خودکش حملوں سے شریعت آسکتی ہے نہ آپریشن سے امن پروفیسر ابراہیم

مذاکرات نتیجہ خیزبنانے کیلیے طالبان اورسیکیورٹی فورسزحملے بندکریں،میڈیاسے گفتگو

مذاکرات نتیجہ خیزبنانے کیلیے طالبان اورسیکیورٹی فورسزحملے بندکریں،میڈیاسے گفتگو۔ فوٹو: فائل

جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیراورطالبان رابطہ کمیٹی کے رکن پروفیسر محمدابراہیم خان نے کہاہے کہ مذاکرات کوکامیاب اورنتیجہ خیزبنانے کے لیے طالبان سیکیورٹی فورسزپرحملے اور فورسزطالبان کے خلاف فضائی حملے اورآپریشن بند کردیں۔

خودکش حملوں سے شریعت نافذ ہوسکتی ہے نہ ہی فضائی حملوں اورآپریشنوں کے ذریعے امن قائم ہوسکتا ہے۔ مرکزاسلامی میں گفتگوکرتے ہوئے پروفیسر ابراہیم خان نے کہاکہ امیدہے چند روز میں دونوں کمیٹیوں کی طالبان شوریٰ کی کمیٹی سے ملاقات ہوجائے گی۔ہمیں طالبان کے جواب کاانتظار ہے۔ میجر عامر کا مذاکراتی عمل سے علیحدگی کااعلان مذاکرات کے لیے نقصان دہ ہے۔کوشش کریں گے وہ مذاکراتی عمل کاحصہ رہیں۔


انھوں نے کہاکہ ایئرچیف کا بیان قابل افسوس ہے جب امریکی درندے سلالہ چیک پوسٹ پر2گھنٹے تک آپریشن کرکے ہمارے جوانوں کوشہیدکررہے تھے اس وقت وہ کہاں تھے؟ آن لائن کے مطابق جمعیت علمائے اسلام س کے صوبائی امیروطالبان مذاکراتی کمیٹی کے کو آرڈینیٹر مولانا سیدیوسف شاہ نے کہاکہ آپریشن مسائل کاحل نہیں۔ بنوں میں انتخابی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن میجر(ر) عامرکوہم منالیں گے۔

 
Load Next Story