افغانستان میں قدرتی آفت سے ہزاروں ہلاکتیں

آرگو ضلع میں بھی شدید بارشوں سے لینڈ سلائڈنگ کے دوران 400 مکان تبا ہو گئے ہیں

آرگو ضلع میں بھی شدید بارشوں سے لینڈ سلائڈنگ کے دوران 400 مکان تبا ہو گئے ہیں۔ فوٹو:رائٹرز

افغانستان کے شمالی صوبہ بدخشاں کے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ایک گائوں پر مٹی کا تودہ گرنے سے پورا گائوں زمین میں دفن ہو گیا جس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا اندازہ ہزاروں میں لگایا گیا ہے جب کہ مقامی آبادی کی اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں اب تک بمشکل ایک ہزار سے بھی کم افراد کی لاشیں نکالی جا سکی ہیں۔ زیادہ تر افراد بھاری چٹانوں' پتھروں اور گارے تلے دبے ہیں۔ واضح رہے پہاڑ کا ایک بہت بڑا ٹکرا گرنے کی وجہ یہاں کچھ عرصہ قبل ہونے والی بارشوں اور سیلاب کو قرار دیا گیا ہے۔

اس اتنے بڑے انسانی المیے کے حوالے سے یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ اس تباہ شدہ ملک افغانستان میں امریکا اور یورپی ممالک کی جدید ترین افواج اپنی اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی سمیت گزشتہ تیرہ سال سے مقیم ہیں لیکن لگتا ہے کہ انھیں اس بدنصیب ملک کے عوام کی جانوں سے کوئی خاص ہمدردی نہیں ہے ورنہ وہ متاثرہ علاقے کے آبادیوں کو قبل از وقت متنبہ کر سکتے تھے۔ اب بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متاثرہ افغانوں کی مدد کی جائے اور افغانستان کو ایسے جدید آلات فراہم کیے جائیں جو انھیں قدرتی آفات کی قبل از وقت خبر دے سکیں۔ متاثرہ افغان علاقے چونکہ پاکستان کی سرحد کے بھی قریب ہیں اس لیے ہماری حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنا پرخلوص کردار ادا کرے۔


سرحد پار سے آنے والی اطلاعات کے مطابق، جن کا ذریعہ زیادہ تر فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ہے، علاقے میں امدادی ٹیموں نے ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جب کہ اقوام متحدہ اور نیٹو کی سربراہی میں ملٹری فورسز بھی جائے وقوعہ پر پہنچا دی گئی ہیں جو مقامی افراد کے ساتھ امدادی کاموں میں مصروف ہیں' گورنر بدخشاں شاہ ولی اللہ ادیب نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتیں اڑھائی ہزار ہو سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے افغانستان میں مشن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب تک مٹی تلے دبے افراد میں سے صرف چند سو افراد کی لاشیں برآمد کی جا سکی ہیں نیز وہ جو زندہ ہیں ان کی تلاش انتہائی ذمے داری کا کام ہے مگر اس ضمن میں مشکل یہ ہے کہ معلوم نہیں وہ کہاں گم ہوئے ہیں۔ یہ ایک دشوار گزار عمل ہے۔

یہ بھی اطلاع دی گئی ہے کہ نیٹو کی علاقائی کمانڈ اور افغان نیشنل آرمی ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں اور مل کر امدادی کاموں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ صوبہ بدخشاں کی سرحدیں ایک طرف پاکستان جب کہ دوسری طرف تاجکستان اور چین سے بھی ملتی ہیں۔ اس مشکل وقت میں یہ تینوں ملک افغان متاثرین کی زیادہ بہتر طور پر مدد کر سکتے ہیں۔ بدخشاں میں افغان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے صوبائی ڈائریکٹر سید عبداللہ ہمایوں دہقان نے بتایا کہ لینڈ سلائڈنگ واقعتاً ''ایک آفت ہے۔'' امریکی صدر اوباما نے واشنگٹن میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس قومی سانحہ پر تعزیت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ''ہمارے احساسات افغان عوام کے ساتھ ہیں جو یہ ایک بڑا صدمہ برداشت کر رہے ہیں'' ہم اپنے افغان پارٹنرز کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس آفت پر ہر ممکن مدد کرینگے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ان کا عملہ مقامی اتھارٹی کے ساتھ امدادی کاموں میں مصروف ہے تاہم متاثرہ علاقے تک بھاری مشنری پہنچائی نہیں جا سکتی کیونکہ ذرائع مواصلات وہی صدیوں پرانے ہیں۔ادھر آرگو ضلع میں بھی شدید بارشوں سے لینڈ سلائڈنگ کے دوران 400 مکان تبا ہو گئے ہیں۔ جوزجان' فریاب اور سرے پل صوبوں میں 150 افراد ہلاک 67 ہزار متاثر ہوئے ہیں جب کہ 3500 مکان تباہ یا متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں' سیلاب نے کئی دیہات کا صفایا کر دیا ہے ' زرعی زمینیں تباہ ہو گئیں' جانور مارے گئے ہیں۔یوں دیکھا جائے تو یہ افغانستان میں قدرتی آفت سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ عالمی برادری کو بھی اس مشکل وقت میں افغان عوام کی مدد کرنا چاہیے۔
Load Next Story