بڑے مذاکرات سے شیخ الاسلامی مذاکرات تک
حکومت کی پالیسیاں میرے جیسے عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہیں لیکن ان سے ڈر لگتا ہے...
Abdulqhasan@hotmail.com
لاہور:
ایک بے حد اہم موضوع پر ایک عرصے سے مذاکرات کرنے والوں کی ٹیم میں سے ایک بہت ہی اہم اور کلیدی رکن خان عامر مذاکرات سے الگ ہو گئے۔ مذاکرات جو پہلے سے ہی برائے نام زندہ تھے اب لگتا ہے وہ اس زندگی سے بھی محروم ہو جائیں گے میں نے شروع دن سے عرض کر دیا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی بہت مشکل ہے کیونکہ طالبان کا مزاج سمجھوتوں کا مزاج نہیں ہے۔ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس متنازعہ علاقے میں ان کو اپنی ایک جگہ مل جائے جہاں وہ اپنا اقتدار قائم کر سکیں اور آگے پاکستان کی طرف بڑھ سکیں تا کہ اسے ایک اسلامی ریاست جو ان کے تصور میں ہونی چاہیے بنا سکیں۔
کیا پاکستان اپنی سرزمین کا کچھ حصہ ڈر کر تحفہ میں دے دے گا جہاں کوئی دوسرا آزادی کے ساتھ اپنا اقتدار قائم کر سکے یعنی ایک آزاد ملک بنا سکے۔ آزاد پاکستان کے اندر ایک آزاد ملک یہ ایک نا ممکن صورت حال ہے کوئی سیاسی یا غیر سیاسی پاکستانی ایسی جرات نہیں کر سکتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر اختلاف موجود ہے اور مذاکرات آگے نہیں بڑھ رہے۔ اس وقت تک ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ مذاکرات ہوتے ہیں سرکاری مذاکراتی ٹیم بار بار وزیر اعظم سے بھی مل چکی ہے۔ اہل الرائے سے اس کی ملاقاتیں الگ ہیں اور قبائلی علاقوں کے اکابرین سے بھی ٹیم کے ارکان کا رابطہ رہا ہے۔ بظاہر کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی اور کامیابی کی ہر کوشش کی گئی ہے لیکن مذاکرات سے الگ ہونے والے میجر عامر نے اشارے دیے ہیں کہ باہر سے مداخلت ہوتی رہی ہے اور مذاکرات میں بلاوجہ سیاسی مداخلت کی جاتی ہے۔
حکومت کی پالیسیاں میرے جیسے عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہیں لیکن ان سے ڈر لگتا ہے بقول جنرل پرویز مشرف کے کہ اپنے چمن کی آتش گل ہی کہیں چمن کو جلا نہ دے۔ یہاں حافظ شیرازی کا ایک مشہور شعر یاد آ رہا ہے کہ تم تو ایک گوشتہ نشین شخص ہو تم کیوں چیخ و پکار کرتے ہو کیونکہ مملکت کی رموز اور اس کے راز تو بادشاہ جانتے ہیں۔ اگر حالات زمانہ اور حالات مملکت سے تعلق نہ ہوتا اور ان سے واقفیت ایک جمہوری عمل نہ ہوتی تو مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں لوڈشیڈنگ کم ہوتی ہے یا نہیں مہنگائی کتنی بڑھتی ہے یہ سب ان لوگوں کی باتیں ہیں جو غریب غربے ہیں یا وہ جو سیاست میں آگے نہیں بڑھ رہے ہمیں ان سے کیا۔
میں اس وقت جماعت اسلامی کے پارٹ ٹائم امیر (جزوقتی امیر) کے اس سانحے پر طبیعت کچھ بحال ہو تو لکھوں فی الحال میں اس وزیر اور امیر معلوم نہیں وہ پہلے وزیر ہیں یا جماعت کے امیر ہیں خان سراج الحق صاحب کی اس بات کا ذکر کرتا ہوں کہ مارشل لا کا خطرہ ہے۔ پاکستان کو مارشل کا خطرہ تو مستقل رہتا ہی ہے بلکہ خطرہ ہی یہی ہے اور میری طرح کئی پاکستانیوں کو مارشل سے کوئی گلہ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ اپنے مخالفوں کو ٹھکانے لگانے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کرتا۔ ملک کو لاتعداد اصلاحات کی ضرورت ہے مگر مارشل لاء اس طرف توجہ ہی نہیں دیتا۔ بس کچھ وقت بعد بھاگ جاتا ہے اور ملک پھر ہمارے سیاستدانوں کے سپرد کر دیتا ہے جو اپنا ادھورا ایجنڈا پورا کرنے میں لگ جاتے ہیں اور کسی بیرونی ملک کے کسی بینک میں کچھ مزید رقم جمع ہو جاتی ہے۔
پاکستان سے لوٹی ہوئی رقم یا پھر ان کا کوئی بیٹا وغیرہ باہر کہیں کاروبار شروع کر دیتا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب کے دو صاحبزادے ہیں دونوں لندن میں ہیں۔ ہمارے ایک وفاقی وزیر کا پورا خاندان امریکا میں ہے۔ یہ فہرست بڑی طویل اور تکلیف دہ ہے اس لیے فی الحال میں اپنی اس محرومی پر روتا ہوں کہ میرا تو پاسپورٹ بھی نہیں ہے اور میرا اکلوتا بیٹا یہاں ایک ادارے میں عام سا ملازم ہے۔ اس کی بھی نجکاری کا غلغلہ برپا ہے شکر ہے اس نے گائوں میں ٹیوب ویل لگوا لیے ہیں جو اسے بھوکا نہیں مرنے دیں گے کیونکہ جدی پشتی جائیداد چھینی تو جا سکتی ہے ضبط نہیں ہو سکتی۔ میرے ایک بزرگ گائوں سے مٹھہ ٹوانہ جا رہے تھے جہاں ہمارے درویش بزرگوں نے خانقاہ بنا رکھی تھی اور وقت کے نون ٹوانے اس خانقاہ کے جھاڑو سے برکت حاصل کرتے تھے۔
ہمارے بزرگ جب ایک بار گائوں سے مٹھہ ٹوانہ جا رہے تھے تو سامنے سے ڈی سی کی سواری آ رہی تھی۔ بے حد طمطراق کے ساتھ لیکن وہ اپنی سواری پر آگے بڑھتے گئے کسی طرف توجہ نہ دی۔ ڈی سی نے غصے میں پوچھا یہ کون ہے۔ جواب دینے والوں میں ہمارے علاقے کا ایک ذیلدار تھا جو ہمارا بزرگ تھا اس نے بتایا کہ یہ ایک درویش ہے۔ بے غرض انسان ہے سرکار برطانیہ کا محتاج نہیں صرف جدی پشتی زمین ہے۔ ڈی سی نے پوچھا اس کا کوئی مرید معلوم ہوا کہ فلاں ٹوانہ بڑی جاگیر کا مالک ہے جو اس کا مرید ہے ڈی سی نے واپس جا کر یہ جاگیر ضبط کر لی مگر جاگیردار شکایت کرنے نہ آیا اور سب کچھ اپنے پیر کے حوالے کر دیا کہ وہ جانے اور میری جاگیر۔
یہ ایک الگ قصہ ہے مطلب یہ تھا کہ اگر موروثی زمین محفوظ ہے تو دو وقت کی روٹی موجود ہے۔ ضمیر کی کسی ملامت کے بغیر اور کسی کی محتاجی کے بغیر۔ بزرگوں نے اپنے علاقے میں شرافت اور انصاف کے ساتھ وقت گزارا۔ گھر سے کوئی خالی ہاتھ کبھی نہیں گیا اور اگر کسی کے ساتھ کسی نے زیادتی کی تو اس کی مکمل مدد کی۔ کبھی کسی کو تنہا نہیں چھوڑا۔ یہ ایک طویل قصہ ہے فی الوقت عرض یہ ہے کہ باعزت زندگی کی تمنا ہے۔ کسی جاگیر والی زندگی کی نہیں۔
اس وقت ٹی وی پر اسلام آباد کے ایک ہنگامے کی رپورٹ چل رہی ہے اور ساتھ ساتھ لاٹھی بھی۔ عورت مرد سب پولیس کی لاٹھی کی زد میں ہیں۔ ایک مدت سے کچھ لوگ گم ہو چکے ہیں ان کے پسماندگان کو جب گھر والے بہت یاد آتے ہیں تو وہ گھبرا کر باہر نکل آتے ہیں اور جلسہ جلوس بن جاتا ہے جو کار سرکار میں مداخلت ہے اور پولیس کا فرض ہے کہ وہ اس مداخلت کو روک دے۔ یہ اسلام آباد کی مشہور جگہ ہے جہاں شیخ الاسلام کا ائر کنڈیشنڈ کنٹینر ایک بار مقیم ہو گیا تھا اس کی بڑی مشہوری ہوئی تھی وفاقی حکومت کے عمائدین کے ساتھ مذاکرات بھی ہوئے اور خاطر تواضع بھی لیکن اس کا نتیجہ برآمد نہ ہو سکا اب پھر شیخ الاسلام حملہ آور ہونے والے ہیں۔
اس بار اگر نوبت مذاکرات تک پہنچی تو ہمارے پاس دو الگ الگ نمونوں کی ٹیمیں ہیں۔ ایک تو وہ مشہور و معروف ٹیم ہے جو کہیں پہاڑوں میں مذاکرات کر رہی ہے مگر کارگزاری کی رپورٹ شہر میں آ کر ٹی وی پر جاری کی جاتی ہے۔ دوسری ٹیم ہماری جوانوں کی ٹیم ہے جسے خواجگان کی ٹیم بھی کہا جاتا ہے اور فیصلہ کن انداز والی ٹیم بھی۔ میری رائے تو یہ ہے کہ شیخ الاسلام کو خواجگان کی ٹیم کے سپرد کر دیا جائے لیکن اس ٹیم کے ایک اہم رکن اندرون لاہور کی زبان میں بات کرتے ہیں اور مذاکراتی لوگ غیر لاہوری ہیں۔ بہر حال کچھ وقت اس وضاحت میں گزر جائے گا کہ کس نے کیا کہا اور کس نے کیا سمجھا۔ جناب شیخ الاسلام کی عزت و تکریم ہی مناسب ہے۔
ایک بے حد اہم موضوع پر ایک عرصے سے مذاکرات کرنے والوں کی ٹیم میں سے ایک بہت ہی اہم اور کلیدی رکن خان عامر مذاکرات سے الگ ہو گئے۔ مذاکرات جو پہلے سے ہی برائے نام زندہ تھے اب لگتا ہے وہ اس زندگی سے بھی محروم ہو جائیں گے میں نے شروع دن سے عرض کر دیا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی بہت مشکل ہے کیونکہ طالبان کا مزاج سمجھوتوں کا مزاج نہیں ہے۔ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس متنازعہ علاقے میں ان کو اپنی ایک جگہ مل جائے جہاں وہ اپنا اقتدار قائم کر سکیں اور آگے پاکستان کی طرف بڑھ سکیں تا کہ اسے ایک اسلامی ریاست جو ان کے تصور میں ہونی چاہیے بنا سکیں۔
کیا پاکستان اپنی سرزمین کا کچھ حصہ ڈر کر تحفہ میں دے دے گا جہاں کوئی دوسرا آزادی کے ساتھ اپنا اقتدار قائم کر سکے یعنی ایک آزاد ملک بنا سکے۔ آزاد پاکستان کے اندر ایک آزاد ملک یہ ایک نا ممکن صورت حال ہے کوئی سیاسی یا غیر سیاسی پاکستانی ایسی جرات نہیں کر سکتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر اختلاف موجود ہے اور مذاکرات آگے نہیں بڑھ رہے۔ اس وقت تک ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ مذاکرات ہوتے ہیں سرکاری مذاکراتی ٹیم بار بار وزیر اعظم سے بھی مل چکی ہے۔ اہل الرائے سے اس کی ملاقاتیں الگ ہیں اور قبائلی علاقوں کے اکابرین سے بھی ٹیم کے ارکان کا رابطہ رہا ہے۔ بظاہر کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی اور کامیابی کی ہر کوشش کی گئی ہے لیکن مذاکرات سے الگ ہونے والے میجر عامر نے اشارے دیے ہیں کہ باہر سے مداخلت ہوتی رہی ہے اور مذاکرات میں بلاوجہ سیاسی مداخلت کی جاتی ہے۔
حکومت کی پالیسیاں میرے جیسے عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہیں لیکن ان سے ڈر لگتا ہے بقول جنرل پرویز مشرف کے کہ اپنے چمن کی آتش گل ہی کہیں چمن کو جلا نہ دے۔ یہاں حافظ شیرازی کا ایک مشہور شعر یاد آ رہا ہے کہ تم تو ایک گوشتہ نشین شخص ہو تم کیوں چیخ و پکار کرتے ہو کیونکہ مملکت کی رموز اور اس کے راز تو بادشاہ جانتے ہیں۔ اگر حالات زمانہ اور حالات مملکت سے تعلق نہ ہوتا اور ان سے واقفیت ایک جمہوری عمل نہ ہوتی تو مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں لوڈشیڈنگ کم ہوتی ہے یا نہیں مہنگائی کتنی بڑھتی ہے یہ سب ان لوگوں کی باتیں ہیں جو غریب غربے ہیں یا وہ جو سیاست میں آگے نہیں بڑھ رہے ہمیں ان سے کیا۔
میں اس وقت جماعت اسلامی کے پارٹ ٹائم امیر (جزوقتی امیر) کے اس سانحے پر طبیعت کچھ بحال ہو تو لکھوں فی الحال میں اس وزیر اور امیر معلوم نہیں وہ پہلے وزیر ہیں یا جماعت کے امیر ہیں خان سراج الحق صاحب کی اس بات کا ذکر کرتا ہوں کہ مارشل لا کا خطرہ ہے۔ پاکستان کو مارشل کا خطرہ تو مستقل رہتا ہی ہے بلکہ خطرہ ہی یہی ہے اور میری طرح کئی پاکستانیوں کو مارشل سے کوئی گلہ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ اپنے مخالفوں کو ٹھکانے لگانے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کرتا۔ ملک کو لاتعداد اصلاحات کی ضرورت ہے مگر مارشل لاء اس طرف توجہ ہی نہیں دیتا۔ بس کچھ وقت بعد بھاگ جاتا ہے اور ملک پھر ہمارے سیاستدانوں کے سپرد کر دیتا ہے جو اپنا ادھورا ایجنڈا پورا کرنے میں لگ جاتے ہیں اور کسی بیرونی ملک کے کسی بینک میں کچھ مزید رقم جمع ہو جاتی ہے۔
پاکستان سے لوٹی ہوئی رقم یا پھر ان کا کوئی بیٹا وغیرہ باہر کہیں کاروبار شروع کر دیتا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب کے دو صاحبزادے ہیں دونوں لندن میں ہیں۔ ہمارے ایک وفاقی وزیر کا پورا خاندان امریکا میں ہے۔ یہ فہرست بڑی طویل اور تکلیف دہ ہے اس لیے فی الحال میں اپنی اس محرومی پر روتا ہوں کہ میرا تو پاسپورٹ بھی نہیں ہے اور میرا اکلوتا بیٹا یہاں ایک ادارے میں عام سا ملازم ہے۔ اس کی بھی نجکاری کا غلغلہ برپا ہے شکر ہے اس نے گائوں میں ٹیوب ویل لگوا لیے ہیں جو اسے بھوکا نہیں مرنے دیں گے کیونکہ جدی پشتی جائیداد چھینی تو جا سکتی ہے ضبط نہیں ہو سکتی۔ میرے ایک بزرگ گائوں سے مٹھہ ٹوانہ جا رہے تھے جہاں ہمارے درویش بزرگوں نے خانقاہ بنا رکھی تھی اور وقت کے نون ٹوانے اس خانقاہ کے جھاڑو سے برکت حاصل کرتے تھے۔
ہمارے بزرگ جب ایک بار گائوں سے مٹھہ ٹوانہ جا رہے تھے تو سامنے سے ڈی سی کی سواری آ رہی تھی۔ بے حد طمطراق کے ساتھ لیکن وہ اپنی سواری پر آگے بڑھتے گئے کسی طرف توجہ نہ دی۔ ڈی سی نے غصے میں پوچھا یہ کون ہے۔ جواب دینے والوں میں ہمارے علاقے کا ایک ذیلدار تھا جو ہمارا بزرگ تھا اس نے بتایا کہ یہ ایک درویش ہے۔ بے غرض انسان ہے سرکار برطانیہ کا محتاج نہیں صرف جدی پشتی زمین ہے۔ ڈی سی نے پوچھا اس کا کوئی مرید معلوم ہوا کہ فلاں ٹوانہ بڑی جاگیر کا مالک ہے جو اس کا مرید ہے ڈی سی نے واپس جا کر یہ جاگیر ضبط کر لی مگر جاگیردار شکایت کرنے نہ آیا اور سب کچھ اپنے پیر کے حوالے کر دیا کہ وہ جانے اور میری جاگیر۔
یہ ایک الگ قصہ ہے مطلب یہ تھا کہ اگر موروثی زمین محفوظ ہے تو دو وقت کی روٹی موجود ہے۔ ضمیر کی کسی ملامت کے بغیر اور کسی کی محتاجی کے بغیر۔ بزرگوں نے اپنے علاقے میں شرافت اور انصاف کے ساتھ وقت گزارا۔ گھر سے کوئی خالی ہاتھ کبھی نہیں گیا اور اگر کسی کے ساتھ کسی نے زیادتی کی تو اس کی مکمل مدد کی۔ کبھی کسی کو تنہا نہیں چھوڑا۔ یہ ایک طویل قصہ ہے فی الوقت عرض یہ ہے کہ باعزت زندگی کی تمنا ہے۔ کسی جاگیر والی زندگی کی نہیں۔
اس وقت ٹی وی پر اسلام آباد کے ایک ہنگامے کی رپورٹ چل رہی ہے اور ساتھ ساتھ لاٹھی بھی۔ عورت مرد سب پولیس کی لاٹھی کی زد میں ہیں۔ ایک مدت سے کچھ لوگ گم ہو چکے ہیں ان کے پسماندگان کو جب گھر والے بہت یاد آتے ہیں تو وہ گھبرا کر باہر نکل آتے ہیں اور جلسہ جلوس بن جاتا ہے جو کار سرکار میں مداخلت ہے اور پولیس کا فرض ہے کہ وہ اس مداخلت کو روک دے۔ یہ اسلام آباد کی مشہور جگہ ہے جہاں شیخ الاسلام کا ائر کنڈیشنڈ کنٹینر ایک بار مقیم ہو گیا تھا اس کی بڑی مشہوری ہوئی تھی وفاقی حکومت کے عمائدین کے ساتھ مذاکرات بھی ہوئے اور خاطر تواضع بھی لیکن اس کا نتیجہ برآمد نہ ہو سکا اب پھر شیخ الاسلام حملہ آور ہونے والے ہیں۔
اس بار اگر نوبت مذاکرات تک پہنچی تو ہمارے پاس دو الگ الگ نمونوں کی ٹیمیں ہیں۔ ایک تو وہ مشہور و معروف ٹیم ہے جو کہیں پہاڑوں میں مذاکرات کر رہی ہے مگر کارگزاری کی رپورٹ شہر میں آ کر ٹی وی پر جاری کی جاتی ہے۔ دوسری ٹیم ہماری جوانوں کی ٹیم ہے جسے خواجگان کی ٹیم بھی کہا جاتا ہے اور فیصلہ کن انداز والی ٹیم بھی۔ میری رائے تو یہ ہے کہ شیخ الاسلام کو خواجگان کی ٹیم کے سپرد کر دیا جائے لیکن اس ٹیم کے ایک اہم رکن اندرون لاہور کی زبان میں بات کرتے ہیں اور مذاکراتی لوگ غیر لاہوری ہیں۔ بہر حال کچھ وقت اس وضاحت میں گزر جائے گا کہ کس نے کیا کہا اور کس نے کیا سمجھا۔ جناب شیخ الاسلام کی عزت و تکریم ہی مناسب ہے۔