6 سیٹررکشے کس قانون کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں ہائیکورٹ کا مالکان سے استفسار
انتظامیہ نے 12 سیٹر کے نام پر 6 سیٹر رکشہ کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے ،محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو نوٹس جاری
عدالت عالیہ نے متحدہ کے زیر حراست کارکن کی ہلاکت کے الزام میں اہلیہ کا بیان قلم بند کرنے کیلیے مزید مہلت دے دی ۔ فوٹو:فائل
سندھ ہائیکورٹ نے 6 سیٹر سی این جی رکشامالکان سے استفسار کیا ہے کہ کس قانون کے تحت سی این جی وچنگ رکشوں کورجسٹرڈ کیا جاتا ہے اور اسے شہر میں نقل و حرکت کی اجازت کس قانون کے تحت دی جائے۔
عدالت نے آئندہ سماعت کیلیے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو بھی نوٹس جاری کردیا،جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے ''آل کراچی سِکس سیٹر سی این جی رکشہ ایسوسی ایشن ''کی درخواست کی سماعت کی، ''آل کراچی سِکس سیٹر سی این جی رکشہ ایسوسی ایشن '' نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیاہے کہ شہری انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے 12 سیٹر کے نام پر 6 سیٹر رکشہ کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے اور اب تک 2000سے زائد 6 سیٹر سی این جی رکشہ کو تحویل میں لیاگیا ہے اور فی رکشہ 2000روپے چالان وصول کیا جارہا ہے،کمپنی کی جانب سے فی رکشہ 16,786 روپے سیلز ٹیکس ادا کیا جارہاہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان رکشوں کوسندھ سمیت ملک بھر میں قانونی حیثیت حاصل ہے اور سندھ میں یہ رکشے کراچی اور حیدرآباد میں تیار کیے جارہے ہیںجس کا باقاعدہ ٹیکس ادا کیا جاتا ہے،6 سیٹر رکشے کو سندھ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے تحت قانونی قراردیا جائے،عدالت نے سماعت15مئی تک ملتوی کردی، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے گمشدگی کے دوران قتل ہونے والے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن نعمان طالب کی بیوہ کابیان قلبند کرنے کیلیے تفتیشی افسر کو دو دن کی مہلت دیتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہواتو تفتیشی افسر اور پولیس کے افسران کے خلاف سخت کارروائی کاحکم دیا جائے گا،چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے مسمات ثمرین جہاں کی درخواست کی سماعت کی،ثمرین جہاں نے موقف اختیار کیاہے کہ درخواست گزارکا شوہر نعمان طالب سرکاری ملازم تھا، وہ اپنی بہن سے ملنے 12 دسمبر 2013 کو جناح اسپتال گیا تو رینجرزاہلکاروں سے اسے حراست میں لے لیا۔
بعد ازاں اسے قتل کرکے لاش سپر ہائی وے پر پھینک دی گئی،گزشتہ سماعت پر ایس ایس پی اورنگی کی جانب سے بتایاگیا کہ درخواست گزا ر کی رہائش پیرآباد تھانہ کی حدود میں ہے تاہم پیرآباد پولیس نے نعمان طالب کو گرفتار نہیں کیا جبکہ جناح اسپتال بھی پیرآباد تھانہ کی حدود میں نہیں آتا،اطلاعات کے طابق نعمان طالب کی لاش 22،23 دسمبر کو تھانہ گڈاپ سٹی کی حدود سے ملی،گڈاپ سٹی پولیس کی جانب سے عدالت کوبتایا گیاتھا کہ واقعے کا مقدمہ 190/2013 درج کرلیا گیاہے،عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی تھی کہ ثمرین جہاں اور اہل خانہ کا بیان بھی درج کیا جائے، جمعہ کو سماعت کے موقع پر تفتیشی افسر سب انسپکٹر گلاب چنا نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوسکا، عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ تفتیشی افسر کا یہ عمل بادی النظر میں بدنیتی پرمبنی ہے،واضح رہے کہ 2روز قبل جاویدعرف بندا، نعمان اور سلیم عرف کباڑی کی لاشیں سپر ہائی وے سے ملی تھیں جس پر متحدہ قومی موومنٹ نے تینوں افراد کے ماورائے عدالت قتل کا الزام عائد کیا تھا۔
عدالت نے آئندہ سماعت کیلیے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو بھی نوٹس جاری کردیا،جسٹس عرفان سعادت خان کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے ''آل کراچی سِکس سیٹر سی این جی رکشہ ایسوسی ایشن ''کی درخواست کی سماعت کی، ''آل کراچی سِکس سیٹر سی این جی رکشہ ایسوسی ایشن '' نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیاہے کہ شہری انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے 12 سیٹر کے نام پر 6 سیٹر رکشہ کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے اور اب تک 2000سے زائد 6 سیٹر سی این جی رکشہ کو تحویل میں لیاگیا ہے اور فی رکشہ 2000روپے چالان وصول کیا جارہا ہے،کمپنی کی جانب سے فی رکشہ 16,786 روپے سیلز ٹیکس ادا کیا جارہاہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان رکشوں کوسندھ سمیت ملک بھر میں قانونی حیثیت حاصل ہے اور سندھ میں یہ رکشے کراچی اور حیدرآباد میں تیار کیے جارہے ہیںجس کا باقاعدہ ٹیکس ادا کیا جاتا ہے،6 سیٹر رکشے کو سندھ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے تحت قانونی قراردیا جائے،عدالت نے سماعت15مئی تک ملتوی کردی، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ نے گمشدگی کے دوران قتل ہونے والے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن نعمان طالب کی بیوہ کابیان قلبند کرنے کیلیے تفتیشی افسر کو دو دن کی مہلت دیتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہواتو تفتیشی افسر اور پولیس کے افسران کے خلاف سخت کارروائی کاحکم دیا جائے گا،چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے مسمات ثمرین جہاں کی درخواست کی سماعت کی،ثمرین جہاں نے موقف اختیار کیاہے کہ درخواست گزارکا شوہر نعمان طالب سرکاری ملازم تھا، وہ اپنی بہن سے ملنے 12 دسمبر 2013 کو جناح اسپتال گیا تو رینجرزاہلکاروں سے اسے حراست میں لے لیا۔
بعد ازاں اسے قتل کرکے لاش سپر ہائی وے پر پھینک دی گئی،گزشتہ سماعت پر ایس ایس پی اورنگی کی جانب سے بتایاگیا کہ درخواست گزا ر کی رہائش پیرآباد تھانہ کی حدود میں ہے تاہم پیرآباد پولیس نے نعمان طالب کو گرفتار نہیں کیا جبکہ جناح اسپتال بھی پیرآباد تھانہ کی حدود میں نہیں آتا،اطلاعات کے طابق نعمان طالب کی لاش 22،23 دسمبر کو تھانہ گڈاپ سٹی کی حدود سے ملی،گڈاپ سٹی پولیس کی جانب سے عدالت کوبتایا گیاتھا کہ واقعے کا مقدمہ 190/2013 درج کرلیا گیاہے،عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی تھی کہ ثمرین جہاں اور اہل خانہ کا بیان بھی درج کیا جائے، جمعہ کو سماعت کے موقع پر تفتیشی افسر سب انسپکٹر گلاب چنا نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوسکا، عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ تفتیشی افسر کا یہ عمل بادی النظر میں بدنیتی پرمبنی ہے،واضح رہے کہ 2روز قبل جاویدعرف بندا، نعمان اور سلیم عرف کباڑی کی لاشیں سپر ہائی وے سے ملی تھیں جس پر متحدہ قومی موومنٹ نے تینوں افراد کے ماورائے عدالت قتل کا الزام عائد کیا تھا۔