ادارے آئینی حدود میں رہیں تو تصادم کا خطرہ نہیں فضل الرحمن
جے یو آئی نے تحفظ پاکستان قانون پر اپنے تحفظات کا اظہار کردیا، بل کی مخالفت کرینگے
غیروں کی جنگ سے نکلے بغیر ملک میں امن مشکل ہے، حکمران آئی ایم ایف کے منشور پرعمل پیرا ہیں۔ فوٹو: فائل
جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آئین نے اداروں کی حدودکا تعین کردیا ہے۔
ہرادارے کواس کا پابند ہونا چاہیے جب ادارے آئینی حدود میں رہیں گے توپھرکھچائواور تلخیاں پیدا نہیں ہوں گی اورنہ ہی تصادم کاخطرہ ہوگا۔مرکزی میڈیاسیل کے مطابق مولانافضل الرحمن نے کہاکہ ایک ہی ملک کے تمام اداروں میں باہمی تعاون ہونا چاہیے۔ تحفظ پا کستان قانون پرجے یوآئی نے اپنے تحفظات کااظہارپار لیمنٹ کے اندراور باہرکردیاہے جے یوآئی کے نزدیک یہ بل غیر آئینی بھی ہے اورانسانی حقوق کے سراسرخلاف ہے اسی وجہ سے ہم نے اس بل کی مخالفت کافیصلہ کیا ہے انھوں نے کہاکہ غیروں کی جنگ سے نکلے بغیرملک میں امن مشکل ہے۔
ہرادارے کواس کا پابند ہونا چاہیے جب ادارے آئینی حدود میں رہیں گے توپھرکھچائواور تلخیاں پیدا نہیں ہوں گی اورنہ ہی تصادم کاخطرہ ہوگا۔مرکزی میڈیاسیل کے مطابق مولانافضل الرحمن نے کہاکہ ایک ہی ملک کے تمام اداروں میں باہمی تعاون ہونا چاہیے۔ تحفظ پا کستان قانون پرجے یوآئی نے اپنے تحفظات کااظہارپار لیمنٹ کے اندراور باہرکردیاہے جے یوآئی کے نزدیک یہ بل غیر آئینی بھی ہے اورانسانی حقوق کے سراسرخلاف ہے اسی وجہ سے ہم نے اس بل کی مخالفت کافیصلہ کیا ہے انھوں نے کہاکہ غیروں کی جنگ سے نکلے بغیرملک میں امن مشکل ہے۔