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ ادھر لاپتہ افراد کے لواحقین پر پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے سیاسی رہنمائوںکا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر کسی کا جمہوری اور آئینی حق ہے ، مظاہرین پر تشدد غیر انسانی اور ظالمانہ ہے ۔رہا یہ سوال کہ ریڈ زون میں جلسے جلوس کی اجازت نہیں تو اس امر پر نہتے مظاہرین کو پیشگی طور پر قائل کرکے بد مزگی سے بچا بھی جا سکتا تھا۔
Load Next Story