مجذوب و معتوب و محبوب
1947ء سے آج تک جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کے حصول کے لیے ایک ختم نہ ہونے والی جدوجہد جاری ہے۔
zahedahina@gmail.com
30 اپریل کو شام کی منڈیر سے رات جھانکنے لگی ہے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کے سبزہ زار پر جالبؔ کی یاد منائی جا رہی ہے۔ اس کے دوسرے مجموعے 'سَرِ مقتل' کا سر ورق جو دہائیوں پہلے حنیف رامے نے بنایا تھا، وہ جالبؔ امن ایوارڈ کی شیلڈ میں ڈھل گیا ہے ۔ 'سَرِمقتل' جالبؔ کا وہ مجموعہ ہے جو اپنی اشاعت کے چند مہینے بعد ضبط ہوا اور عرصۂ دراز تک خفیہ طور سے فروخت ہوا۔ ایک کٹا ہوا سر ہے جس سے لہو کی بوندیں ٹپک رہی ہیں۔ میں نے جب پہلی مرتبہ اس نقاشی کو دیکھا تو بے ساختہ سرمد شہید کا خیال آیا تھا۔ وہ مجذوب جس کا سر دلی کی جامع مسجد کے سامنے شہنشاہ اورنگ زیب کے حکم سے اڑایا گیا اور ایک روایت کے مطابق سرمد اپنا کٹا ہوا سر اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر جامع مسجد کی چند سیڑھیاں چڑھ گیا تھا۔
سرمدِ شہید کی وہ روایت سینہ بہ سینہ جالبؔ تک آئی اور اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ سرمدی شریعت کی پیروی کرے گا۔ یہ درست ہے کہ اس کا سر کسی تلوار سے نہ اڑایا گیا لیکن اس ملک کے کج کلاہوں اور ان کے عصا برداروں نے زندگی کی ہر راحت اس پر حرام رکھی۔ سرمد کا سر ایک بار اڑایا گیا اور اس کی سانس کی ڈور کٹ گئی تھی جب کہ جالبؔ اپنی ہر سانس کے بارے میں اگر یہ کہتا تو غلط نہ ہوتا کہ آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ... جیسے دہری دھار کا خنجر چلے۔
اسی جالب خستہ کے نام سے منسوب امن ایوارڈ کی تقریب ہے۔ جس کا اہتمام سعید پرویز نے کیا ۔30 اپریل کی رات یکم مئی کی سحر سے ملنے والی ہے۔ شہر میں محنت کشوں کے مشعل بردار جلوس نکل رہے ہیں۔ ان کے پُرجوش نعرے ہم تک آ رہے ہیں جو اسٹیج پر موجود ہیں اور ہمارا رشتہ شکاگو کے ان مزدوروں سے جوڑ رہے ہیں جنھوں نے وہاں کی سیاہ سڑک پر اپنے سرخ لہو کا چھڑکائو کیا تھا۔
شکاگو سے کراچی کی ایک مصروف شاہراہ تک یہ سفر سوا صدی پر پھیلا ہوا ہے اور دنیا بھر کے خستہ حال لوگوں کو اپنے حقوق کی جدوجہد کے رشتے میں پروتا ہے۔ اسے حسن اتفاق کہیے کہ جس سبزہ زار پر جالبؔ کی یاد میں یہ محفل سجائی گئی ہے، وہ اس شاہراہ پر ہے جسے جسٹس ایم آر کیانی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ دھان پان جیسا ہمارا وہ بے مثال منصف جس نے ایوب خانی دور میں بھی انصاف کیا اور مختلف محفلوں میں وہ کٹیلی تقریریں کیں جو 'اوراق پریشاں' کے نام سے شائع ہوئیں اور جنھوں نے صاحبانِ اقتدار کو پریشان رکھا۔
30 اپریل 2014ء کی شام ہم جالبؔ کو یاد کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تو مدعا یہ تھا کہ اس کے ہمدم دیرینہ عبدالحمید چھاپرا کو جالبؔ ایوارڈ دیا جائے۔ اس تقریب کی صدارت پنڈی سازش کیس میں گرفتار ہونے اور فیضؔ صاحب کے ساتھ جیل کاٹنے والے ظفر اللہ پوشنی کر رہے تھے۔ جسٹس (ر) بھگوان داس، سحر انصاری، ڈاکٹر طارق سہیل، حمیرا اطہر اور کئی دوسرے موجود تھے۔ اس روز میں نے کہا کہ یہ ایوارڈ اس سے پہلے سوبھوگیان چندانی، ڈاکٹر ادیب رضوی، اعتزاز احسن، روتھ فائو اور کئی دوسروں کو دیا جا چکا ہے اور آج یہ اعزاز جالبؔ کے یارِ غار عبدالحمید چھاپرا کے حصے میں آیا ہے۔ چھاپرا ہمارے ایک ایسے سینئر صحافی اور دانشور ہیں جنھوں نے آزادیٔ اظہار و افکار کی بہت مشکل اور طویل جنگ لڑی۔ یہ وہ لڑائی ہے جو قیام پاکستان سے آغاز ہوئی اور آج بھی جاری ہے۔
اس لڑائی میں ہمارے بدحال ادیبوں اور صحافیوں کے دوش بہ دوش اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی مرر کی مدیر زیب النساء حمید اللہ اور نیوز لائن کی رضیہ بھٹی نے بھی حصہ ڈالا تھا۔ اِس وقت سبط حسن، فیض ، حمید اختر خان، منہاج برنا، نثار عثمانی، وارث میر، ضمیر نیازی، آئی اے رحمان اور نہ جانے کتنے اہم لکھنے والے یاد آ رہے ہیں۔ نیازی صاحب نے پاکستانی صحافت کی جو تاریخ مرتب کی، اس کی صرف ورق گردانی کیجیے تو اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارے دانشور، شاعر اور صحافی آزادیٔ اظہار و افکار کی خونیں لڑائی میں کتنے امتحانوں سے گزرے ہیں۔ جالبؔ صاحب ان شاعروں میں سے آخری تھے جنھوں نے سانس کی ڈوری ٹوٹنے تک قلم نہیں رکھا۔ 2014ء کا جالبؔ امن ایوارڈ حاصل کرنیوالے ان کے ہمدم و دمساز عبدالحمید چھاپرا نے بھی اپنی صحافتی زندگی میں آزادی اظہار کی لڑائی کھل کر لڑی اور آمریت کی کڑی دھوپ میں حبیب جالبؔ کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔
یہاں یہ بات نہیں بھلائی جا سکتی کہ سندھ سے جالبؔ کو خصوصی وابستگی تھی۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں کے ہاری لیڈر کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی ''ہاری تحریک'' سے وابستہ ہو کر جالبؔ نے طالب علمی کے دنوں میں ہی اپنا سیاسی قبلہ متعین کیا تھا اور 1951ء میں پہلی مرتبہ جیل کا منہ دیکھا تھا۔
مجھے یونانی دیومالا کے کردار پرومی تھیس کا خیال آ رہا ہے جسے عالمی ادب میں بغاوت اور انقلابی روح کے استعارے کے طور پر برتا گیا ہے۔ پرومی تھیس کے اساطیری کردار نے اس بغاوت کی قیمت اس طرح ادا کی کہ تیس ہزار برس تک کوہِ قاف کی چوٹی پر بندھا رہا، ایک گدھ دن بھر اس کا کلیجا کھاتا رہتا۔ روزانہ رات میں اُس کے زخم بھر جاتے تھے تا کہ دوسرے دن عقوبت کا سلسلہ پھر سے شروع ہو سکے۔ یہ تذکرہ کرتے ہوئے مجھے جالبؔ یاد آ رہا ہے جس کی زندگی کا بیشتر حصہ حکمران اشرافیہ کو اپنا کلیجہ کھلاتے گزرا۔ اس موقعے پر میں جالبؔ کے کلام کی ورق گردانی کرتی ہوں، تو محسوس ہوتا ہے جالبؔ کو رخصت ہوئے یوں تو برسوں گزر گئے لیکن کلام کی تازگی میں فرق نہیں آیا، اس نے ہمیشہ وہی لکھا جسے سچ سمجھا:
لاکھ کہتے رہے ''ظلمت'' کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے، بہ اجازت لکھنا
چھاپرا صاحب اور مجاہد بریلوی کے ساتھ سفر کا مجھے اتفاق ہوا۔ میں نے انھیں کابل کے قصرِ صدر میں اس وقت کے افغان صدر ڈاکٹر نجیب اللہ سے کراچی اور پشاور کی گلیوں میں گزارے ہوئے زمانے کا ذکر کرتے سنا اور دلی پریس کلب میں وہاں کے صحافیوں پر رشک کرتے دیکھا کہ وہ ایک آزاد اور جمہوری ملک میں اپنی بات کہہ گزرتے ہیں۔ مسز اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگائی تو اس دور میں زیر عتاب آنے والے کلدیپ نائر صاحب سے وہ ان کی جیل یاترا کا حوال پوچھتے رہے اور سورج ڈھلا تو انھیں اور مجاہد کو اسرار الحق مجازؔ کے اس مصرعے کی تصویر بنتے دیکھا کہ:
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں۔ چھاپرا اور جالبؔ ہم نوالہ اور ہم پیالہ رہے۔ آج بھی چھاپرا جب کسی بات پر ڈٹ جاتے ہیں اور آنکھیں نکال کر سامنے والے پر لفظوں کی گولہ باری کرتے ہیں تو وہ جالبؔ صاحب کی تصویر نظر آتے ہیں۔ مجھے کئی بار یہ شک گزرا کہ پہلے زمانے کے مرشدوں کی طرح جالبؔ نے بھی اپنے جھوٹے مشروب کا پیالہ اپنے یارِ طرح دار چھاپرا کو پلا دیا تھا، تب ہی ان کے اندر وہی جالبی تیہا اور طنطنہ ہے۔
چھاپرا صاحب کا یہ ایمان رہا کہ میڈیا کی آزادی کو جمہوریت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔' میڈیا کی آزادی کا جمہوریت سے جو ناقابلِ تنسیخ رشتہ ہے، وہ روح اور بدن کے رشتے کی مانند ہے، ایک کے بغیر دوسرے کی زندگی ممکن نہیں۔ جالبؔ صاحب اشعار میں یہ کہتے رہے، چھاپرا صاحب اپنے تبصروں اور تجزیوں میں ان ہی کے اشعار کی تفسیر لکھتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب چند صحافیوں کی بے ضمیری سے جھنجھلا کر جالبؔ نے ان کے نام ایک نظم لکھی تو چھاپرا جھوم جھوم کر ٹیپ کے اس مصرعے کی داد دیتے رہے کہ:
'اب قلم سے ازار بند ہی ڈال'۔
1947ء سے آج تک جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کے حصول کے لیے ایک ختم نہ ہونے والی جدوجہد جاری ہے۔ جس ملک میں اس کے بانی کی تقریر سنسر کر دی گئی ہو، جہاں بچوں کو جھوٹی تاریخ پڑھائی جاتی ہو، جہاں سوچ پر پہرے لگے ہوں اور جہاں عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے ملک توڑ دینے کو ترجیح دی جائے ... وہاں حقوق کی جدوجہد کرنیوالے اُن صحافیوں، سیاسی کارکنوں، شاعروں، ادیبوں اور دانش وروں کو سلام کرنا چاہیے جنھوں نے جیلیں کاٹیں، کوڑے کھائے، پھانسی کے پھندے پر جھولے، اغوا ہوئے، تشدد اور قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنے اور جن کی مسخ شدہ لاشیں فضا سے زمین پر پھینکی گئیں یا نہر میں بہائی گئیں۔
اس موقع پر مجھے جالبؔ اور چھاپرا صاحب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سبط حسن، فیض اور وارث میر سمیت وہ تمام لوگ یاد آتے ہیں جو تاریخی تناظر میں کیسی کھری اور کڑوی باتیں لکھتے ہوئے اس جہان سے گزر گئے۔ جاں بازی کا یہ وہ خرقہ ہے جو باپ اپنے بیٹے کو اور مرشد اپنے مرید کو منتقل کرتا ہے۔ کھری باتوں کو لکھنے اور بولنے کا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ آج بھی مقتل کی طرف جانے والوں کی دھج اور شان نرالی ہے۔ آج کے بہت سے جوان اور جاں باز صحافی اس شعر کی تصویر بنے ہوئے ہیں کہ
موسم آیا تو نخلِ دار پہ میرؔ
سرِ منصور کا ہی بار آیا
سرمدِ شہید کی وہ روایت سینہ بہ سینہ جالبؔ تک آئی اور اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ سرمدی شریعت کی پیروی کرے گا۔ یہ درست ہے کہ اس کا سر کسی تلوار سے نہ اڑایا گیا لیکن اس ملک کے کج کلاہوں اور ان کے عصا برداروں نے زندگی کی ہر راحت اس پر حرام رکھی۔ سرمد کا سر ایک بار اڑایا گیا اور اس کی سانس کی ڈور کٹ گئی تھی جب کہ جالبؔ اپنی ہر سانس کے بارے میں اگر یہ کہتا تو غلط نہ ہوتا کہ آتی جاتی سانس کا عالم نہ پوچھ... جیسے دہری دھار کا خنجر چلے۔
اسی جالب خستہ کے نام سے منسوب امن ایوارڈ کی تقریب ہے۔ جس کا اہتمام سعید پرویز نے کیا ۔30 اپریل کی رات یکم مئی کی سحر سے ملنے والی ہے۔ شہر میں محنت کشوں کے مشعل بردار جلوس نکل رہے ہیں۔ ان کے پُرجوش نعرے ہم تک آ رہے ہیں جو اسٹیج پر موجود ہیں اور ہمارا رشتہ شکاگو کے ان مزدوروں سے جوڑ رہے ہیں جنھوں نے وہاں کی سیاہ سڑک پر اپنے سرخ لہو کا چھڑکائو کیا تھا۔
شکاگو سے کراچی کی ایک مصروف شاہراہ تک یہ سفر سوا صدی پر پھیلا ہوا ہے اور دنیا بھر کے خستہ حال لوگوں کو اپنے حقوق کی جدوجہد کے رشتے میں پروتا ہے۔ اسے حسن اتفاق کہیے کہ جس سبزہ زار پر جالبؔ کی یاد میں یہ محفل سجائی گئی ہے، وہ اس شاہراہ پر ہے جسے جسٹس ایم آر کیانی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ دھان پان جیسا ہمارا وہ بے مثال منصف جس نے ایوب خانی دور میں بھی انصاف کیا اور مختلف محفلوں میں وہ کٹیلی تقریریں کیں جو 'اوراق پریشاں' کے نام سے شائع ہوئیں اور جنھوں نے صاحبانِ اقتدار کو پریشان رکھا۔
30 اپریل 2014ء کی شام ہم جالبؔ کو یاد کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تو مدعا یہ تھا کہ اس کے ہمدم دیرینہ عبدالحمید چھاپرا کو جالبؔ ایوارڈ دیا جائے۔ اس تقریب کی صدارت پنڈی سازش کیس میں گرفتار ہونے اور فیضؔ صاحب کے ساتھ جیل کاٹنے والے ظفر اللہ پوشنی کر رہے تھے۔ جسٹس (ر) بھگوان داس، سحر انصاری، ڈاکٹر طارق سہیل، حمیرا اطہر اور کئی دوسرے موجود تھے۔ اس روز میں نے کہا کہ یہ ایوارڈ اس سے پہلے سوبھوگیان چندانی، ڈاکٹر ادیب رضوی، اعتزاز احسن، روتھ فائو اور کئی دوسروں کو دیا جا چکا ہے اور آج یہ اعزاز جالبؔ کے یارِ غار عبدالحمید چھاپرا کے حصے میں آیا ہے۔ چھاپرا ہمارے ایک ایسے سینئر صحافی اور دانشور ہیں جنھوں نے آزادیٔ اظہار و افکار کی بہت مشکل اور طویل جنگ لڑی۔ یہ وہ لڑائی ہے جو قیام پاکستان سے آغاز ہوئی اور آج بھی جاری ہے۔
اس لڑائی میں ہمارے بدحال ادیبوں اور صحافیوں کے دوش بہ دوش اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی مرر کی مدیر زیب النساء حمید اللہ اور نیوز لائن کی رضیہ بھٹی نے بھی حصہ ڈالا تھا۔ اِس وقت سبط حسن، فیض ، حمید اختر خان، منہاج برنا، نثار عثمانی، وارث میر، ضمیر نیازی، آئی اے رحمان اور نہ جانے کتنے اہم لکھنے والے یاد آ رہے ہیں۔ نیازی صاحب نے پاکستانی صحافت کی جو تاریخ مرتب کی، اس کی صرف ورق گردانی کیجیے تو اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارے دانشور، شاعر اور صحافی آزادیٔ اظہار و افکار کی خونیں لڑائی میں کتنے امتحانوں سے گزرے ہیں۔ جالبؔ صاحب ان شاعروں میں سے آخری تھے جنھوں نے سانس کی ڈوری ٹوٹنے تک قلم نہیں رکھا۔ 2014ء کا جالبؔ امن ایوارڈ حاصل کرنیوالے ان کے ہمدم و دمساز عبدالحمید چھاپرا نے بھی اپنی صحافتی زندگی میں آزادی اظہار کی لڑائی کھل کر لڑی اور آمریت کی کڑی دھوپ میں حبیب جالبؔ کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔
یہاں یہ بات نہیں بھلائی جا سکتی کہ سندھ سے جالبؔ کو خصوصی وابستگی تھی۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں کے ہاری لیڈر کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی ''ہاری تحریک'' سے وابستہ ہو کر جالبؔ نے طالب علمی کے دنوں میں ہی اپنا سیاسی قبلہ متعین کیا تھا اور 1951ء میں پہلی مرتبہ جیل کا منہ دیکھا تھا۔
مجھے یونانی دیومالا کے کردار پرومی تھیس کا خیال آ رہا ہے جسے عالمی ادب میں بغاوت اور انقلابی روح کے استعارے کے طور پر برتا گیا ہے۔ پرومی تھیس کے اساطیری کردار نے اس بغاوت کی قیمت اس طرح ادا کی کہ تیس ہزار برس تک کوہِ قاف کی چوٹی پر بندھا رہا، ایک گدھ دن بھر اس کا کلیجا کھاتا رہتا۔ روزانہ رات میں اُس کے زخم بھر جاتے تھے تا کہ دوسرے دن عقوبت کا سلسلہ پھر سے شروع ہو سکے۔ یہ تذکرہ کرتے ہوئے مجھے جالبؔ یاد آ رہا ہے جس کی زندگی کا بیشتر حصہ حکمران اشرافیہ کو اپنا کلیجہ کھلاتے گزرا۔ اس موقعے پر میں جالبؔ کے کلام کی ورق گردانی کرتی ہوں، تو محسوس ہوتا ہے جالبؔ کو رخصت ہوئے یوں تو برسوں گزر گئے لیکن کلام کی تازگی میں فرق نہیں آیا، اس نے ہمیشہ وہی لکھا جسے سچ سمجھا:
لاکھ کہتے رہے ''ظلمت'' کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے، بہ اجازت لکھنا
چھاپرا صاحب اور مجاہد بریلوی کے ساتھ سفر کا مجھے اتفاق ہوا۔ میں نے انھیں کابل کے قصرِ صدر میں اس وقت کے افغان صدر ڈاکٹر نجیب اللہ سے کراچی اور پشاور کی گلیوں میں گزارے ہوئے زمانے کا ذکر کرتے سنا اور دلی پریس کلب میں وہاں کے صحافیوں پر رشک کرتے دیکھا کہ وہ ایک آزاد اور جمہوری ملک میں اپنی بات کہہ گزرتے ہیں۔ مسز اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگائی تو اس دور میں زیر عتاب آنے والے کلدیپ نائر صاحب سے وہ ان کی جیل یاترا کا حوال پوچھتے رہے اور سورج ڈھلا تو انھیں اور مجاہد کو اسرار الحق مجازؔ کے اس مصرعے کی تصویر بنتے دیکھا کہ:
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں۔ چھاپرا اور جالبؔ ہم نوالہ اور ہم پیالہ رہے۔ آج بھی چھاپرا جب کسی بات پر ڈٹ جاتے ہیں اور آنکھیں نکال کر سامنے والے پر لفظوں کی گولہ باری کرتے ہیں تو وہ جالبؔ صاحب کی تصویر نظر آتے ہیں۔ مجھے کئی بار یہ شک گزرا کہ پہلے زمانے کے مرشدوں کی طرح جالبؔ نے بھی اپنے جھوٹے مشروب کا پیالہ اپنے یارِ طرح دار چھاپرا کو پلا دیا تھا، تب ہی ان کے اندر وہی جالبی تیہا اور طنطنہ ہے۔
چھاپرا صاحب کا یہ ایمان رہا کہ میڈیا کی آزادی کو جمہوریت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔' میڈیا کی آزادی کا جمہوریت سے جو ناقابلِ تنسیخ رشتہ ہے، وہ روح اور بدن کے رشتے کی مانند ہے، ایک کے بغیر دوسرے کی زندگی ممکن نہیں۔ جالبؔ صاحب اشعار میں یہ کہتے رہے، چھاپرا صاحب اپنے تبصروں اور تجزیوں میں ان ہی کے اشعار کی تفسیر لکھتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب چند صحافیوں کی بے ضمیری سے جھنجھلا کر جالبؔ نے ان کے نام ایک نظم لکھی تو چھاپرا جھوم جھوم کر ٹیپ کے اس مصرعے کی داد دیتے رہے کہ:
'اب قلم سے ازار بند ہی ڈال'۔
1947ء سے آج تک جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کے حصول کے لیے ایک ختم نہ ہونے والی جدوجہد جاری ہے۔ جس ملک میں اس کے بانی کی تقریر سنسر کر دی گئی ہو، جہاں بچوں کو جھوٹی تاریخ پڑھائی جاتی ہو، جہاں سوچ پر پہرے لگے ہوں اور جہاں عوام کے منتخب نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے ملک توڑ دینے کو ترجیح دی جائے ... وہاں حقوق کی جدوجہد کرنیوالے اُن صحافیوں، سیاسی کارکنوں، شاعروں، ادیبوں اور دانش وروں کو سلام کرنا چاہیے جنھوں نے جیلیں کاٹیں، کوڑے کھائے، پھانسی کے پھندے پر جھولے، اغوا ہوئے، تشدد اور قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنے اور جن کی مسخ شدہ لاشیں فضا سے زمین پر پھینکی گئیں یا نہر میں بہائی گئیں۔
اس موقع پر مجھے جالبؔ اور چھاپرا صاحب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سبط حسن، فیض اور وارث میر سمیت وہ تمام لوگ یاد آتے ہیں جو تاریخی تناظر میں کیسی کھری اور کڑوی باتیں لکھتے ہوئے اس جہان سے گزر گئے۔ جاں بازی کا یہ وہ خرقہ ہے جو باپ اپنے بیٹے کو اور مرشد اپنے مرید کو منتقل کرتا ہے۔ کھری باتوں کو لکھنے اور بولنے کا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ آج بھی مقتل کی طرف جانے والوں کی دھج اور شان نرالی ہے۔ آج کے بہت سے جوان اور جاں باز صحافی اس شعر کی تصویر بنے ہوئے ہیں کہ
موسم آیا تو نخلِ دار پہ میرؔ
سرِ منصور کا ہی بار آیا