متاثرین لیاری ایکسپریس وے کو 10 یوم میں واجبات ادا کرنے کا حکم
آئندہ سماعت تک معاوضہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں ذمے داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائیگی
سرکاری ادارے بے حسی کی روش اپنائے ہوئے ہیں،عدالتی حکم پر عمل درآمد کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے، ہائیکورٹ۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ نے حکومت کو لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو 10دن میں معاوضہ ادا کرنے کاحکم دیا ہے۔
عدالت نے آبزرو کیاکہ سرکاری ادارے بے حسی کی روش اپنائے ہوئے ہیں، عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے معاملے میں ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے، اگر آئندہ سماعت تک معاوضہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں ذمے داران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائیگی، سیکریٹری خزانہ عملدرآمد کرکے رپورٹ پیش کریں، عدالت نے آبزرویشن دی کہ سرکاری اداروں کی جانب سے مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے،چیف جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں2رکنی بینچ نے محمدشفیق اور دُربی بی سمیت 15افراد کی درخواست کی سماعت کی۔
درخواست میں صوبائی محکمہ خزانہ، پروجیکٹ ڈائریکٹرلیاری ایکسپریس وے اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے کہا گیاہے کہ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کیلیے مدعا علیہان نے درخواست گزاروں کی1158مربع گز پر مشتمل اراضی حاصل کی تھی اور2کروڑ 3 لاکھ92ہزار روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا معاہدہ کیا تھا،مدعا علیہان نے 18 ستمبر2008 کو درخواست گزاروں کی اراضی کا باقاعدہ قبضہ حاصل کرلیا تھا مگر رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی،متعدد درخواستوں کے بعد معاوضہ کا کچھ حصہ تو ادا کردیا گیا تاہم اب بھی معاوضہ کی رقم کے 152,000,00روپے واجب الادہیں جبکہ 3 اپریل 2013 تک مجموعی رقم پر 40لاکھ روپے سے زائد منافع بھی واجب الادا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حکام کو درخواست گزاروں کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیاجائے۔
سماعت کے موقع پرسیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت نے بتایا کہ اس منصوبے پر پہلے ہی 5.4ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں جبکہ منصوبے کی تکمیل کیلیے مزید رقم درکار ہے اور متاثرین کو بھی بطور معاوضہ بھاری رقم کی ادائیگی کی گئی ہے،عدالت نے آبزروکیا کہ رقم کا ٹھیک استعمال نہیں ہوااور بے قاعدگیاں ہوئیں،سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی اپنے حصے سے 10کروڑ روپے سے زائد خرچ کرچکی ہے اور مالی بحران کے باعث سندھ حکومت کے پاس مزید رقم نہیں، اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پروجیکٹ ڈائریکٹرکو بھی معاوضہ کی ادائیگی کیلیے کہا گیا ہے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پرتوہین عدالت کی کارروائی کے خدشے سے بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔
اس موقع پر سرفرازسلہری ایڈوکیٹ نے بتایا کہ ان کے موکل نئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کوتاحال عہدہ سنبھالنے نہیں دیا گیاہے، صوبائی وزیرخزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ لیاری ایکسپریس کے لیے دی گئی رقم کا درست استعمال نہیں کیا گیااسی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں ، اگر فنڈز کا دیانتدارانہ استعمال کیا جاتاتو یہ بحران پیدا نہیں ہوتا، یہ بات انھوں نے سندھ ہائیکورٹ میں لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو رقم کی ادائیگی کے معاملے کی سماعت کے موقع پر عدالت کوبتائی ۔
عدالت نے آبزرو کیاکہ سرکاری ادارے بے حسی کی روش اپنائے ہوئے ہیں، عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے معاملے میں ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے، اگر آئندہ سماعت تک معاوضہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں ذمے داران کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائیگی، سیکریٹری خزانہ عملدرآمد کرکے رپورٹ پیش کریں، عدالت نے آبزرویشن دی کہ سرکاری اداروں کی جانب سے مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے،چیف جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں2رکنی بینچ نے محمدشفیق اور دُربی بی سمیت 15افراد کی درخواست کی سماعت کی۔
درخواست میں صوبائی محکمہ خزانہ، پروجیکٹ ڈائریکٹرلیاری ایکسپریس وے اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے کہا گیاہے کہ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کیلیے مدعا علیہان نے درخواست گزاروں کی1158مربع گز پر مشتمل اراضی حاصل کی تھی اور2کروڑ 3 لاکھ92ہزار روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا معاہدہ کیا تھا،مدعا علیہان نے 18 ستمبر2008 کو درخواست گزاروں کی اراضی کا باقاعدہ قبضہ حاصل کرلیا تھا مگر رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی،متعدد درخواستوں کے بعد معاوضہ کا کچھ حصہ تو ادا کردیا گیا تاہم اب بھی معاوضہ کی رقم کے 152,000,00روپے واجب الادہیں جبکہ 3 اپریل 2013 تک مجموعی رقم پر 40لاکھ روپے سے زائد منافع بھی واجب الادا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حکام کو درخواست گزاروں کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیاجائے۔
سماعت کے موقع پرسیکریٹری خزانہ سہیل راجپوت نے بتایا کہ اس منصوبے پر پہلے ہی 5.4ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں جبکہ منصوبے کی تکمیل کیلیے مزید رقم درکار ہے اور متاثرین کو بھی بطور معاوضہ بھاری رقم کی ادائیگی کی گئی ہے،عدالت نے آبزروکیا کہ رقم کا ٹھیک استعمال نہیں ہوااور بے قاعدگیاں ہوئیں،سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی اپنے حصے سے 10کروڑ روپے سے زائد خرچ کرچکی ہے اور مالی بحران کے باعث سندھ حکومت کے پاس مزید رقم نہیں، اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پروجیکٹ ڈائریکٹرکو بھی معاوضہ کی ادائیگی کیلیے کہا گیا ہے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پرتوہین عدالت کی کارروائی کے خدشے سے بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔
اس موقع پر سرفرازسلہری ایڈوکیٹ نے بتایا کہ ان کے موکل نئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کوتاحال عہدہ سنبھالنے نہیں دیا گیاہے، صوبائی وزیرخزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ لیاری ایکسپریس کے لیے دی گئی رقم کا درست استعمال نہیں کیا گیااسی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں ، اگر فنڈز کا دیانتدارانہ استعمال کیا جاتاتو یہ بحران پیدا نہیں ہوتا، یہ بات انھوں نے سندھ ہائیکورٹ میں لیاری ایکسپریس وے کے متاثرین کو رقم کی ادائیگی کے معاملے کی سماعت کے موقع پر عدالت کوبتائی ۔