بجلی کی لوڈشیڈنگ اور مظاہرے

موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد توانائی کے بحران کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا تھا

موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد توانائی کے بحران کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا تھا۔ فوٹو؛فائل

ملک بھر میں بجلی کی طویل غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ جمعے کو لاہور' احمد پور لمہ' فیصل آباد' خانقاہ ڈوگراں' حیدر آباد' کوئٹہ' پشاور اور دیگر شہروں میں لوگوں نے مظاہرے کیے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ملک کے بعض شہروں میں 16 جب کہ دیہات میں 20گھنٹوں تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے' بجلی کی بندش کے باعث پانی کا بحران بھی پیدا ہو گیا ہے۔ فیصل آباد میں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتیں متاثر ہونے لگی ہیں' بعض ملوں نے ایک شفٹ ختم کر دی ہے جس سے سیکڑوں مزدور بیروز گار ہو گئے ہیں۔ اس صورت حال نے شہریوں میں اضطراب کو جنم دیا ہے ۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک میں غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے اس کے خاتمے کی ہدایت کر دی ہے اور تمام تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں کنٹرول سینٹر قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نے واضح کیا کہ غیر علانیہ لوڈشیڈنگ پر اب متعلقہ ڈسٹری بیوشن کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ذمے دار ہونگے۔ ترجمان نے کہا کہ لوڈشیڈنگ شیڈول پر سو فیصد عمل کرایا جائے گا اور ڈسکوز کنٹرول سینٹر صورتحال کو مسلسل مانیٹر کریں گے، صارفین کی دیگر شکایات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔ اخباری خبر کے مطابق تقسیم کار کمپنیوں میں کنٹرول سینٹر قائم کر کے ترجمان تعینات کر دیے گئے جو صارفین کی شکایات کا فوری ازالہ کریں گے۔

ملک بھر میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ بجلی کی طلب بھی غیرمعمولی طور پر بڑھ گئی جس سے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس وقت بجلی کی مجموعی پیداوار 11ہزار 250 میگاواٹ جب کہ شارٹ فال 4 ہزار میگاواٹ ہے۔ ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور شہریوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ نیا نہیں بلکہ یہ گزشتہ کئی سال سے جاری ہے۔ موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے ابھی ایک سال ہوا ہے اس لیے اسے توانائی بحران کا ذمے دار قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ بجلی کا بحران فوری طور پر حل نہیں کیا جا سکتا، بجلی کے کسی بھی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔ پہلے فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جاتی ہے' اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے،رقم کے یقینی بندوبست ہونے پر منصوبہ شروع کیا جاتا ہے۔


جتنا بڑا منصوبہ ہوتا ہے اس کے لیے اتنی زیادہ رقم کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی تکمیل کے لیے اتنا ہی زیادہ عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اگر ماضی کی حکومتیں بجلی کے منصوبے بناتیں تو آج توانائی کا جو بحران ہے وہ نہ ہوتا اور صورت حال بہتر ہوتی۔ ماضی کی حکومتوں کی کوتاہیوں کی سزا موجودہ حکومت کو نہیں دی جا سکتی۔ بجلی کے کچھ بڑے منصوبے سیاسی اختلافات کی نذر ہو چکے ہیں جس کی ذمے دار وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو ملک کے معاشی مفادات کو مدنظر رکھنے کے بجائے سیاسی نظریات کے بل بوتے پر مخالفت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حکومت نے توانائی کا بحران ختم کرنے اور امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے مینڈیٹ پر الیکشن جیتا تھا۔

موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد توانائی کے بحران کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا تھا اور اس نے اس کے لیے مختلف منصوبے تشکیل دینا شروع کر دیے ہیں۔ سولر انرجی سے بھی فائدہ اٹھانے کے لیے منصوبوں پر کام کا آغاز ہو چکا ہے ، ان منصوبوں کی تکمیل میں ایک عرصہ لگے گا۔ حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے کے بجائے ابھی اسے کچھ مہلت دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے ایجنڈے کے مطابق توانائی کے منصوبے مکمل کر سکے۔ اگر حکومت تین سے چار سال بعد بھی توانائی کے منصوبے مکمل نہیں کر پاتی اور توانائی کا بحران جوں کا توں برقرار رہتا ہے تو پھر اسے قصور وار قرار دیا جا سکتا ہے ، پھر سیاسی جماعتوں توانائی کے بحران کے جلد از جلد خاتمے کے لیے مظاہرے کر کے حکومت پر دبائو بڑھائیں تو وہ اس میں حق بجانب ہوں گی۔

گزشتہ برسوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر آنے والے مظاہرین نے نہ صرف سرکاری املاک بلکہ عام شہریوں کی گاڑیوں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔ یہ رویہ قطعی طور پر درست نہیں۔ اب بھی جو شہری لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں انھیں اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ جلائو گھیرائو سے اجتناب برتیں، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ اگر شہری جلائو گھیرائو کرتے ہیں تو ایسی صورت حال میں انتظامیہ اور پولیس ان کے خلاف کارروائی پر مجبور ہو جاتی ہے۔

احتجاج شہریوں کا حق ہے مگر یہ پر امن ہونا چاہیے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ شہروں اور دیہات میں بجلی کی طویل اور غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث گھریلو اور کاروباری زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے جس نے لوگوں کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے لیکن دوسری جانب شہریوں کو یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ جس حکومت کو انھوں نے توانائی کا بحران حل کرنے کے لیے مینڈیٹ دیا ہے اسے اس مسئلے کے حل کے لیے کچھ مہلت تو دیں، راتوں رات بجلی کا بحران حل نہیں ہو سکتا۔ موجودہ حکومت ملک میں توانائی کا بحران حل کرنے اور معاشی نظام بہتر بنانے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کر رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے تو امید ہے آیندہ چند برسوں میں بجلی کا بحران ختم ہو جائے گا۔
Load Next Story