ایل این جی کی درآمد کیلیے اہم پیش رفت سوئی سدرن اور ای ٹی پی ایل میں سروس معاہدے پر دستخط

سالانہ ڈھائی ارب ڈالر کی ایل این جی منگوائی جائیگی، پی ایس او درآمد، ای ٹی پی ایل ری گیسفکیشن خدمات۔۔۔، وزیر پٹرولیم

سوئی سدرن گیس کمپنی اور ایلنجی ٹرمینل پاکستان لمیٹڈ (ای ٹی پی ایل) کے درمیان ایل این جی کیلیے معاہدے پر دستخط کے بعد چیف ایگزیکٹو آفیسر ای ٹی پی ایل شیخ عمران الحق اور منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس جی سی زہیر صدیقی دستاویزات کا تبادلہ کررہے ہیں، اس موقع پر وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی ودیگر بھی موجود ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

پاکستان میں ایل این جی کی درآمد کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی اور اینگرو ایلنجی ٹرمینل پرائیوٹ لمیٹڈ (ای ٹی پی ایل) کے درمیان سروس ایگریمنٹ طے پاگیا ہے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کے صدر دفتر میں منعقدہ تقریب میں ایس ایس جی سی کے ایم ڈی زہیر صدیقی اور ای ٹی پی ایل کے سی ای او شیخ عمران الحق نے دستخط کیے، اس موقع پر وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی اور وزیر مملکت جام کمال خان بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے پاور جنریشن کے ساتھ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نظام کو موثر بنانے میں مصروف ہے، ایل این جی کی درآمد پاکستان میں توانائی کا بحران کم کرنے کے ساتھ فرنس آئل پر چلنے والے پاور پلانٹس کی لاگت کم کرنے میں مدد دے گی جس سے معیشت کو فروغ حاصل ہوگا۔


انہوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت سالانہ 2 ارب سے 2.5 ارب ڈالر کی ایل این جی درآمد کرکے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ذریعے ملک بھر میں فراہم کی جائیگی، ای ٹی پی ایل ٹرمینل کے ذریعے ری گیسفکیشن کی خدمات فراہم کرے گا جبکہ پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی ایل این جی درآمد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی درآمد سے سسٹم میں یومیہ 400 ایم ایم سی ایف گیس کا اضافہ ہوگا، ٹرمینل آپریٹر کو ٹول کی مد میں سالانہ 100 ملین ڈالر تک کی آمدن ہوگی، معاہدے کے تحت آپریٹر کو ٹرمینل کی تعمیر کے لیے 335 روز کی انتہائی قلیل مدت دی گئی ہے تاہم اینگرو نے اس مدت سے بھی کم میں ٹرمینل کی تعمیر مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایل این جی کی درآمد سے گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم گیس کی موجودہ قلت اور توانائی کے بحران کو کم کرنے میں مدد ملے گی، ایل این جی کی درآمد کے بعد مائع ایندھن پر چلنے والے پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی ممکن ہوگی جس سے سالانہ 100 ملین ڈالر کی بچت ہوگی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایل این جی کی درآمد کے بعد یو ایف جی کی مد میں مالی خسارہ بڑھنے کا خدشہ ہے تاہم اوگرا اور وزارت پٹرولیم یو ایف جی کو عالمی پیمانے پر رکھنے کی کوشش کرے گی۔ ای ٹی پی ایل کے سی ای او شیخ عمران الحق نے کہا کہ معیشت پر توانائی کے بحران کے اثرات کم کرنے کے لیے ایل این جی کی درآمد ہی سب سے شارٹ ٹرم حل ہے، گیس کی طلب و رسد کا فرق 1.6 بلین کیوبک فٹ ہے، 400 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی مہیا ہونے سے یہ فرق ایک چوتھائی کم ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹولنگ فیس 0.66 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے جو انٹرنیشنل بنچ مارک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، اس معاہدے میں ٹرمینل آپریٹرز کے لیے کڑی شرائط رکھی گئی ہیں، 11 ماہ کی مقررہ مدت میں تکمیل نہ ہونے کی صورت میں اینگرو کو 0.15 ملین ڈالر یومیہ ادا کرنا ہوں گے، اسی طرح سروس فیکٹر کی حد بھی 95 فیصد اور اس سے زائد رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ میں ماحولیاتی تحفظ بالخصوص سمندری مینگروز کا خیال رکھا جائے گا۔
Load Next Story