نہ تمہاری نہ ہماری ہائبرڈ پر ’’ڈن‘‘

پی سی بی نے ایشیا کپ کے معاملے پر خوب شور مچایا مگر نتیجہ کسی حد تک ہی حق میں رہا

پی سی بی نے ایشیا کپ کے معاملے پر خوب شور مچایا مگر نتیجہ کسی حد تک ہی حق میں رہا (فوٹو: کرک انفو)

''تم لوگوں (میڈیا) نے تو لکھ دیا کہ ایشیا کپ کا ہائبرڈ ماڈل مسترد ہو چکا، مسئلہ یہی ہے کہ ہمارا میڈیا بھارت میں جو بھی ٹی وی یا اخبارات میں آئے اسے سچ سمجھ کر اسٹوریز لگا دیتا ہے، صرف ہم ہی یہ نہیں کرتے وہاں کے صحافی بھی پاکستانی خبروں کو ایسے ہی شائع کر دیتے ہیں، کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی انتظار کرو، پھر سب کو پتا چل جائے گا''

میں گذشتہ دنوں امریکا میں تھا وہاں سے ایک دن پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی صاحب کو کال کی تو انھوں نے اپنے مخصوص خوشگوار انداز میں ہنستے ہوئے یہ باتیں کیں۔

ان کا اعتماد مجھے بتا رہا تھا کہ جلد کوئی مثبت خبر سامنے آنے والی ہے اور گذشتہ دنوں ایسا ہو گیا، گوکہ ایشیا کپ کے پاکستان میں صرف چار ہی میچز ہوں گے دیگر 9 کا انعقاد سری لنکا میں ہونا ہے مگر علامتی طور پر ہی سہی ملک میں مقابلوں میں انعقاد ضروری بھی ہے۔

اگر ایسا نہ ہوا تو ہمارے میدان انٹرنیشنل ایونٹس کی میزبانی کو ترستے ہی رہیں گے،خصوصا 2025 میں چیمپئنز ٹرافی کا انعقاد بھی خطرے میں پڑ جائے گا،تب بھی بھارتی ٹیم دورے سے انکار کر سکتی ہے، اب ایک نئی راہ کھل گئی کہ اگر دونوں روایتی حریف ٹیمیں ایک دوسرے کے ملک میں نہیں جانا چاہتیں تو نیوٹرل وینیو پر ہی کھیل لیں، کسی سنسنی خیز ٹی ٹوئنٹی میچ کی طرح ایشیا کپ کا کیا ہوگا یہ بھی آخر تک پتا نہیں تھا۔

پاکستان نے میزبانی چھنتے دیکھ کر ہائبرڈ ماڈل کی تجویز دی مگر بھارت پھر اڑ گیا،پی سی بی نے نیوٹرل وینیو کیلیے یو اے ای کا نام لیا تو گرمی کا بہانہ بنا کر پورا ایونٹ سری لنکا میں کرانے پر اصرار کیا جانے لگا جیسے وہاں برف باری ہو رہی ہو گی،اس پر صرف چار میچز پاک سرزمین میں کرانے کا کہا گیا مگر بی سی سی آئی مخالفت کرتے رہا،پھر پاکستان نے اپنے کارڈز شو کیے ورلڈکپ کے بائیکاٹ کی بھی دھمکی دے دی۔

آئی سی سی حکام لاہور آئے تو کچھ برف پگھلی،اس میٹنگ کی زیادہ تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں لیکن جلد ہی اس بات پر اتفاق ہوا کہ ایشیا کپ کے چار میچز پاکستان میں ہو جائیں گے لیکن گرین شرٹس کو ورلڈکپ کیلیے بھارت کا دورہ کرنا ہوگا ، پی سی بی نے آمادگی ظاہر کر دی یوں ایشیا کپ کی میزبانی بچ گئی۔

اب یہ الگ بحث ہے کہ اس سے ہمیں فائدہ ہو گا یا نقصان، فائدہ یہ ہے کہ طویل عرصے بعد ملک میں کوئی انٹرنیشنل کرکٹ ٹورنامنٹ ہوگا،آگے آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کا بھی موقع ملنا یقینی بنے گا،میزبانی کی فیس ملے گی، ایک سے زائد پاک بھارت میچز ہوں گے۔


نقصان یہ ہے کہ بھارتی ٹیم پاکستان نہیں آئے گی حالانکہ ہمارے ملک میں اب سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں رہا،اتنی ٹیمیں آ چکیں اور سب کو فول پروف سیکیورٹی دی گئی، کراؤڈ کا رویہ بھی زبردست رہا، جب آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ سمیت تمام سائیڈز آ گئیں تو بلو شرٹس کے نہ آنے کا کوئی جواز نہیں بنتا،اسی طرح ایشیا کپ کے صرف چار میچز سے شائقین کو تشنگی رہے گی، نیپال کیخلاف مقابلے میں کس کو دلچسپی ہو گی؟

کل کو چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کی طرح کوئی اور ٹیم بھی مطالبہ کر سکتی ہے کہ ہمارے میچز نیوٹرل وینیو پر رکھیں تو ان کو کس طرح کہیں گے کہ نہیں ہمارے ملک میں ہی کھیلیں، سب سے اہم سوال یہ بنتا ہے کہ اگر بھارتی ٹیم کو پاکستان میں نہیں کھیلنا تو ہمارے کھلاڑی کیوں وہاں جاتے ہیں؟ برسوں سے ایسا ہی ہو رہا ہے، ہائبرڈ ماڈل کی کامیابی پی سی بی کو موقع دے گی کہ وہ ورلڈکپ میں بھی اپنے میچز نیوٹرل وینیو پر کرانے کا مطالبہ کرے لیکن اگر واقعی کوئی ڈیل ہوئی ہے تو پاکستانی ٹیم بھارت جائے گی۔

ہماری حکومت نے پہلے کبھی نہیں روکا تو اب بھی ایسا ہونے کا امکان نہیں لگتا، یوں ایک وقتی فائدہ تو مل رہا ہے لیکن اصل مسئلہ جوں کا توں برقرار رہے گا، یہ درست ہے کہ آئی سی سی ایونٹ کا بائیکاٹ ممکن نہیں لیکن پاکستان بھارتی ٹیم کی مثال دے سکتا ہے کہ ان کی طرح ہمیں بھی حکومت اجازت نہیں دے رہی، منسٹری سے کوئی خط لینا کون سے مشکل کام ہوگا۔

اگر آئی سی سی ایونٹ کے میچز بھی نیوٹرل وینیو پر کرانے کی نوبت آئی تو شاید عالمی کرکٹ حکام اور بھارتی بورڈ بھی ہوش کے ناخن لے،احمد آباد میں پاکستان ٹیم کا بھارت سے کھیلنا خطرے سے خالی نہیں ہوگا ، اس حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، وہاں تو آئی پی ایل میچ تک میں کراؤڈ نے نٹ بولٹ میدان میں پھینک دیے تھے، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھی ایسے ہی غصہ اتارا جا سکتا ہے۔

پی سی بی کو کسی صورت احمد آباد جیسے شہر میں کھیلنے پر تیار نہیں ہونا چاہیے۔ اس تمام تر معاملے میں ایک بات واضح ہو گئی کہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان بھی اب کرکٹ میں ہمارے ساتھ نہیں ہیں، دولت کی وجہ سے ان کا تمام تر جھکاؤ بھارت کی جانب ہو چکا،ہمیں تعلقات بہتر بنانے ہوں گے۔

صرف چار غیر اہم میچز کرانے پر آمادگی، بھارتی ٹیم کے نہ آنے پر عدم اعتراض، یو اے ای میں میچز نہ کھیلنے کے مطالبے کی منظوری،سری لنکا میں مقابلوں پر ممکنہ مالی نقصان،ممکنہ طور پر احمد آباد میں کھیلنے پر آمادگی، یہ سب باتیں تو ظاہر کر رہی ہیں کہ پاکستان خسارے میں رہا، البتہ کرکٹ کا ہونا ان سب باتوں کو فراموش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

پی سی بی نے ایشیا کپ کے معاملے پر خوب شور مچایا مگر نتیجہ کسی حد تک ہی حق میں رہا، آپ نے اکثر گاہکوں کو دکانداروں سے بارگیننگ کرتے دیکھا ہوگا، آخر میں دکاندار تنگ آ کر یہی کہتا ہے کہ نہ تمہاری نہ ہماری اتنے میں طے کر لیتے ہیں، یہاں بھی ایسا ہی ہوا ''نہ تمہاری نہ ہماری ہائبرڈ پر ڈن کر لیتے ہیں''۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
Load Next Story