ہفتہ رفتہ 6 ہفتے سے جاری مندی کا تسلسل ٹوٹ گیا روئی کی قیمتوں میں تیزی
100روپے اضافے کیساتھ بھائو 6 ہزار500سے 6ہزار600روپے فی من،اسپاٹ ریٹ 6ہزار500روپے فی من تک پہنچ گئے
ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات پر مندی کا رجحان ختم ہوا،عالمی منڈیوں میں بھی تیزی رہی۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
روپے کی نسبت ڈالرکی قدرمیں استحکام پیدا ہونے اوروفاقی حکومت کی جانب سے ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم ممکنہ طور پردوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات کے بعد گزشتہ ہفتے بالآخرپاکستان میں بھی چھہ ہفتے بعد روئی کی قیمتوں میں تیزی کارجحان غالب ہوا۔
جبکہ انٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی (آئی سی اے سی) کی جاری کردہ مالی سال2014-15 کی رپورٹ میں عالمی سطح پرکپاس کی پیداوارمزید گھٹنے اور کھپت میں اضافے کی پیشگوئی نے دنیا بھر میں بھی روئی کی قیمتوں میں تیزی پیدا کی۔ نتیجتا نیویارک کاٹن ایکس چینج میں روئی کی قیمتیں گزشتہ پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن ( پی سی جی اے) احسان الحق نے "ایکسپریس" کوبتایا کہ آئی سی اے سی کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2014-15میں دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار 25.2ملین ٹن ہونے کا امکان ہے چونکہ پہلے تخمینوں کے مقابلے میں دو فیصد کم جبکہ کپاس کی کھپت کا اندازاہ 24.3ملین ٹن لگایا گیا ہے جو کہ پہلے تخمینوں کے مقابلے میں تین فیصد زائد ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2014-15کے دوران دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار میں سب سے زیادہ کمی چین میں متوقع ہے جوکہ 10فیصد تک ہوسکتی ہے جس کی بڑی وجہ چینی حکومت کی کپاس کے بارے میں نئی پالیسیاں ہیں جسے چینی کسانوں میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جارہاہے جبکہ 2014-15کے دوران آئی سی اے سی نے دنیا بھر میں روئی کی کھپت میں سب سے زیادہ اضافہ پاکستان بھارت اور ترکی میں ہونے کے بارے میں رپورٹ جاری کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی حکومت کی مثبت اور بروقت نافذ کی جانے والی پالیسیوں کے باعث 2013-14کے دوران بھارت سے سوتی دھاگے کی برآمد کے لیے ریکارڈ ایک ہزار415 ملین کلو گرام سوتی دھاگے کی رجسٹریشن کرائی گئی ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 33فیصد زائد ہے۔
جبکہ پاکستانی حکومت کی جانب سے بھارت سے سوتی دھاگے کی درآمد پر 5فیصد درآمدی ڈیوٹی کا نفاذ اتنی تاخیر سے کیا گیا ہے جیسے کہ مریض کو اس کی موت کے بعد دوا دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضرڈلیوری روئی کے سودے 1.10سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 95.30سینٹ فی پائونڈ ، جولائی ڈلیوری روئی کے سودے 1.07سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 94.32سینٹ فی پائونڈ، بھارت میں روئی کی قیمتیں ریکارڈ 673روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 42ہزار973روپے فی کینڈی جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 100روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار500روپے فی من تک پہنچ گئے جبکہ روئی کی قیمتیں 100روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار 500 سے 6ہزار600روپے فی من تک پہنچ گئیں۔
احسان الحق نے بتایا کہ پی سی جی اے کی جانب سے جاری ہونے والے 2014-15میں روئی کی مجموعی ملکی پیداوار کے حتمی اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں روئی کل پیداوارایک کروڑ 33لاکھ 91ہزار694 بیلز رہیںہیں جوکہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں چار لاکھ 76 ہزار بیلز زائد ہیں۔ صوبہ پنجاب میں کپاس کی پیداوار پچھلے سال کے مقابلے میں1.29فیصد زائد جبکہ سندھ میں 10.37 فیصد زائد رہی جبکہ ٹیکسٹائل ملز نے بھی پچھلے سال کے مقابلے میں تقریبا چار لاکھ بیلز زاید خریدیں۔
روپے کی نسبت ڈالرکی قدرمیں استحکام پیدا ہونے اوروفاقی حکومت کی جانب سے ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم ممکنہ طور پردوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات کے بعد گزشتہ ہفتے بالآخرپاکستان میں بھی چھہ ہفتے بعد روئی کی قیمتوں میں تیزی کارجحان غالب ہوا۔
جبکہ انٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی (آئی سی اے سی) کی جاری کردہ مالی سال2014-15 کی رپورٹ میں عالمی سطح پرکپاس کی پیداوارمزید گھٹنے اور کھپت میں اضافے کی پیشگوئی نے دنیا بھر میں بھی روئی کی قیمتوں میں تیزی پیدا کی۔ نتیجتا نیویارک کاٹن ایکس چینج میں روئی کی قیمتیں گزشتہ پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ ممبر پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن ( پی سی جی اے) احسان الحق نے "ایکسپریس" کوبتایا کہ آئی سی اے سی کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 2014-15میں دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار 25.2ملین ٹن ہونے کا امکان ہے چونکہ پہلے تخمینوں کے مقابلے میں دو فیصد کم جبکہ کپاس کی کھپت کا اندازاہ 24.3ملین ٹن لگایا گیا ہے جو کہ پہلے تخمینوں کے مقابلے میں تین فیصد زائد ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2014-15کے دوران دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار میں سب سے زیادہ کمی چین میں متوقع ہے جوکہ 10فیصد تک ہوسکتی ہے جس کی بڑی وجہ چینی حکومت کی کپاس کے بارے میں نئی پالیسیاں ہیں جسے چینی کسانوں میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جارہاہے جبکہ 2014-15کے دوران آئی سی اے سی نے دنیا بھر میں روئی کی کھپت میں سب سے زیادہ اضافہ پاکستان بھارت اور ترکی میں ہونے کے بارے میں رپورٹ جاری کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی حکومت کی مثبت اور بروقت نافذ کی جانے والی پالیسیوں کے باعث 2013-14کے دوران بھارت سے سوتی دھاگے کی برآمد کے لیے ریکارڈ ایک ہزار415 ملین کلو گرام سوتی دھاگے کی رجسٹریشن کرائی گئی ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 33فیصد زائد ہے۔
جبکہ پاکستانی حکومت کی جانب سے بھارت سے سوتی دھاگے کی درآمد پر 5فیصد درآمدی ڈیوٹی کا نفاذ اتنی تاخیر سے کیا گیا ہے جیسے کہ مریض کو اس کی موت کے بعد دوا دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضرڈلیوری روئی کے سودے 1.10سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 95.30سینٹ فی پائونڈ ، جولائی ڈلیوری روئی کے سودے 1.07سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 94.32سینٹ فی پائونڈ، بھارت میں روئی کی قیمتیں ریکارڈ 673روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 42ہزار973روپے فی کینڈی جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 100روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار500روپے فی من تک پہنچ گئے جبکہ روئی کی قیمتیں 100روپے فی من اضافے کے ساتھ 6ہزار 500 سے 6ہزار600روپے فی من تک پہنچ گئیں۔
احسان الحق نے بتایا کہ پی سی جی اے کی جانب سے جاری ہونے والے 2014-15میں روئی کی مجموعی ملکی پیداوار کے حتمی اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں روئی کل پیداوارایک کروڑ 33لاکھ 91ہزار694 بیلز رہیںہیں جوکہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں چار لاکھ 76 ہزار بیلز زائد ہیں۔ صوبہ پنجاب میں کپاس کی پیداوار پچھلے سال کے مقابلے میں1.29فیصد زائد جبکہ سندھ میں 10.37 فیصد زائد رہی جبکہ ٹیکسٹائل ملز نے بھی پچھلے سال کے مقابلے میں تقریبا چار لاکھ بیلز زاید خریدیں۔