ایک جماعت کے کہنے پر بلدیاتی الیکشن بائیو میٹرک سسٹم کے تحت نہیں ہوسکتے قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور
بائیومیٹرک نظام کاتجربہ پہلے خیبر پختونخواکی ایک تحصیل میں کیاجائیگا، مشین آنے کے بعد8 ماہ لگیں گے،ڈی جی الیکشن کمیشن
بائیومیٹرک نظام کاتجربہ پہلے خیبر پختونخواکی ایک تحصیل میں کیاجائیگا، مشین آنے کے بعد8 ماہ لگیں گے،ڈی جی الیکشن کمیشن فوٹو: فائل
KARACHI:
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امورنے ارکان پارلیمنٹ کے لیے ٹریول کارڈکی فراہمی سمیت دیگرمراعات کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ بائیومیٹرک سسٹم کے تحت آئندہ بلدیاتی انتخابات کاانعقادکسی ایک جماعت کے کہنے پر نہیں ہوسکتا۔
اس کے لیے تمام جماعتوںکا اتفاق رائے حاصل کیاجائے۔ کمیٹی کااجلاس منگل کو چیئرمین میاںعبدالمنان کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈاکٹرنفیسہ شاہ نے تجویزپیش کی کہ عام انتخابات میںجنرل نشستوں پرخواتین کے لیے 10فیصدکوٹا مختص کیاجائے۔ اس حوالے سے بل بھی پارلیمنٹ میں لایاجائے گاجس پرچیئرمین کمیٹی نے کہاکہ تمام پارلیمانی جماعتیں ان کی اس رائے سے متفق ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ بیرون شہرآفیشل ذمے داریوںکے دوران اراکین قومی اسمبلی کو10روپے فی کلومیٹرکے بجائے پٹرول پراٹھنے والے تمام اخراجات دیے جائیں۔ کمیٹی ارکان کا مطالبہ تھاکہ ہم الگ ادارہ ہیںاس لیے مراعات کے معاملے پرہمیںدیگر سرکاری ملازمین کے ساتھ نہ ملایاجائے اور ہمیں ہمارا اصل حق دیاجائے۔
سیکریٹری پارلیمانی امورمنظوراحمدنے کہاکہ ٹریول کارڈ کے اجرا کیلیے بھی قواعدتبدیل کرناپڑیںگے۔ چیئرمین نے کہاکہ پی آئی اے کے جہازوںمیںجب بزنس کلاس ہی نہیں تواس کاہم سے ٹکٹ کیوں لیاجاتاہے؟ پی آئی اے حکام نے کہاکہ پی آئی اے کے پاس ٹریول کارڈبنانے کی صلاحیت ہی نہیںاس لیے ارکان اسمبلی کونہیںدیے جاسکتے۔ کمیٹی نے پی آئی اے کاموقف مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اگریہ صلاحیت قومی ایئرلائن کے پاس نہیں تویہ بڑی ناکامی ہے۔ چیئرمین نے پی آئی اے کے ایم ڈی اوردیگرافسران کی عدم شرکت پرناراضگی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اگرآئندہ اجلاس میںپی آئی اے حکام نے شرکت نہ کی تومعاملے کواستحقاق کمیٹی کے سپرد کریں گے۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے بریفنگ میں بتایاگیاکہ آئندہ عام انتخابات سے قبل الیکٹرونک ووٹنگ مشین کاپائلٹ پروجیکٹ کیلیے نادراکومکمل منصوبہ پیش کرناچاہیے۔ ڈی جی الیکشن کمیشن شیرافگن نے بتایاکہ بائیومیٹرک اور الیکٹرونک نظام کاتجربہ سب سے پہلے سپریم کورٹ کی اجازت کی صورت میںکے پی کے کی ایک چھوٹی سی تحصیل میں کیاجائے گا۔ اس میں بھی مشین آنے کے بعد 6 سے 8ماہ لگ جائیں گے۔ چیئرمین میاں عبدا لمنان نے کہاکہ ہرصوبے میں مختلف جماعتوںکی حکومت ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کہیں بائیو میٹرک اورکہیں الیکٹرونک ووٹنگ مشین سے بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امورنے ارکان پارلیمنٹ کے لیے ٹریول کارڈکی فراہمی سمیت دیگرمراعات کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ بائیومیٹرک سسٹم کے تحت آئندہ بلدیاتی انتخابات کاانعقادکسی ایک جماعت کے کہنے پر نہیں ہوسکتا۔
اس کے لیے تمام جماعتوںکا اتفاق رائے حاصل کیاجائے۔ کمیٹی کااجلاس منگل کو چیئرمین میاںعبدالمنان کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈاکٹرنفیسہ شاہ نے تجویزپیش کی کہ عام انتخابات میںجنرل نشستوں پرخواتین کے لیے 10فیصدکوٹا مختص کیاجائے۔ اس حوالے سے بل بھی پارلیمنٹ میں لایاجائے گاجس پرچیئرمین کمیٹی نے کہاکہ تمام پارلیمانی جماعتیں ان کی اس رائے سے متفق ہیں۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ بیرون شہرآفیشل ذمے داریوںکے دوران اراکین قومی اسمبلی کو10روپے فی کلومیٹرکے بجائے پٹرول پراٹھنے والے تمام اخراجات دیے جائیں۔ کمیٹی ارکان کا مطالبہ تھاکہ ہم الگ ادارہ ہیںاس لیے مراعات کے معاملے پرہمیںدیگر سرکاری ملازمین کے ساتھ نہ ملایاجائے اور ہمیں ہمارا اصل حق دیاجائے۔
سیکریٹری پارلیمانی امورمنظوراحمدنے کہاکہ ٹریول کارڈ کے اجرا کیلیے بھی قواعدتبدیل کرناپڑیںگے۔ چیئرمین نے کہاکہ پی آئی اے کے جہازوںمیںجب بزنس کلاس ہی نہیں تواس کاہم سے ٹکٹ کیوں لیاجاتاہے؟ پی آئی اے حکام نے کہاکہ پی آئی اے کے پاس ٹریول کارڈبنانے کی صلاحیت ہی نہیںاس لیے ارکان اسمبلی کونہیںدیے جاسکتے۔ کمیٹی نے پی آئی اے کاموقف مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اگریہ صلاحیت قومی ایئرلائن کے پاس نہیں تویہ بڑی ناکامی ہے۔ چیئرمین نے پی آئی اے کے ایم ڈی اوردیگرافسران کی عدم شرکت پرناراضگی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ اگرآئندہ اجلاس میںپی آئی اے حکام نے شرکت نہ کی تومعاملے کواستحقاق کمیٹی کے سپرد کریں گے۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے بریفنگ میں بتایاگیاکہ آئندہ عام انتخابات سے قبل الیکٹرونک ووٹنگ مشین کاپائلٹ پروجیکٹ کیلیے نادراکومکمل منصوبہ پیش کرناچاہیے۔ ڈی جی الیکشن کمیشن شیرافگن نے بتایاکہ بائیومیٹرک اور الیکٹرونک نظام کاتجربہ سب سے پہلے سپریم کورٹ کی اجازت کی صورت میںکے پی کے کی ایک چھوٹی سی تحصیل میں کیاجائے گا۔ اس میں بھی مشین آنے کے بعد 6 سے 8ماہ لگ جائیں گے۔ چیئرمین میاں عبدا لمنان نے کہاکہ ہرصوبے میں مختلف جماعتوںکی حکومت ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کہیں بائیو میٹرک اورکہیں الیکٹرونک ووٹنگ مشین سے بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں۔