وقار کو گرین سگنل دینے پر باقی اُمیدوار غصے سے لال

آخری تاریخ سے قبل ہی نجم سیٹھی کی جانب سے وقار یونس کے تقررکا اعلان غیراخلاقی اور نان پروفیشنل ہے، امیدواروں کا موقف

وقار یونس نے بنگال کرکٹ ایسوسی ایشن کو بھی معاہدے کی پادسادری کا یقن دلایا ہے۔ فوٹو: آن لائن/فائل

MULTAN:
چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کی جانب سے ہیڈ کوچ کے لئے وقار یونس کو گرین سگنل دینے پر باقی امیدوار غصے سے لال ہوگئے، عہدے کے لئے ڈیڈ لائن سے قبل ہی اعلان کو نان پروفیشنل اور غیراخلاقی قرار دیا جانے لگا۔

سابق فاسٹ بولر جلال الدین نے کہاکہ بورڈ کی انہی حرکتوں کی وجہ سے اب میں نے درخواست دینا ہی چھوڑ دیا ہے، ادھر محسن حسن خان نے ایک اور باری کے لیے درخواست جمع کرادی، دوسری جانب وقار یونس 'دو کشتیوں' کی سواری کے لئے تیار ہیں، انھوں نے کرکٹ ایسوسی ایشن آف بنگال کو معاہدے کی پاسداری کا یقین دلا دیا، بطور بولنگ کنسلٹنٹ انھیں سال میں 50 دن کولکتہ میں گزارنے ہیں،ابھی تک صرف چار روز ہی کام کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہیڈ کوچ کی تقرری کے لیے اشتہار جاری کیا تھا، درخواستیں جمع کرانے کے لئے 5 مئی کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی، ابتدا سے ہی سابق فاسٹ بولر وقار یونس کو اس ذمہ داری کے لئے فیورٹ قرار دیا جارہا تھا مگر گذشتہ روز بورڈ چیئرمین نجم سیٹھی نے اپنے ایک انٹرویو میں وقار کو 2 برس کا کنٹریکٹ تک دینے کا اعلان کردیا، اس پر باقی امیدوار غصے سے بھڑک اٹھے، ایک امیدوار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ''ایکسپریس ٹریبون'' کو بتایاکہ آخری تاریخ سے قبل ہی نجم سیٹھی کی جانب سے وقار یونس کے تقررکا اعلان غیراخلاقی اور نان پروفیشنل ہے۔


وہ اب تک بطور بورڈ چیئرمین اچھا کام کررہے تھے مگر ان کا یہ بیان عہدے کے شایان شان نہیں کیونکہ وہ ایک آرگنائزیشن چلا رہے ہیں، ان ریمارکس سے معاملے کے شفافیت پر ہی سوال کھڑا ہوگیا، جب ایسے ہی کسی کو منتخب کرنا تھا تو پھر بورڈ نے کوچنگ کی خالی پوزیشنز کے لئے اشتہار کیوں جاری کیا؟ایک اور امیدوار نے کہا کہ یہ ایک کھلاراز تھا کہ وقار اس عہدے کے لیے فیورٹ ہیں مگر کم سے کم اعلان کرنے میں چند دن انتظار تو کرلینا چاہیے تھا۔

دریں اثنا سابق فاسٹ بولر جلال الدین نے کہاکہ میں اسی وجہ سے دلبرداشتہ ہوں اور اب درخواست ہی نہیں دیتا، جلال ملکی کوالیفائیڈ کوچز میں سے ایک اور انگلینڈ و آسٹریلیا میں بھی کام کرچکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند برس سے پی سی بی صرف اپنے چہیتوں کو ہی بڑے عہدوں سے نواز رہا ہے، اسی لیے میں نے بطور احتجاج اس بار اپلائی ہی نہیں کیا، ماضی میں میں نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی ڈائریکٹر، بولنگ کوچ اور ہیڈ کوچ کے لیے درخواست دی تھی مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا، ہمیشہ نظر انداز کرکے مجھ سے کہیں کم اہل لوگوں کو نوازا گیا، ٹیم آفیشلز کی تقرری میں شفاف اور مناسب پالیسی اختیار کی جانی چاہیے۔ جہاں ایک طرف دیگر امیدوار وقار یونس کو گرین سگنل دیے جانے پر چراغ پا ہیں تو دوسری طرف سابق اوپنر اور ہیڈ کوچ محسن حسن خان نے پھر قسمت آزمانے کے لئے درخواست دے دی۔

علاوہ ازیں وقار یونس ایک ساتھ دو کشتیوں کی سواری کے لیے تیار ہیں، ان کا پہلے سے کرکٹ ایسوسی ایشن آف بنگال کے ساتھ تین برس کا معاہدہ ہے، انھیں کیب نے 'وژن 2020' پیس بولنگ کنسلٹنٹ مقرر کیا اور وہ سال میں 50 دن کولکتہ میں بنگال کے فاسٹ بولرز کی تربیت کے لئے دینے کے پابند ہیں، ان کا وہاں پر ایک سیزن کا معاوضہ60 لاکھ بھارتی روپے ہے۔ انھوں نے بنگال ایسوسی ایشن کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کا ہیڈ کوچ بننے کے باوجود وہ ان کے ساتھ اپنے کنٹریکٹ کی پاسداری کریں گے۔

کیب کے جوائنٹ سیکریٹری سوبیر گنگولی نے کہاکہ وقار یونس نے ہمیں یقین دلایا کہ وہ کنٹریکٹ کا احترام کریں گے اورہمیں مشکل میں نہیں ڈالیں گے، خازن بسوارپ ڈے نے کہاکہ ہمیں وقار یونس کے پاکستان کا ہیڈ کوچ بننے پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ خوشی ہی ہے، ہم ان کے مستقبل کے لئے نیک خواہشات رکھتے اور امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے دونوں کنٹریکٹس کے درمیان توازن برقرار رکھیں گے۔
Load Next Story