شہدائے وطن کو خراج عقیدت

ملک بھر میں پاک فوج اور آئی ایس آئی سے اظہار یکجہتی کے لیے مختلف شہروں میں ریلیاں اور مظاہرے جاری ہیں...

ملک بھر میں پاک فوج اور آئی ایس آئی سے اظہار یکجہتی کے لیے مختلف شہروں میں ریلیاں اور مظاہرے جاری ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے دفاع کے مقدس مشن کے لیے پوری قوم اپنی بہادر افواج کی پشت پر ہے۔ ملکی دفاع کے استحکام کے لیے افواج اور عوام کے اس باہمی رشتے کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بدھ کو پاک فوج کے یوم شہداء کے موقع پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ آج کا دن ہمیں وطن عزیز کے ان بہادر جانبازوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنی جانیں مادر وطن کے دفاع کی نذر کر دیں اور اپنے لہو سے ایثار و قربانی کی تابندہ تاریخ رقم کی۔

وزیر اعظم نے فوج کے شہدائے وطن کی یاد کے موقع پر جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ ایک طرف خراج عقیدت کے پر جوش جذبہ کا مرہون منت ہیں لیکن دوسری جانب ملکی سالمیت کو درپیش خطرات، تبدیل ہوتی ہوئی علاقائی صورتحال، داخلی امن، وفاق اور صوبائی اکائیوں کی یک جہتی، آزادی اظہار و اجتماع اور سیاسی و اقتصادی حقائق اور صبر آزما چیلنجز کے پیش نظر چشم کشا ہیں۔ اس سے قبل وزیر اعظم 3 روزہ دورے پر لندن پہنچے، برطانیہ کے سرکاری دورے پر لندن پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات نیک نیتی کے ساتھ شروع کیے ہیں اور اس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔ انھوں نے کہا کہ میڈیا آزاد ہے۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور دیگر حکومتی شخصیات بھی وزیر اعظم کے ساتھ ہیں۔ انھیں دورے کی دعوت برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دی ہے۔ دونوں ہم منصب رہنماؤں کے درمیان بدھ کو ون ٹو ون ملاقات ہوئی۔ اس انتہائی اہم ملاقات میں افغانستان سے امسال برطانوی فوج کے انخلا اور مستقبل میں پاکستان اور برطانیہ کی حکمت عملی پر بات کی گئی۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف سے بین الاقوامی ترقی کی برطانوی وزیر جسٹین گریننگ نے ملاقات کی جس کے دوران ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ملاقات کے دوران کہا کہ ہماری ترجیحات میں معیشت کی بحالی، توانائی کی قلت پر قابو پانا، شدت پسندی کا خاتمہ اور انسانی حقوق کا فروغ شامل ہیں۔

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ہماری مسلح افواج پوری تن دہی، چابکدستی اور مستعدی سے ملکی سرحدوں کی نگہبانی پر مامور ہیں، دشمن ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ ہماری فوج دنیا کی مانی ہوئی فوج ہے جس کی پیشہ ورانہ اہلیت، جنگی صلاحیت، عسکری و انتظامی مہارت، روایتی و جدید ہتھیاروں سے دشمن کو زیر کرنے کی طاقت مسلمہ ہے تاہم عالمی برادری کو اچھی طرح ادراک ہے کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے جو عالمی امن کے قیام کی کوششوں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا ہے، اس نے اپنے کسی پڑوسی یا برادر ملک کے خلاف جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم نہیں رکھے جب کہ اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی فوجی دستوں نے عالمی سطح پرجو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ان کی عالمی برادری نے تعریف و توصیف کی ہے۔


اگرچہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان کو ماضی میں بھارتی جارحیت سمیت دیگر طاقتوں کی جانب سے بھی بین الاقوامی ریشہ دوانیوں، مکر و فریب اور وعدہ خلافیوں کا سامنا کرنا پڑا، نائن الیون کے بعد دہشت گردی کا سب سے بڑا اور ناقابل بیان عذاب پاکستان پر نازل ہوا، اس کی معیشت، معاشرت اور سیاسی استحکام تک کو خطرے میں ڈالا گیا مگر ان عظیم چیلنجوں کے مقابل قوم و ملک کو سرخروئی کے ساتھ لمحہ موجود تک لانے میں ہماری مسلح افواج کی پیشہ ورانہ استقامت، عدم جارحیت اور امن پسندی نے بے مثال کردار ادا کیا ہے، اور قوم ان ہی قربانیوں کی بدولت اپنی فوج کی سرفرازی اور نیک نامی پر نہ صرف دل و جان نثار کرنے پر تیار ہے بلکہ ان بدخواہوں اور ملک دشمنوں کی منفی کوششوں، ہرزہ سرائیوں اور سازشوں پر برہم بھی ہے جو نہیں چاہتے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور آئی ایس آئی ملکی داخلی و خارجی سلامتی کے محافظ کے طور پر اپنا پیشہ ورانہ اور قومی کردار بلا روک ٹوک ادا کریں۔

چنانچہ ملک بھر میں پاک فوج اور آئی ایس آئی سے اظہار یکجہتی کے لیے مختلف شہروں میں ریلیاں اور مظاہرے جاری ہیں۔ ادھر وفاقی وزیرداخلہ و انسداد منشیات چوہدری نثار علی خان کا بیان قابل غور ہے جس میں انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندرمودی کے گزشتہ دنوں دیے گئے ایک بیان پر بروقت شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ نریندر مودی کا بیان غیر ذمے دارانہ ہے۔ ہندوستان کے ایک متوقع وزیر اعظم اور ایک بڑی پارٹی کے سربراہ کا یہ بیان اشتعال انگیز، قابل مذمت اور پاکستان دشمنی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ بھارت سے دوستی کے علمبردار مودی کے عزائم کو بھی پیش نظر رکھیں۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم نے کہا کہ قوم کے کل کی خاطر اپنا آج قربان کر دینے والے یہ عظیم فرزند ہمارے محسن ہیں۔

ان شہیدوں کا مقدس لہو ہمیشہ مسلح افواج کے جوانوں اور افسروں کے دلوں میں دفاع وطن کے عزم کو زندہ رکھے گا، مبارکباد کے لائق ہیں وہ والدین جن کی آغوش میں قوم کے ان بہادر بیٹوں نے پرورش پائی۔ پوری قوم ان شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ یہ شہدا مسلح افواج کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے پاکستان کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

سربراہ حکومت کا یہ عزم اس امر کا اظہار ہے کہ حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات میں نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ داخلی امن کے لیے ہر ممکن اقدامات کے لیے تیار بھی ہے۔ تاہم عالمی اقدار کی پاسداری، بین الاقوامیت کے اصولوں ، عوام کی معاشی آسودگی اور سیاسی استحکام کے لیے سفارت کاری سے لے کر سرمایہ کاری کے نئے امکانات کو بروئے کار لانے میں جن حکومتوں نے ماضی میں کبھی اتنی دل سوزی اور سنجیدگی سے قومی امور کی انجام دہی کے مراحل طے کیے ہیں تو موجودہ حکومت کی سمت بھی اس تسلسل کو برقرار رکھنے کا عندیہ دیتی ہے۔

چنانچہ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور فوج تمام تر شور و غل کے باوجود ذہن و روح اور قول و فعل کی مطابقت کے ساتھ ایک صفحہ پر رہیں، اسی میں قوم و ملک کا مفاد ہے۔ ساتھ ہی اختلاف رائے کو جمہوری حسن قرار دینے والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ جمہوری اسپرٹ، صبر و تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کریں اور اس حساس لکیر کو عبور کرنے کی مہم جوئی سے اجتناب کریں جس کے باعث ممکنہ طور پر ریاستی اداروں کے مابین تعلقات کار کی شکل میں موجود ہم آہنگی کو زک پہنچنے کا احتمال ہو۔ سول سوسائٹی، میڈیا، سیاسی و جمہوری قوتیں، عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ اپنی افواج کے وقار و احترام، فوجی جوانوں کی لازوال قربانیوں کو یاد رکھیں۔
Load Next Story