حقیقی عوامی نمایندوں کی ضرورت

جنرل پرویز کے ضلع نظام میں دیہی اور شہری کونسلوں میں فرق ہی نہیں تھا ۔۔۔۔

KARACHI:
ملک میں بلدیاتی انتخابات سے زیادہ عام انتخابات ہوئے ہیں جن میں عوام نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے اپنے جن ارکان کو ووٹ دیے وہ عوامی نمایندے ضرورکہلائے مگر انھوں نے ہمیشہ اپنے اصل کام قانون سازی میں دلچسپی نہیں لی اور ان کی دلچسپی ہمیشہ اپنے ایوانوں سے باہر ان معاملات میں دیکھی گئی جس کے لیے نہ وہ منتخب ہوئے تھے اور نہ یہ ان کا کام تھا۔

ارکان اسمبلی کی اپنے اصل کام میں عدم دلچسپی ہی کا نتیجہ ہے کہ قومی صوبائی اور سینیٹ کے ایوانوں میں کورم پورا ہونا اہم مسئلہ بنا ہوا ہے جس کی ایک افسوسناک مثال سندھ اسمبلی کا ایک حالیہ اجلاس تھا جس میں صرف 6 ارکان شریک تھے جب کہ سندھ اسمبلی کے ارکان کی تعداد 168 ہے۔ ایوان میں صرف چھ ارکان موجود ہونے پر بھی کارروائی چلائی گئی اور صوبائی وزیر تعلیم نے ان چھ ارکان سے خطاب بھی کیا اور ایوان کی 162 سے زائد خالی نشستیں اپنے عوامی نمایندوں کی غیر ذمے داری کا ثبوت فراہم کرتی رہیں۔

ایسی عدم دلچسپی صرف سندھ اسمبلی کے ایوان ہی میں نہیں بلکہ قومی اسمبلی، پنجاب، بلوچستان، کے پی کے اور سینیٹ میں بھی اکثر نظر آتی ہے اور ہمارے ان منتخب ارکان اسمبلی کا پہلا سال بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔

ہر اسمبلی کے اسپیکر کی یہ مجبوری ہے کہ وہ اپنے چیمبر میں آنے کے بعد کورم پورا ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور اکثر کورم گھنٹوں انتظار کے بعد بھی پورا نہیں ہوتا۔ ارکان کو بلانے کے لیے گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں تاکہ اسمبلی بلڈنگ میں موجود ارکان کو احساس ہوجائے کہ ایوانوں میں ان کا انتظار ہو رہا ہے مگر وہ اول تو وقت پر اسمبلی آتے نہیں اور اگر آجائیں تو کیفے ٹیریاز میں خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں اور ایوان میں آکر حاضری لگانے کی زحمت بھی وہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی حاضری ہوجانے سے ان کا ٹی ای ڈی اے کھرا ہوجائے اور اجلاسوں میں شرکت کی ان کی قانونی ضرورت بھی پوری ہوجائے۔

سندھ اسمبلی کے اسپیکر نے اعلان تو کیا ہے کہ وہ آیندہ وقت مقررہ پر اجلاس شروع کردیا کریں گے مگر ایسا ہوگا نہیں کیونکہ چند ارکان کی موجودگی سے نہ کورم پورا ہوگا نہ اجلاس بلانے کا مقصد پورا ہوگا اور اخلاقی طور پر چند ارکان کی موجودگی میں کارروائی چلانا ممکن بھی نہیں ہوگا۔

ارکان اسمبلی سالانہ لاکھوں روپے بطور مختلف الاؤنسز اجلاسوں میں شرکت کی حاضری لگا کر ہی وصول کرتے ہیں اور گھر بیٹھے وہ یہ الاؤنسز وصول کرنے کے حقدار بھی نہیں ہوتے اس لیے ارکان اسمبلی نے اپنا الاؤنس حلال کرنے کا یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے ایوان میں آکر حاضری لگوا لیتے ہیں پھر ایک دوسرے کی نشست پر جاکر حال احوال کرتے گپیں لگاتے ہیں کبھی کبھی بعض ارکان کو ایوان کے ٹھنڈے ماحول میں نیند بھی آجاتی ہے جنھیں سوتے ہوئے ٹی وی چینلز اور اخباروں میں بھی دکھایا گیا ہے۔


مختصر حاضری کے بعد اکثر ارکان ایوانوں سے باہر چلے آتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حاضری سے ان کی ذمے داری پوری ہوگئی اور کورم پورا کرنا ان کی ذمے داری نہیں ہے۔ ملک میں اول تو باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات ہوئے نہیں اور اگر آمروں کی حکومت کے تحت ہوئے تو ملک بھر میں بلدیاتی ایوانوں کی رونق دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ بلدیاتی ایوانوں میں کبھی کورم کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ بلدیاتی اداروں کے ایوان بھی ان کے علاقوں کی آبادی کے مطابق تعداد میں ہوتے ہیں مگر شہری اور دیہی علاقوں کا فرق وہاں ضرور نمایاں ہوتا ہے اور دیہی اور شہری بلدیاتی حلقے جنرل ایوب اور جنرل ضیا کے دور میں تھے جب کہ جنرل پرویز کے دور میں دیہی اور شہری حلقوں کا فرق ہی ختم کردیا گیا تھا جو بہترین تھا۔

راقم کو بطور رپورٹر اور کونسلر شہری اور دیہی بلدیاتی اداروں کے اجلاسوں میں نمایاں فرق یہ نظر آیا کہ دیہی علاقوں کی ضلع کونسل کے اجلاس تھوڑی دیر چل کر مکمل ہوجاتے تھے جب کہ میونسپل کمیٹیوں، میونسپل کارپوریشنوں اور ٹاؤن کونسلوں میں کونسلر بھرپور شرکت کرتے۔ گھنٹوں ایجنڈے پر بحث کرتے اور اجلاسوں میں اپنے علاقوں کے مسائل پیش کرکے انھیں حل کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔

جنرل پرویز کے ضلع نظام میں دیہی اور شہری کونسلوں میں فرق ہی نہیں تھا اس لیے یونین کونسل سطح کے اجلاس میں بھی کونسلر بھرپور دلچسپی لیتے اور ان کی دلچسپی ہمیشہ ارکان قومی وصوبائی اسمبلیوں سے زیادہ ہوتی تھی اور وہ عوامی نمایندگی کا حق ادا کرتے تھے۔

عوام کا زیادہ تعلق بلدیاتی معاملات سے ہوتا ہے اور ان کے منتخب نمایندے اکثر عوام میں ہی موجود ہوتے ہیں اور اکثریت سے ہی تعلق رکھتے ہیں اس لیے عوام جب چاہیں اپنے ان بلدیاتی نمایندوں سے رابطہ کر لیتے ہیں جب کہ ارکان اسمبلی کے معاملے میں ایسا نہیں ہے پاکستان میں آج جتنے بھی عوامی نمایندے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود ہیں ان میں جمشید دستی کے علاوہ تمام بڑے جاگیردار، سرمایہ دار، صنعت کار، سردار، وڈیرے اور اربوں پتی ہیں اور کوئی عام آدمی نہیں ہے یہ لوگ دولت اور اپنے بڑوں کی وراثت کے باعث کامیاب ہوتے ہیں اور سیاسی حکومتیں انھیں ترقیاتی فنڈز دیتی ہیں، جو بلدیاتی کاموں کے لیے ہوتے ہیں اور ارکان اسمبلی اپنے مخصوص ٹھیکیداروں کے ذریعے بلدیاتی کام اس فنڈ کے ذریعے کراتے ہیں، جس میں حقیقی عوامی ضروریات کا اکثر خیال نہیں رکھا جاسکتا اور اقربا پروری کی جاتی ہے۔

موجودہ ارکان اسمبلی میں جو لوگ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ منتخب ہوتے ہی اپنے آبائی حلقوں کو بھول جاتے ہیں اور بہت کم وہاں رہتے ہیں اور تہواروں پر ہی اپنے حلقوں میں جاتے ہیں۔ منتخب ہوتے ہی یہ عوام سے دور ہوجاتے ہیں اور لوگوں سے مجبوری ہی میں ملتے ہیں اور انھیں اپنے ان کروڑوں روپوں کی زیادہ فکر ہوتی ہے جو وہ الیکشن پر خرچ کرچکے ہوتے ہیں۔ انھیں قانون سازی سے زیادہ بلدیاتی معاملات کی فکر لاحق ہوجاتی ہے جو ان کی سرکاری ذمے داری نہیں ہوتی۔

ارکان اسمبلی کے مقابلے میں نچلی سطح پر منتخب ہونے والے بلدیاتی نمایندے لوگوں کو آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں اور وہ لوگوں کے فوری کام بھی آتے ہیں جس سے ان کی عوام میں مقبولیت بڑھتی ہے جس کے ذریعے وہ بھی اپنی کارکردگی کو بنیاد بناکر اپنی اسمبلیوں کے الیکشن لڑتے ہیں جو ارکان اسمبلی سے برداشت نہیں ہوتا۔ بااختیار بلدیاتی نمایندوں سے ارکان اسمبلی کی اہمیت متاثر ہوتی ہے اس لیے وہ بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے دیتے۔ بلدیاتی نمایندے ہی عوام کے حقیقی نمایندے ہوتے ہیں جنھیں اپنے حلقے کے عوام کا خیال بھی ہوتا ہے اور وہی عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل میں پیش پیش ہوتے ہیں جب کہ ارکان اسمبلی ایسا نہیں کرتے۔
Load Next Story