یورپی یونین کی پابندی کا خدشہ آم کے باغات کی چیکنگ و سرٹیفکیشن مہم شروع کردی گئی

صرف مستند فارمز سے ہی آم یورپ کو برآمد کیا جائے گا، فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز

پاکستانی پھل اور سبزیوں کے معیار کو بہتر بنانے اور جدید زرعی رجحانات کو فروغ دینے کیلیے پی ایف وی اے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کررہی ہے،ترجمان۔ فوٹو: فائل

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن اور پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ نے یورپی پابندی کے خدشے کے پیش نظر جنگی بنیادوں پر آم کے باغات سے فروٹ فلائی کے خاتمے کی مہم شروع کردی ہے۔

اس مہم کے تحت سندھ اور پنجاب کے باغات اور پیک ہائوسز کا معائنہ کرکے فروٹ فلائی سے پاک فارم ہائوسز کی سرٹیفکیشن کی جائیگی اور سرٹیفائڈ فارمز سے ہی فروٹ فلائی سے پاک آم یورپ کو ایکسپورٹ کیا جائیگا۔ مہم کے تحت کاشتکاروںکو فروٹ فلائی سے خاتمے کے بارے میں آگہی اور تربیت بھی فراہم کی جائیگی جس کیلیے آم کی پیداوار والے علاقوں میں ورکشاپ اور سیمینار منعقد کیے جائیں گے۔ اس مہم کیلیے آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز اینڈ امپورٹرز مرچنٹس ایسوسی ایشن اور پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے مابین تعاون اور اشتراک عمل کا معاہدہ بھی طے پاگیا ہے۔ آگہی مہم کا آغاز ہفتے کو حیدرآباد میں سیمینار کے انعقاد سے کیا گیا جس میں سندھ کے کاشتکاروں اور ایکسپورٹرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔


سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے ترجمان اور سابق چیئرمین وحید احمدنے کہا کہ پاکستانی پھل اور سبزیوں کے معیار کو بہتر بنانے اور جدید زرعی رجحانات کو فروغ دینے کیلیے پی ایف وی اے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کررہی ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی وارننگ کاشتکاروں، ایکسپورٹرز اور متعلقہ اداروں کیلیے ایک چیلنج ہے تاہم تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اس چیلنج کو پاکستانی پھل اور سبزیوں کا معیار بہتر بناکر ایکسپورٹ بڑھانے کا ذریعہ بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ہارٹی کلچر کی ایکسپورٹ آئندہ 10سال میں7ارب ڈالر تک بڑھائی جاسکتی ہے، تاہم اس کیلیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ذریعے نئی ورایٹیز تیار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ہوگا، اس مقصد کیلیے فارم سے لے کر ایکسپورٹ تک پوری سپلائی چین کو مستحکم بنانا ہوگا۔

انہوں نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مبارک نے کہا کہ وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے فروٹ فلائی کے تدارک کیلیے سندھ اور پنجاب میں انسداد ڈینگی کی طرز پر مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلیے سندھ اور پنجاب کے وزرا اعلیٰ کو خصوصی مراسلے ارسال کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صرف فروٹ فلائی سے پاک فارمز کو ہی یورپی یونین کو آم برآمد کرنے کی اجازت دی جائیگی جس کے لیے سندھ اور پنجاب کے فارمز کا معائنہ کرکے رجسٹریشن کی جائیگی جن فارمز کی رجسٹریشن نہیں ہوگی ان کے لیے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ لازمی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف وی اے کے اشتراک سے سندھ اور پنجاب کے شہروں میں آگہی سیمینار اور تربیتی ورکشاپ منعقد کی جائیں گی۔

اس موقع پر خطاب میں ہارٹی کلچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے چیئرمین حسن علی چانیو نے سیمینار کے انعقاد اور آگہی مہم کو سراہتے ہوئے فروٹ فلائی کی روک تھام کیلیے ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری انڈسٹری سپلائی اورینٹڈ ہے جسے ڈیمانڈ اورینٹڈ بنانے کیلیے سخت محنت کی ضرورت ہے۔ زرعی ماہر ہادی بخش لغاری نے فروٹ فلائی کی روک تھام کیلیے اپنی پریزنٹیشن میں کہا کہ فروٹ فلائی کی روک تھام کیلیے باغات کی صفائی بہت ضروری ہے۔ آم کے باغات میں گندگی اور درختوں سے گرے ہوئے آم فروٹ فلائی میں اضافے کا سبب ہیں۔ گرم موسم میں فروٹ فلائی کی زیادہ افزائش ہوتی ہے، فروٹ فلائی کو پکڑنے کیلیے فرامون ٹریپ لگائے جائیں، ادویات کا کم سے کم اسپرے کیا جائے اسپرے کیلیے خصوصی آلات استعمال کیے جائیں۔
Load Next Story