قومی ایشوز…واضح موقف اختیار کیا جائے

وقت آگیا ہے کہ مذاکرات کے ٹھوس نتائج حاصل کیے جائیں ...

وقت آگیا ہے کہ مذاکرات کے ٹھوس نتائج حاصل کیے جائیں. فوٹو:فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل واضح طور پر متعین کردہ حدود میں ہونا چاہیے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مذاکرات کے ٹھوس نتائج حاصل کیے جائیں، جب کہ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ ملک کا تحفظ اور دفاع یقینی بنانے میں آئی ایس آئی کا کردار قابل تحسین ہے۔ اس اجلاس کی اہمیت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ یہ وزیراعظم کے دورہ برطانیہ پر روانہ ہونے سے ایک روز قبل منعقد ہوا۔ اسے ایک طرح سے دورہ برطانیہ سے قبل تیاری بھی کہا جا سکتا ہے۔

اس اہم ترین اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی بھی شریک تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اجلاس کے شرکاء کو طالبان کے ساتھ روابط ، پیشرفت اور رکاوٹوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

انھوں نے بتایا کہ طالبان کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ نتیجہ خیز بات چیت کے لیے واضح سمت متعین کرے۔ مذاکراتی عمل کو تعمیری بنانے کا یہ صحیح وقت ہے۔ طالبان کمیٹی سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ طالبان شوریٰ کے پورے ایجنڈے پر غورکرے۔ اس اجلاس میں ملکی سلامتی کی داخلی و خارجی صورتحال، افغانستان میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کے بعد پیدا شدہ صورتحال اور امریکا کے خصوصی نمایندہ برائے پاکستان جیمز ڈوبنز کے حالیہ دورے کے حوالے سے تفصیلی غورکیا گیا۔


ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے' اس اجلاس کے نتیجے میں بہت سے معاملات کے حوالے سے حکومت کا واضح موقف سامنے آیا ہے اور شکوک و شبہات کے بادل بھی چھٹے ہیں۔ آئی ایس آئی کے حوالے سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے واضح کیا کہ ملک کا تحفظ اور دفاع یقینی بنانے میں اس کا کردار قابل تحسین ہے۔ بلاشبہ پاک فوج اور آئی ایس آئی نے وطن عزیز کی سلامتی اور تحفظ کے لیے ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ غیر ملکی ایجنسیوں کی سرگرمیاں ہوں یا اندرونی عناصر کی ریشہ دوانیاں آئی ایس آئی نے انھیں ناکام بنانے کے لیے جو کردار ادا کیا' وہ پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

ایسے حالات میں جب افغانستان میں دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیاں سرگرم ہوں' بلوچستان کے حالات خراب ہوں' فاٹا میں طالبان کی سرگرمیاں ہوں اور ملک کے دیگر علاقوں میں شرپسند گروہ سرگرم ہوں' ان حالات میں وطن عزیز کا دفاع کرنا شیر کی کچھار میں داخل ہونے والی بات ہے لیکن آئی ایس آئی اور پاک فوج نے وسائل کی کمی کے باوجود وطن عزیز کا دفاع کیا' شر پسندوں اور دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور غیر ملکی ایجنسیوں کا تعاقب کیا' یہ ایسا دیو مالائی کردار ہے' جیسے واشنگٹن سے ماسکو اور تل ابیب سے دہلی تک تسلیم کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں چند گروہ اپنے ہی اداروں کو کمزور کرنے کے در پے ہیں' یہ طرز عمل درست نہیں ہے۔قومی اداروں کے وقار کا تحفظ سب کی ذمے داری ہونی چاہیے۔

اس اہم ترین اجلاس کے شرکاء کو وفاق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے بریف کیا۔ وفاقی حکومت اور طالبان کے درمیان خاصے عرصے سے مذاکرات ہو رہے ہیں' فی الحال ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔ بظاہر اس عمل کو مذاکرات برائے مذاکرات کا نام ہی دیا جا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت کو اس حوالے سے واضح اور دو ٹوک موقف کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے' مذاکرات کے عمل کا بلا نتیجہ طوالت کا شکار ہونا' فائدہ مند نہیں بلکہ شکوک و شبہات کا باعث ہے۔ پاکستان کے منظر نامے میں اس کے آثار بھی نظر آ رہے ہیں' ملک میں دہشت گردی کے واقعات بھی ہو رہے ہیں' ان واقعات کی وجہ سے مذاکرات کے عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں' ویسے بھی اس قسم کے حالات میں ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں' طالبان اور حکومت دونوں مذاکرات کا عمل جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین ملک میں امن چاہتے ہیں لیکن انھیں یہ امر بھی سامنے رکھنا چاہیے کہ امن کی خواہش کا فائدہ اس وقت ہی ہوتا ہے جب یہ عملی شکل اختیار کر جائے۔ پاکستان زیادہ دیر تک اس قسم کی صورت حال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس وقت فاٹا اور خیبر پختونخوا کے حالات زیادہ بہتر نہیں ہیں' بلوچستان میں بھی تخریب کاری ہوتی رہتی ہے۔ کراچی کے حالات سب کے سامنے ہیں' وہاں آئے روز بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں' ان حالات میں دشمن واضح نہیں ہے' اگر حکومت اور طالبان کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز ہوتے ہیں تو ملک میں ابہام کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور اصل دشمن کی شکل سامنے آ سکتی ہے' اس لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کے عمل کو پوری سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے اور ذاتی اور گروہی مفادات کو جھٹک کر ملک و قوم کے مفادات کو اہمیت دیتے ہوئے کوئی حتمی حل تلاش کر لیا جائے' اسی میں سب کی بہتری ہے۔
Load Next Story