جنرل راحیل شریف کا خطاب

پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے ہرکوشش کی حمایت کرتی ہے...

پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے ہرکوشش کی حمایت کرتی ہے۔فوٹو:ایکسپریس نیوز

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے جی ایچ کیو میں یوم شہداء کی تقریب سے خطاب میں دہشتگردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے حکومتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف سرگرم تمام عناصر غیرمشروط طور پر آئین اورقانون کی مکمل اطاعت قبول کرکے قومی دھارے میں واپس آ جائیں، بصورت دیگر ریاست کے باغیوں سے نمٹنے کے معاملے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں، پاکستانی غیور عوام اور افواج ایسے عناصرکو کیفرکردار تک پہنچانے کی بھرپورصلاحیت رکھتی ہیں، افواج پاکستان جمہوریت کے استحکام، آئین و قانون کی پاسداری پر یقین رکھتی ہیں۔

کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور بین الاقوامی تنازع ہے اس کوکشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنا علاقائی سلامتی اور پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے،کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، افواج پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ریاست کے خلاف برسرپیکار گروہوں کو واضح طور پر دعوت دی ہے کہ وہ غیر مشروط طوراپنی سرگرمیاں ترک کرتے ہوئے قومی دھارے میں واپس آ جائیں' انھوں نے ایسے گروہوں پر واضح کر دیا ہے کہ اگر انھوں نے ریاست کی بالادستی کو چیلنج کیا تو پھر وہ یہ جان لیں کہ فوج ہر چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

ریاست کے خلاف برسرپیکار گروہوں کو بھی اس حقیقت کا ادراک کرلینا چاہیے کہ وہ طاقت کے زور پر ریاست کو جھکا نہیں سکتے'ریاست ان سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے۔ دنیا کی کوئی بھی فوج عوام کے تعاون کے بغیر اپنے ملک کے دفاع میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پاکستانی قوم نے ہر موقع پر اپنی فوج پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اسی اعتماد کا مظہر ہے کہ فوج دفاع وطن کے مقدس فریضے کو پوری جانفشانی کے ساتھ ادا کر رہی ہے۔آرمی چیف نے بھی اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک افواج کی طاقت کا سرچشمہ عوام کا اعتماد ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاک فوج ملک کے ناقابل تسخیر دفاع کی علامت ہے۔ اس نے اندرون اور بیرون ملک ہرچیلنج اور مشکل وقت میں اپنے فرائض جانفشانی اور بھرپور لگن سے ادا کیے ہیں۔

سیلاب ہو یا زلزلہ،داخلی یا بیرونی طور پر ملک کو کوئی چیلنج درپیش ہو پاک فوج نے بہادری،جرات اور سرفروشی کی جو مثال قائم کی ہے اس پر پوری قوم کو سر فخر سے بلند ہے۔ پاک فوج کی بہترین پیشہ ورانہ تربیت' صلاحیت اور وطن کے دفاع کے لیے قربانی کا وہ بے مثال جذبہ ہی ہے کہ کوئی بھی بیرونی دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا اور جب بھی کسی نے ایسی جرات کی تو پاک فوج نے اسے منہ توڑ جواب دیا۔ آج داخلی سطح پر ملک کو مسلح گروہوں کی جانب سے جو خطرات درپیش ہیں پاک فوج ان کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی اور ہر امتحان اور آزمائش پر پورا اترتے ہوئے وطن کے دفاع کو ہر ممکن یقینی بنائے ہوئے ہے۔


آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی موجودہ صورتحال کی منظر کشی کرتے ہوئے کہا کہ آج بحیثیت قوم ہمیں ایک ایسی جنگ کا سامنا ہے جس سے افواج پاکستان کے ساتھ ریاست کے تمام ادارے اور پاکستانی عوام بھی برسرپیکار ہیں، ہمارے ملک کو بے شمار اندرونی وبیرونی چیلنجزکا سامنا ہے مگرمیں یقین دلاتاہوں کہ افواج پاکستان سیکیورٹی کے دیگر اداروں خصوصاً سول آرمڈ فورسز، پولیس اورانٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مل کر اپنے فرائض پورے کرتے ہوئے ان تمام خطرات کے خلاف دیوار بن کر کھڑی رہیں گی اوردشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیں گی۔

پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے ہرکوشش کی حمایت کرتی ہے، پاک افواج کی طاقت کا سرچشمہ عوام کا اعتماد ہے اور پاکستانی قوم نے ہمیشہ اپنی افواج کا ساتھ دیا ہے قوم کی حمایت کے ساتھ یقیناً ہمارے بہادر سپوت قومی سلامتی کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرینگے، انشاء اللہ ہر آنیوالادن عوام اور افواج پاکستان کے رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر کرے گا۔ یہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ تربیت اور اعلیٰ صلاحیتوں ہی کا مظہر ہے کہ بدامنی پھیلانے والا کوئی بھی عسکری گروہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

ملک کے مضبوط دفاع کے لیے فوج کو جدید ٹیکنالوجی اور نئے جنگی ہتھیاروں سے آراستہ کرنا ناگزیر ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب کسی ملک کی معیشت مضبوط ہو اور وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق دفاعی اخراجات پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو کیوں کہ جدید جنگی ہتھیاروں کے حصول اور دفاعی تیاریوں پر زرکثیر صرف ہوتا ہے۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کوئی بھی فوج قوم کی مدد کے بغیر ملک کا دفاع ممکن نہیں بنا سکتی' جس فوج کو قوم کا اعتماد حاصل ہو گا وہ ہی ہر چیلنج اور مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے سرخرو ہو سکتی ہے۔ اس لیے ملک کے دفاع کے لیے ضروری ہے کہ قوم متحد ہو۔

مختلف فرقوں میں بٹی ہوئی اور آپس میں دست و گریبان قوم اپنا دفاع نہیں کر سکتی۔ یہ امر واضح ہے کہ فوج نے آئین اور قانون کی پاسداری اور بالادستی پر یقین رکھتے ہوئے جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا کردار بخوبی سرانجام دیا ہے۔آج ملک کو جو چیلنجز درپیش ہیں ان کا تقاضا ہے کہ حکومت' فوج اور عوام متحد ہو کر ان کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔ اسی میں پاکستان کا استحکام،سلامتی اور خوشحالی کا راز مضمر ہے۔
Load Next Story