نواز شریف ڈیوڈ کیمرون ملاقات
برطانیہ پاکستان میں تعلیمی شعبے کی ترقی کے لیے پہلے ہی بہت سے منصوبوں پر کام کر رہا ہے ...
برطانیہ پاکستان میں تعلیمی شعبے کی ترقی کے لیے پہلے ہی بہت سے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ فوٹو : اے پی پی
KARACHI:
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات میں یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کا دشمن ہمارا بھی دشمن ہے۔ نیز اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دونوں ملک دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ملکر جدوجہد جاری رکھیں گے۔پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات شروع دن سے ہی بہتر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں پاکستان نے برطانیہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ پاکستان نے اس جنگ میں بڑی قربانیاں دیں جس کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کئی بار کیا گیا۔اب ایک بار پھر برطانوی وزیراعظم نے پاکستانی وزیراعظم کو دہشت گردی کے خلاف مل کر جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انھیں یقین دہانی کرا دی ہے کہ برطانیہ اس جنگ میں پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور جو قوتیں پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں برطانیہ ان سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا ساتھ دے گا۔
برطانوی وزیراعظم کی یہ یقین دہانی جہاں خوش کن امر ہے وہاں دوسری جانب ایسی قوتیں بھی موجود ہیں جو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے دورہ برطانیہ پر لندن پہنچنے سے محض چند گھنٹے پیشتر انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی نے رپورٹ جاری کر دی جس میں پاکستان پر انتہا پسندی کا الزام عاید کرتے ہوئے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اپنی حکومت پر زور دیا کہ پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی امداد کو انتہا پسندی کے خاتمے کی کامیاب کوششوں سے مربوط کیا جائے۔ واضح رہے اس سال پاکستان کو برطانیہ کی طرف سے سات سو پچاس ملین (75 کروڑ) ڈالر کی امداد دینے کی یقین دہانی کرائی جا چکی ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ لندن کے موقع پر برطانوی حکومت نے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ وہ قوتیں جو پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوستانہ تعلقات کو خراب کرنے کے لیے سرگرم ہیں' کامیاب نہیں ہو پائیں گی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پاکستان میں معاشی نظام کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی دعوت دے رہے ہیں۔
چرچل ہوٹل میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب میں وزیر اعظم نے برطانوی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ آئیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور سو فیصد منافع لے کر جائیں' برطانیہ نے جی ایس پی پلس کے معاملے پر ہماری مدد کی تھی، اب یورپی یونین سے فری ٹریڈ کے لیے ہماری مدد کرے۔ امید ہے3 سال میں شرح نمو 6 فیصد سالانہ پر لے آئیں گے، اب تک سسٹم میں 3 ہزار میگاواٹ بجلی لا چکے ہیں' اکتوبر تک مزید 9 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں لے آئیں گے۔ وزیراعظم کا دورہ برطانیہ کامیاب رہا ہے اور برطانیہ نے ان کی اقتصادی اور معاشی پالیسی کا اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان مل کر دہشتگردی کے خلاف مقابلہ کریں گے۔ لاہور میں برطانیہ کا ڈپٹی ہائی کمیشن قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے' 2015ء تک برطانیہ پاکستان میں تجارتی شعبہ میں تین ارب پاونڈ کی سرمایہ کاری کرے گا' قیمتی معدنیات کا برطانوی ادارہ پاکستان میں10کروڑ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری بھی کرے گا' پروگرام کے تحت روزگار کے چار لاکھ مواقع پیدا ہوں گے جب کہ نوجوانوں اور خواتین کے لیے دو لاکھ روزگار کے مواقع دستیاب ہوں گے' برطانیہ پاکستان میں ٹیکس کا دائرہ دوگنا کرنے میں بھی تعاون کریگا جب کہ برطانیہ کی جانب سے تعلیم کا بجٹ دوگنا کرنے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔
برطانیہ پاکستان میں تعلیمی شعبے کی ترقی کے لیے پہلے ہی بہت سے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اب اس کی طرف سے تعلیم کا بجٹ دگنا کرنے سے پاکستان میں تعلیم کا شعبہ مزید مضبوط ہو گا۔ پاکستانی حکومت کو برطانوی حکومت سے تعلیم کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ وظائف حاصل کرنے کے لیے بھی کوشش کرنا چاہیے' وہ پاکستانی طالب علم جو برطانیہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کی مشکلات کے حل کے لیے بھی باقاعدہ ایک ادارہ قائم کیا جانا چاہیے۔ تعلیم کا شعبہ جتنا مضبوط ہو گا پاکستان اتنا ہی زیادہ ترقی کرے گا۔ میاں محمد نواز شریف کے دورہ برطانیہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور ان کے درمیان بہت سے شعبوں میں تعاون بڑھے گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی اسی جانب اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو گی۔
برطانوی وزیراعظم نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے برطانیہ کی دوستی بہت مثبت نتائج کی حامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید فروغ کے لیے بات چیت جاری رہے گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے برطانیہ پر واضح کر دیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور اس نے اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کا مکمل تہیہ کر رکھا ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی اور دہشت پسندی نے پاکستان کو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان پہنچایا لیکن پاکستانی حکومت جھکنے کے بجائے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات میں یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کا دشمن ہمارا بھی دشمن ہے۔ نیز اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دونوں ملک دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ملکر جدوجہد جاری رکھیں گے۔پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات شروع دن سے ہی بہتر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں پاکستان نے برطانیہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ پاکستان نے اس جنگ میں بڑی قربانیاں دیں جس کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کئی بار کیا گیا۔اب ایک بار پھر برطانوی وزیراعظم نے پاکستانی وزیراعظم کو دہشت گردی کے خلاف مل کر جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انھیں یقین دہانی کرا دی ہے کہ برطانیہ اس جنگ میں پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور جو قوتیں پاکستان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں برطانیہ ان سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا ساتھ دے گا۔
برطانوی وزیراعظم کی یہ یقین دہانی جہاں خوش کن امر ہے وہاں دوسری جانب ایسی قوتیں بھی موجود ہیں جو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کے دورہ برطانیہ پر لندن پہنچنے سے محض چند گھنٹے پیشتر انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کمیٹی نے رپورٹ جاری کر دی جس میں پاکستان پر انتہا پسندی کا الزام عاید کرتے ہوئے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اپنی حکومت پر زور دیا کہ پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی امداد کو انتہا پسندی کے خاتمے کی کامیاب کوششوں سے مربوط کیا جائے۔ واضح رہے اس سال پاکستان کو برطانیہ کی طرف سے سات سو پچاس ملین (75 کروڑ) ڈالر کی امداد دینے کی یقین دہانی کرائی جا چکی ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورہ لندن کے موقع پر برطانوی حکومت نے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ وہ قوتیں جو پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوستانہ تعلقات کو خراب کرنے کے لیے سرگرم ہیں' کامیاب نہیں ہو پائیں گی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف پاکستان میں معاشی نظام کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کے لیے ملکی سرمایہ کاروں کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی دعوت دے رہے ہیں۔
چرچل ہوٹل میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب میں وزیر اعظم نے برطانوی سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ آئیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کریں اور سو فیصد منافع لے کر جائیں' برطانیہ نے جی ایس پی پلس کے معاملے پر ہماری مدد کی تھی، اب یورپی یونین سے فری ٹریڈ کے لیے ہماری مدد کرے۔ امید ہے3 سال میں شرح نمو 6 فیصد سالانہ پر لے آئیں گے، اب تک سسٹم میں 3 ہزار میگاواٹ بجلی لا چکے ہیں' اکتوبر تک مزید 9 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں لے آئیں گے۔ وزیراعظم کا دورہ برطانیہ کامیاب رہا ہے اور برطانیہ نے ان کی اقتصادی اور معاشی پالیسی کا اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے وزرائے اعظم کی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان مل کر دہشتگردی کے خلاف مقابلہ کریں گے۔ لاہور میں برطانیہ کا ڈپٹی ہائی کمیشن قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے' 2015ء تک برطانیہ پاکستان میں تجارتی شعبہ میں تین ارب پاونڈ کی سرمایہ کاری کرے گا' قیمتی معدنیات کا برطانوی ادارہ پاکستان میں10کروڑ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری بھی کرے گا' پروگرام کے تحت روزگار کے چار لاکھ مواقع پیدا ہوں گے جب کہ نوجوانوں اور خواتین کے لیے دو لاکھ روزگار کے مواقع دستیاب ہوں گے' برطانیہ پاکستان میں ٹیکس کا دائرہ دوگنا کرنے میں بھی تعاون کریگا جب کہ برطانیہ کی جانب سے تعلیم کا بجٹ دوگنا کرنے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔
برطانیہ پاکستان میں تعلیمی شعبے کی ترقی کے لیے پہلے ہی بہت سے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اب اس کی طرف سے تعلیم کا بجٹ دگنا کرنے سے پاکستان میں تعلیم کا شعبہ مزید مضبوط ہو گا۔ پاکستانی حکومت کو برطانوی حکومت سے تعلیم کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ وظائف حاصل کرنے کے لیے بھی کوشش کرنا چاہیے' وہ پاکستانی طالب علم جو برطانیہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کی مشکلات کے حل کے لیے بھی باقاعدہ ایک ادارہ قائم کیا جانا چاہیے۔ تعلیم کا شعبہ جتنا مضبوط ہو گا پاکستان اتنا ہی زیادہ ترقی کرے گا۔ میاں محمد نواز شریف کے دورہ برطانیہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور ان کے درمیان بہت سے شعبوں میں تعاون بڑھے گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی اسی جانب اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو گی۔
برطانوی وزیراعظم نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے برطانیہ کی دوستی بہت مثبت نتائج کی حامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید فروغ کے لیے بات چیت جاری رہے گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے برطانیہ پر واضح کر دیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں اور اس نے اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کا مکمل تہیہ کر رکھا ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی اور دہشت پسندی نے پاکستان کو بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان پہنچایا لیکن پاکستانی حکومت جھکنے کے بجائے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔