ٹیکس وصولیوں میں جولائی تا اپریل 98 ارب روپے کا شارٹ فال
مجموعی ریونیو 1746ارب رہا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کی وصولیوں سے237 ارب زائد ہے.
مجموعی ریونیو 1746ارب رہا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کی وصولیوں سے237 ارب زائد ہے. فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی طرف سے گزشتہ ماہ(اپریل) کے دوران حاصل کردہ ٹیکس وصولیوں میں32 ارب روپے کے شارٹ فال کا انکشاف ہوا ہے اوررواں مالی سال 2014-15 کے نظر ثانی شدہ ہدف کے مطابق بھی پہلے دس ماہ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ریونیو شارٹ فال 95ارب روپے سے تجاوز کرگیا ہے۔
البتہ رواں مالی سال کیلیے 2345 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا نظر ثانی شدہ ہدف حاصل کرنے کیلیے بھی ایف بی آر کو اگلے دو ماہ میں 599ارب روپے کی وصولیاں کرنا ہونگی جو ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) ذرائع نے بتایا کہ رواں مالی سال 2014-15 کے پہلے دس ماہ(جولائی تا اپریل)کے دوران حاصل ہونیوالی ٹیکس وصولیوں کے عبوری اعدادوشمارکے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اب تک مجموعی طور پر 1746ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران حاصل ہونیوالی 1509ارب روپے کی وصولیوں کے مقابلے میں اگرچہ 237 ارب روپے زیادہ ہے تاہم بجٹ میں مقرر کردہ 2475 ارب روپے کے ریونیو ہدف کے حساب سے رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کیلیے مقرر کردہ1901 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے مقابلے میں155 ارب روپے کم ہے اور 2345 ارب روپے کے نظر ثانی شدہ ہدف کے حساب سے رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کیلیے مقرر کردہ1844 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے مقابلے میں98 ارب روپے کم ہے۔
عبوری اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ اب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو رواں مالی سال کیلیے مقرر کردہ 2345 ارب روپے کے نظر ثانی شدہ ہدف کو حاصل کرنے کیلیے بھی 299.5 ارب روپے ماہانہ کے حساب سے باقی ماندہ دو ماہ(مئی ،جون)کے دوران مجموعی طور پر 599 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کرنا ہونگی۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے گزشتہ ماہ(اپریل) کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 194ارب روپے مقرر کیا تھا مگر ایف بی آرہیڈ کوارٹر میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والی چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کانفرنس میں گزشتہ ماہ(اپریل) کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف بڑھا کر199 ارب روپے مقرر کردیا گیا تھا اور اس بارے میں وزارت خزانہ کی طرف سے چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کانفرنس کے بارے میں جاری کردہ سرکاری پریس ریلیز میں بھی اپریل کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 199ارب روپے ہی بتایا گیا تھا اس لحاظ سے گزشتہ ماہ (اپریل)کے دوران ایف بی آر کی طرف سے حاصل کردہ 167 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں بھی199ارب روپے کے مقرر کردہ ہدف سے 32 ارب روپے کم ہیں۔
البتہ رواں مالی سال کیلیے 2345 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا نظر ثانی شدہ ہدف حاصل کرنے کیلیے بھی ایف بی آر کو اگلے دو ماہ میں 599ارب روپے کی وصولیاں کرنا ہونگی جو ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) ذرائع نے بتایا کہ رواں مالی سال 2014-15 کے پہلے دس ماہ(جولائی تا اپریل)کے دوران حاصل ہونیوالی ٹیکس وصولیوں کے عبوری اعدادوشمارکے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اب تک مجموعی طور پر 1746ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی ہیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران حاصل ہونیوالی 1509ارب روپے کی وصولیوں کے مقابلے میں اگرچہ 237 ارب روپے زیادہ ہے تاہم بجٹ میں مقرر کردہ 2475 ارب روپے کے ریونیو ہدف کے حساب سے رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کیلیے مقرر کردہ1901 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے مقابلے میں155 ارب روپے کم ہے اور 2345 ارب روپے کے نظر ثانی شدہ ہدف کے حساب سے رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ کیلیے مقرر کردہ1844 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کے ہدف کے مقابلے میں98 ارب روپے کم ہے۔
عبوری اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ اب فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو رواں مالی سال کیلیے مقرر کردہ 2345 ارب روپے کے نظر ثانی شدہ ہدف کو حاصل کرنے کیلیے بھی 299.5 ارب روپے ماہانہ کے حساب سے باقی ماندہ دو ماہ(مئی ،جون)کے دوران مجموعی طور پر 599 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کرنا ہونگی۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے گزشتہ ماہ(اپریل) کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 194ارب روپے مقرر کیا تھا مگر ایف بی آرہیڈ کوارٹر میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والی چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کانفرنس میں گزشتہ ماہ(اپریل) کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف بڑھا کر199 ارب روپے مقرر کردیا گیا تھا اور اس بارے میں وزارت خزانہ کی طرف سے چیف کمشنرز ان لینڈ ریونیو کانفرنس کے بارے میں جاری کردہ سرکاری پریس ریلیز میں بھی اپریل کیلیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 199ارب روپے ہی بتایا گیا تھا اس لحاظ سے گزشتہ ماہ (اپریل)کے دوران ایف بی آر کی طرف سے حاصل کردہ 167 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں بھی199ارب روپے کے مقرر کردہ ہدف سے 32 ارب روپے کم ہیں۔