دنیا کے دوسرے بڑے ریٹیلر ’کارفور‘ کا بھارت سے انخلا پر غور
غیرملکی چینز کو نئی حکومت سے ملٹی برانڈ اسٹورز کھولنے دینے کی امید نہیں، میڈیا رپورٹس
فرنچ کمپنی 2 ہفتے سے انخلا کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے، میڈیا رپورٹس۔ فوٹو: فائل
لاہور:
فرانس سے تعلق رکھنے والے دنیا کا دوسرے بڑا ریٹیلر 'کارفور' بھارت سے انخلا کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فرنچ کمپنی گزشتہ 2 ہفتے سے انخلا کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔
ریجنل ڈائریکٹرفرینک کینر نے کہاکہ فی الوقت ہم کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں تاہم بھارتی اخبارات کا کہنا ہے کہ کارفور نے اپنے 5 ہول سیل اسٹورز سنیل بھارتی کے میتل ریٹیل گروپ کو فروخت کرنے کے لیے مذاکرات میں ناکامی پر بھارت چھوڑنے کے منصوبے پر کام کرنا شروع کیا جبکہ متعدد اعلیٰ عہدیدار پہلے ہی کارفور انڈیا کو چھوڑ چکے ہیں، کمپنی کو بھی امید نہیں کہ بھارت میں بننے والی نئی حکومت غیرملکی چینز کو ملک میں ملٹی برانڈ آئوٹ لیٹ کھولنے کی اجازت دے گی۔
واضح رہے کہ بھارت میں جاری انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جیتنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے جس نے اپنے منشور میں اعلان کیا ہے کہ وہ ملٹی برانڈ ریٹیل میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دے گی۔
کانگریس حکومت کی جانب سے 2012 میں غیرملکی اسٹورز کو 51فیصد ملکیتی شراکت کی بنیاد پر بھارت میں مشترکہ منصوبوں کی اجازت دینے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ کارفور بھارت بھر میں سپرمارکیٹس کھولے گی تاہم اس حوالے سے نئے قوانین کی منظوری کے بعد بھارت میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، بعد میں مرکزی حکومت نے ریٹیل اسٹورز میں بیرونی سرمایہ کاری کا معاملہ ہر ریاست کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دیا جس کے بعد اس حوالے سے بیرونی سرمایہ کاری کی امیدیں دم توڑنے لگیں اور راجستھان حکومت نے ملٹی برانڈ ریٹیل سیکٹرمیں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ممنوع قراردے دی جس سے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کو زبردست جھٹکا لگا اور اب دوایک غیرملکی کمپنیاں بھارت میں کام کررہی ہیں، ان کی جگہ مقامی چین اسٹورز کو تقویت مل رہی ہے۔
فرانس سے تعلق رکھنے والے دنیا کا دوسرے بڑا ریٹیلر 'کارفور' بھارت سے انخلا کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فرنچ کمپنی گزشتہ 2 ہفتے سے انخلا کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔
ریجنل ڈائریکٹرفرینک کینر نے کہاکہ فی الوقت ہم کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں تاہم بھارتی اخبارات کا کہنا ہے کہ کارفور نے اپنے 5 ہول سیل اسٹورز سنیل بھارتی کے میتل ریٹیل گروپ کو فروخت کرنے کے لیے مذاکرات میں ناکامی پر بھارت چھوڑنے کے منصوبے پر کام کرنا شروع کیا جبکہ متعدد اعلیٰ عہدیدار پہلے ہی کارفور انڈیا کو چھوڑ چکے ہیں، کمپنی کو بھی امید نہیں کہ بھارت میں بننے والی نئی حکومت غیرملکی چینز کو ملک میں ملٹی برانڈ آئوٹ لیٹ کھولنے کی اجازت دے گی۔
واضح رہے کہ بھارت میں جاری انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جیتنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے جس نے اپنے منشور میں اعلان کیا ہے کہ وہ ملٹی برانڈ ریٹیل میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دے گی۔
کانگریس حکومت کی جانب سے 2012 میں غیرملکی اسٹورز کو 51فیصد ملکیتی شراکت کی بنیاد پر بھارت میں مشترکہ منصوبوں کی اجازت دینے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ کارفور بھارت بھر میں سپرمارکیٹس کھولے گی تاہم اس حوالے سے نئے قوانین کی منظوری کے بعد بھارت میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، بعد میں مرکزی حکومت نے ریٹیل اسٹورز میں بیرونی سرمایہ کاری کا معاملہ ہر ریاست کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دیا جس کے بعد اس حوالے سے بیرونی سرمایہ کاری کی امیدیں دم توڑنے لگیں اور راجستھان حکومت نے ملٹی برانڈ ریٹیل سیکٹرمیں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ممنوع قراردے دی جس سے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کو زبردست جھٹکا لگا اور اب دوایک غیرملکی کمپنیاں بھارت میں کام کررہی ہیں، ان کی جگہ مقامی چین اسٹورز کو تقویت مل رہی ہے۔