حکومت اور طالبان مذاکرات میں ڈیڈلاک

حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات گزشتہ چند دنوں سے ڈیڈ لاک کا شکار چلے آرہے ہیں

طالبان نے نہ تو جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا اور نہ ہی سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ رک سکا۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD/MULTAN:
حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات گزشتہ چند دنوں سے ڈیڈ لاک کا شکار چلے آرہے ہیں اور دونوں جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خواہش کے ساتھ ساتھ گلے شکوؤں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ طالبان کی طرف سے جنگ بندی میں توسیع سے انکار کے باوجود حکومت نے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔

اس دوران بعض ناخوشگوار واقعات بھی رونما ہوئے مگر حکومت کی جانب سے مذاکرات کو جاری رکھنے کے بیانات کا تسلسل جاری رہا مگر جمعے کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پہلی بار مذاکرات کے حوالے سے یہ موقف اختیار کیا کہ کھینچا تانی کے اس ماحول میں مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ مذاکرات کو آگے نہ بڑھانے کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک جانب میٹنگ ہوتی ہے تو دوسری جانب میڈیا میں جا کر جلسہ عام شروع ہو جاتا ہے۔ ابھی تک اس ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور طالبان کی جانب سے کوئی واضح اور غیر مبہم موقف سامنے نہیں آیا اور دونوں جانب بدگمانی اور بداعتمادی کی فضا بدستور قائم چلی آ رہی ہے۔

طالبان نے جب جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تو چند ایک ناخوشگوار واقعات کے سوا عمومی طور پر امن قائم رہا اور یہ امید پیدا ہونے لگی کہ حکومت اور طالبان جلد ہی کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے مگر ایسا نہ ہو سکا اور طالبان نے چالیس روزہ جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کر کے صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا۔ اس کے بعد اسلام آباد کی سبزی منڈی میں ہونے والے بم دھماکے سے تنائو کا پھر سے آغاز ہو گیا پھر پشاور اور چار سدہ میں پولیس پر حملوں نے تو جلتی پر تیل کا کام کیا اور صورت حال مزید بگاڑ دی جس پر ردعمل میں سیکیورٹی فورسز بھی حرکت میں آ گئیں اور خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ اور دور افتادہ علاقہ تیراہ میں جیٹ طیاروں کے ذریعے بمباری کی گئی جس میں 37 شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ملی۔

طالبان کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کے اعلان کے بعد سیکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف یہ پہلی فضائی کارروائی تھی۔ حکومت اور طالبان مذاکراتی عمل کو پورے خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھنے کا عندیہ تو دیتے رہے مگر کسی جانب سے واضح پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔ اس دوران بعض حلقوں کی جانب سے یہ موقف بھی سامنے آیا کہ اگر طالبان جنگ بندی میں مزید توسیع کر دیتے تو اس سے عوام میں ان کا امیج بہتر ہوتا اور مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھتا مگر طالبان نا صرف جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کے موقف پر ڈٹے رہے بلکہ حملوں کا سلسلہ بھی پھر سے شروع ہو گیا۔ اب تک جو معاملات چل رہے ہیں اس میں حوصلہ افزا اور واضح صورت حال دکھائی نہیں دے رہی۔ پیچیدگی اور الجھائو کے اس عمل کو حکومت اور طالبان دونوں خلوص اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہی ختم کر سکتے ہیں۔


اخباری اطلاعات کے مطابق جنوبی وزیرستان میں جھڑپوں کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ تحصیل بابڑ میں جھڑپوں کی اطلاع ہے ' یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ طالبان کے کمانڈر اور جنوبی وزیرستان کے ترجمان اعظم طارق کے بیٹے عرفان سمیت 24 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔یہ جھڑپیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جنوبی وزیرستان میں حالات بگڑ رہے ہیں اور آنے والے چند دنوں میں بھی ان میں سدھار کی کرن دکھائی نہیں دے رہی۔ حکومت اور طالبان دونوں کو ایک دوسرے کے بارے میں مبہم باتیں چھوڑ کر مذاکرات کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرنا چاہیے اور انھیں جلد از جلد کامیاب بنانے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے میں جتنی تاخیر ہوتی چلی جائے گی معاملات اتنے ہی بگڑتے چلے جائیں گے۔ اگر معاملات یونہی بگڑتے چلے گئے تو خدشہ ہے کہ بات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہ پہنچ جائے۔

اس سے پہلے کہ محاذ آرائی شدت اختیار کر جائے دونوں فریقین کو ڈیڈ لاک ختم کر کے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کر دینا چاہیے۔ اب تک ہونے والے مذاکرات کے نتیجہ خیز نہ ہونے کی وجہ دونوں فریقین کے درمیان بہت سے امور پر اختلافات کا حل نہ ہونا ہے۔ یہ اختلافات اسی صورت ختم ہو سکتے ہیں جب دونوں فریقین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کے بجائے کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر سمجھوتہ کرلیں۔ اگر دونوں فریقین نے لچک کا مظاہرہ نہ کیا اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ یونہی جاری رکھا تو پھر مذاکراتی عمل میں ڈیڈ لاک ختم ہونے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے طالبان سے اپیل کی تھی کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں اور فوجی اداروں پر حملے نہ کریں مگر ایسا نہ ہو سکا۔

طالبان نے نہ تو جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا اور نہ ہی سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ رک سکا۔ گزشتہ چند دنوں میں رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں اس بات کا خدشہ مسلسل چلا آ رہا ہے کہ ناخوشگوار واقعات کا سلسلہ رکنے میں نہیں آئے گا اور اگر حملوں کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ محاذ آرائی شدت اختیار کر جائے گی۔ حکومت اور طالبان کے درمیان کئی ماہ تک مذاکراتی عمل کا سلسلہ جاری رہا مگر اس کے باوجود بعض حلقوں کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا کہ حقیقی مذاکرات تو ابھی شروع نہیں ہوئے۔

مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں جتنی تاخیر ہوتی چلی جائے گی مخالف قوتوں کو اپنا کھیل کھیلنے کا اتنا ہی موقع ملتا چلا جائے گا۔اس سب کے باوجود امید کی کرن ابھی تک موجود ہے کہ حکومت اور طالبان تمام تر اختلافات کے باوجود بالآخر مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کے لیے ناگزیر ہے کہ دونوں فریقین حکمت،تدبر، دور اندیشی اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کریں۔
Load Next Story