پاکستان پر امریکی الزامات

امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان کے مدارس افغانستان میں حملوں کا سبب بن رہے ہیں

امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان کے مدارس افغانستان میں حملوں کا سبب بن رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

جوں جوں امریکا کے افغانستان سے فوجیں نکالنے کا وقت قریب آ رہا ہے، امریکی حکمرانوں کی بے چینی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے کیونکہ وہ افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اب امریکا اپنی ناکامی کی ذمے داری پاکستان پر عاید کر کے اپنی عزت بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اوباما انتظامیہ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر جیمز جونز نے الزام عاید کیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے عسکریت پسند عناصر افغانستان میں آ کر حساس نوعیت کے اہداف پر حملے کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاک امریکا تعلقات سنگین حد تک خراب ہوچکے ہیں۔ جیمز جونز کا کہنا تھا کہ افغان بحران کے حل کے لیے اسلام آباد کا کردار انتہائی اہم ہے۔

جیمز جونز نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں بحران کے حل کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ قیام پاکستان کے وقت سے ہی افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ موجود ہے۔حقیقت حال کا تقاضہ یہ تھا کہ پاکستان کے قائدین اس تنازعہ کو حل کرانے کی کوشش کرتے مگر مبینہ طور پر ایسا کچھ نہیں کیا جا سکا۔ اب امریکی پالیسی سازوں نے بھی ڈیورنڈ لائن کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے خیال میں پاکستان اور افغانستان کو ڈیورنڈ لائن سمیت تمام متنازعہ ایشوز کو پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔


ادھر امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان کے مدارس افغانستان میں حملوں کا سبب بن رہے ہیں جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔ افغانستان کے مستحکم مستقبل اور سیکیورٹی سے متعلق شایع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا اور صوبہ بلوچستان میں موجود مدارس کی جانب سے افغانستان میں حملے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان، افغانستان اور بھارت میں حملے کرنیوالے ان انتہا پسندوں کے خلاف مناسب اقدامات نہیں کر رہا۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے دہشت گردی کے حوالے اپنی سالانہ رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ جن پاکستانی تنظیموں کو اقوام متحدہ نے دہشت گرد قرار دے رکھا ہے وہ پاکستان میں بے حد آسانی سے اپنے نام بدل کر پابندیوں سے بچ نکلتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ اطلاعات باعث تشویش ہیں' افغانستان پاکستان کے لیے مسلسل درد سر بنا ہوا ہے۔ ادھر امریکا بھی معاملات کو سلجھانے کے بجائے الجھا رہا ہے' حالات کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر امریکی انتظامیہ پر صورت حال واضح کرے۔
Load Next Story