مصر عدالتی فیصلہ کے مضمرات

مصرکی عدالت نے اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع سمیت 683 افراد کو سزائے موت سنا دی

مصرکی عدالت نے اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع سمیت 683 افراد کو سزائے موت سنا دی ۔ فوٹو: فائل

مصرکی عدالت نے اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع سمیت 683 افراد کو سزائے موت سنا دی ۔ اسی عدالت نے مارچ میں 529افراد کوسزائے موت کا فیصلہ سنایا تھا جن میںسے 492افراد کی سزا کو واپس لے کربیشتر کی سزاکو عمرقید میں تبدیل کردیا۔ مصری عدالتی فیصلے کو عالمی قانونی ماہرین نے سیاسی انتقام قرار دیا ہے اور اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرسی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں سیاسی ایجی ٹیشن اور سیاسی محاذ آرائی مزید شدت آئیگی ،جسے افسوس ناک ہی کہا جاسکتا ہے۔


مصری اخبار المانیٹرنے اسے دہشت انگیز فیصلہ سے تعبیر کیا ہے جب کہ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ مصری عدالتی پروسیس کے تحت دائر اپیل کے بعد سزائے موت عمر قید میں تبدیل ہوسکتی ہے ۔نیویارک ٹائمز کے مطابق مصر میں عدلیہ سیاسی سزائوں کے ذریعے حکومت کی آلہ کار بن گئی ہے ۔ واضح رہے یہ سزائیں صدرمرسی کی معزولی کے بعد منیا میں مظاہروں کے دوران پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے مقدمے میں سنائی گئیں جن میں صدرمرسی کے ہزاروں حامی بھی جاںبحق ہوئے تھے ۔ یوں مصری انقلاب کے بعد مشرق وسطیٰ میں جمہوری اقدار کی نشو ونما کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ عدالت کے باہراخوان المسلمون کی حامی بہت سی خواتین جمع تھیںجن میں سے بعض فیصلہ سننے کے بعد بے ہوش ہوگئیں ۔

مصری قانون کے مطابق سزائے موت کے کیس مشاورت کے لیے مفتیِ اعظم کے پاس بھیجے جاتے ہیں جب کہ عدالت کے جج 21 جون کو سزاؤں کی توثیق کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ فیصلہ سن کر سیکڑوں خواتین بیہوش ہوگئیں۔ پراسیکیوٹرکے مطابق ان 683افراد میں صرف 73 زیرحراست ہیں۔دریںاثنا اخوان المسلمون کے ترجمان نے کہا کہ دنیا انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ناانصافی کا نوٹس لے ۔ فوجی حکومت کے خلاف پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے ۔مسلح افواج کے سابق سربراہ الفتح السیسی اس سارے ہنگامے میں اپنی آیندہ صدارتی انتخاب کی تیاریوں میں مصروف ہیں، ادھراقوام متحدہ نے کہا ہے کہ فیصلہ انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ ایمنسٹی اورہیومن رائٹس واچنے بھی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مصر کی سیاسی تاریخ میں کیا پیش رفت ہوگی ۔
Load Next Story