سی پی ایل سی نے 50 مسروقہ موبائل فون مالکان کو واپس کردیے

شہری موبائل فون چوری یا چھن جانے کی صورت میں پولیس یا سی پی ایل سی میں ضرور شکایت درج کرائیں ،احمد چنائے

سی پی ایل سی کے سربراہ احمد چنائے تقریب میں چوری ہونیوالے موبائل فونز شہریوں کو واپس کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

SWAT:
سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے سربراہ احمد چنائے نے کہا ہے کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے موبائل فون چوری یا چھن جانے کی صورت میں پولیس یا کم ازکم سی پی ایل سی میں ضرور شکایت درج کروائیں۔


سی پی ایل سی نے کراچی الیکٹرونک ڈیلرز ایسوسی ایشن (کیڈا) کے تعاون سے شہریوں سے چوری وچھینے گئے 45 ہزار سے زائد موبائل فون پچھلے3برس میں انھیں واپس کردیے،یہ بات انھوں نے گزشتہ روز50 موبائل فون ان کے اصل مالکان کو واپس کرنے کی سادہ و پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ،انھوں نے کہا کہ شہریوں میں اعتماد کی فضا قائم کرنا انتہائی ضروری ہے،شہریوں کو اپنی شکایات ضرور درج کرانی چاہئیں،اس وقت بھی سی پی ایل سی کے پاس 80 سے 90 شکایات یومیہ درج ہوتی ہیں جوکہ غیر رجسٹرڈ شکایات سے کہیں کم ہے۔

احمد چنائے نے کہا کہ ای ایم آئی نمبر کے ذریعے ہم موبائل فون کو بلاک کردیتے ہیں اور جب چوری یا چھیننے والے افراد انھیں مارکیٹ میں فروخت کرنے آتے ہیں تو مارکیٹ کے دکاندار پہلے سی پی ایل سی کے ذریعے اس کی ویریفکیشن کراتے ہیں اور یوں چوری شدہ موبائل فون نہ صرف ضبط کرلیے جاتے ہیں بلکہ موبائل فون لانے والے افراد کو بھی پولیس کے حوالے کردیا جاتا ہے،تقریب میں کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران ادریس میمن ، عبداللہ زکی اور دیگر بھی موجود تھے ،تقریب کے اختتام پر شہریوں کو ان کے چوری و چھینے گئے 50 موبائل فون پیش کیے گئے جوکہ مختلف مارکیٹوں میں فروخت کے لیے آئے تھے ، اس موقع پر شہریوں نے سی پی ایل سے اظہار تشکر کیا اور اس پر اعتماد کا بھی اظہار کیا ۔
Load Next Story