فارمولا مارننگ شوز کے دور میں اپنی منفرد پہچان بنانے والا ’’ ُسرساتھ سویرا‘‘

ریٹنگ بڑھانے اور پیسہ کمانے سے معاشرے میں سدھار کی بجائے نقصان ہوتا ہے، دُعاملک

ریٹنگ بڑھانے اور پیسہ کمانے سے معاشرے میں سدھار کی بجائے نقصان ہوتا ہے، دُعاملک فوٹو : فائل

دنیا میں وہی ملک اورقومیں ترقی کرتی ہیں جہاں زندگی کے تمام شعبوں میں نوجوانوں کواپنی صلاحیتوں کے اظہارکا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے جب کامیابی کی سیٹرھی پرقدم رکھا تو ان کے اس سفر میں نوجوانوں کا کردار بڑا نمایاں تھا۔ نوجوانوں کے نت نئے آئیڈیاز نے ان ممالک کودنیا کے کامیاب ترین ملکوں اور قوموں کی فہرست میں لاکھڑا کیا۔ اس لئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ترقی اورکامیابی کیلئے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ بے حد ضروری ہے۔

اس سلسلہ میں اگربات کی جائے '' ایکسپریس میڈیا گروپ '' کی تواس ادارے نے ہمیشہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے بہترین مواقع فراہم کئے ہیں۔ اس کی ایک بہترین مثال ''ایکسپریس نیوز '' کے مقبول ترین مارننگ شو''سُرساتھ سویرا '' کی میزبان دعا ملک بھی ہیں۔ جن کو پاکستان کی سب سے کم عمر مارننگ شو میزبان ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ دعا ملک کے منفرد انداز میزبانی نے پروگرام کی کامیابی کو چارچاند لگائے اوراب ''سُرساتھ سویرا'' پاکستان کا مقبول مارننگ شوبن چکا ہے۔



خواتین کی بڑی تعداد کے علاوہ تمام عمر کے لوگ مارننگ شو کوبہت شوق سے دیکھتے ہیں اور اس پروگرام کو پسند کرنے کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار خطوط اور ای میلز کے ذریعے بھی کرتے رہتے ہیں۔ جس سے ناظرین میں ''سُرساتھ سویرا'' کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ دعا ملک نے ''ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے جہاں اپنے پروگرام کے منفرد انداز پربات کی ، وہیں اپنی نجی زندگی کی کامیابیوں کا بھی تذکرہ کیا جوقارئین کی نذرہے۔

دعاملک نے کہا کہ میری پیدائش کراچی میں ہوئی اورمیں نے ابتدائی تعلیم بھی شہرقائد میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کیلئے برطانیہ چلی گئی جہاں سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی۔ برطانیہ میں تین سال کے دوران جہاں اپنی تعلیم مکمل کی، وہیں زندگی کے بہت سے انوکھے رنگ اورڈھنگ بھی دیکھے۔ ہم چھ بہن بھائی ہیں اورمیں ان سب میں چھوٹی ہوں لیکن میں نے چھوٹی سی عمر میں بہت کچھ دیکھا اورسیکھا بھی۔ برطانیہ سے جب پاکستان آئی تواس بات کا کوئی ارادہ نہ تھا کہ مجھے میڈیا سے وابستہ ہونا ہے۔ مجھے موسیقی سے لگاؤ ہمیشہ سے تھا، اس لئے میں نے فراغت کے لمحات میں موسیقی کی تربیت حاصل کرنا شروع کردی۔



میں نے نوجوان نسل کے معروف موسیقارسُہیل حیدر کے ساتھ میوزک پر کام شروع کیا اورہم نے ایک گیت ریکارڈ کیا جس کو بہت اچھا رسپانس ملا۔ اسی طرح میری والدہ اوربڑی بہن عمائمہ ملک نے بھی میری حوصلہ افزائی کی۔ لیکن دوسری جانب پاکستان کے حالات کے پیش نظرملک بھرمیں میوزک کنسرٹس کا سلسلہ بند تھا اور میوزک انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں لوگ پہلے ہی بے روزگارتھے ،اس لئے میں نے موسیقی کے ساتھ کچھ نیا کرنے کی ٹھانی کیونکہ میں کوئی ایسا کام کرنا چاہتی تھی جو معمول سے ہٹ کرہو اوراس کے ذریعے لوگوں کے اداس چہروں پر مسکراہٹ لانے کے ساتھ ان کی زندگی میں بہتری اور سدھار آسکے۔

اس کیلئے میں نے مارننگ شوکی میزبانی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ جس کا مقصد صرف پیسے کمانا اورشہرت حاصل کرنا قطعی نہ تھا بلکہ میں ایک ایسا مارننگ شو کرنا چاہتی تھی جولوگوں کی زندگی میں سکون لائے۔ خاص طورپرخواتین جوسب سے زیادہ شوق سے مارننگ شو دیکھتی ہیں ان کی زندگیوں میں بہتری آسکے۔ جب میں نے '' ایکسپریس میڈیا گروپ'' کے منتظمین کو مارننگ شو کا آئیڈیا دیا توانہوں نے میری حوصلہ افزائی کی اورمجھے اس شوکو تیارکرنے کا گرین سگنل دیدیا۔




انہوں نے کہا کہ''ایکسپریس'' کے ساتھ پہلا پروگرام کرنااس لئے ضروری تھا کیونکہ ''ایکسپریس'' پاکستان کا واحد چینل ہے جو ریٹنگ کے پیچھے نہیں بھاگتا بلکہ نئے لوگوںکو بہترکام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ ہم نے اپنے پروگرام میں میوزک کا ساتھ رکھا۔ یہاں ناچنا نہیں ہوتا البتہ گاناضرور ہوتا ہے۔ صدا بہار گیت سنائے جاتے ہیں جن کو لوگ گنگناتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہم سب نے مل کرایک ایسا مارننگ شوپیش کرنے کا فیصلہ کیا ، جولوگوں کی صبح کو خوشگواربنائے اوراسے صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مرد اوربچے بھی جب دیکھیں تووہ اس سے لطف اندوز ہوسکیں۔ جہاں تک پروگرام کے نام کی بات ہے توہم نے اپنے مارننگ شو کا نام ''سُرساتھ سویرا '' اس لئے رکھا کیونکہ میں خود بھی ایک سنگرہوں۔ ویسے بھی سروں کا ساتھ بہت ضروری ہوتا ہے۔ ہم لوگوں میں خوشیاں بانٹنے کے ارادے کے ساتھ پروگرام لے کرآئے تھے اور اب اس کا زبردست رسپانس سامنے آرہا ہے۔

اس وقت '' ایکسپریس نیوز'' کے علاوہ تمام چینلزایک طرف تو ریٹنگ کی دوڑلگارہے ہیں اوردوسری جانب ایسی جعلسازی دکھائی جارہی ہے ، جس نے خواتین کی زندگی کوجہنم بنادیا ہے ۔ یہ وہ موقع تھا جب ہمارے مقابلے میں دوسرے چینلز کے مارننگ شوزمیں'' مرچ مصالحہ'' لگا کر شادی شدہ جوڑوں کی شادیاں، لڑائی جھگڑے، جادو ٹونے سمیت دیگر غیر ضروری موضوعات پرپروگرام پیش کئے جارہے تھے۔ حالانکہ مارننگ شوکا مقصد لوگوں کی صبح کو خوشگواربنانا تھا۔ پروگرام کی میزبان اس طرح سج دھج کے کرسی پربراجمان ہوتی تھیں، جیسے ان کی اپنی شادی ہونے جارہی ہو۔



ان پروگراموں سے ملنے والے پیغام نے معاشرے میں سدھارکی بجائے بگاڑ پیداکیا۔ ان پروگراموں میں خواتین کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ '' خواتین اگراپنے خاوند سے زیادہ کامیاب اورپیسہ کمانے لگی ہیں توان کو مردوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اورانہیں تنہا زندگی بسرکرنی چاہئے'' ۔ اس پیغام نے بہت سی خواتین کی زندگیاں اجاڑدیں۔ ایسے میں مجھے ایک ایسا پروگرام پیش کرنا تھا جوہرلحاظ سے فارمولا مارننگ شوز سے ہٹ کرہو۔ میں نے یہ کوشش کی کہ اپنے پروگرام کے ذریعے خواتین کو سیکھانے اورانہیں ان کے حقوق بارے اس انداز سے پیغام پہنچاؤں جس سے ان کی زندگی میں بہتری آئے۔

ویسے بھی میں ہمیشہ سے خواتین کے حقوق کی آواز بلند کرتی آئی ہوں ، لیکن اس کا یہ مقصد قطعی نہیں رہا کہ میں خواتین میں ایک ایسا شعوراجاگر کروں جس سے وہ بغاوت پر اتر آئیں اوران کا ہنستا بستا گھرتباہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں اپنے بچپن میں صبح سکول جانے کیلئے اٹھتی تومارننگ شو کے ذریعے میں بہت سی اچھی باتیں سیکھتی اورمعلومات ملتی، لیکن اب مہنگے ملبوسات دکھا کر خواتین کو اس ضد پرمجبورکیا جا رہاہے کہ وہ شام کواپنے خاوند سے جھگڑا کریں کہ وہ ان کو لاکھوں روپے مالیت کا سوٹ خرید کردے ۔ اس طرح سے گھروں میں فساد ہونے لگاہے اور لوگوں میں احساس کمتری بڑھ رہا ہے۔



ایک سوال کے جواب میں دعا ملک نے کہا کہ میڈیا میںآنے والے لوگ ریٹنگ بڑھانے اور پیسہ کمانے کے چکر میں وہ سب کچھ کرڈالتے ہیں جس سے معاشرے میں سدھارآنے کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔ یہ لوگ کبھی نہیں سوچتے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جو معاشرہ بنا رہے ہوتے ہیں۔ لوگ ہمیں رول ماڈل سمجھتے ہیں ، ہم جوکرتے ہیں لوگ ویسا کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ اس لئے میں خواتین کے مسائل کوحل کرنے اورجھگڑوں کو سُلجھانے کا سبق دیتی ہوں۔ یہی نہیں جب کوئی اہم قومی سانحہ رونما ہوتا ہے تومیں اس موقع پربھی خصوصی پروگرام پیش کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ''سُرساتھ سویرا'' کے 85 پروگرام آن ائیر ہوچکے ہیں اوراب ہمارے مارننگ شو کے انداز کو دوسرے چینلز کی انتظامیہ اپنانے پرمجبورہوچکی ہے۔ جن پروگراموں کی صبح کا آغاز ناچ ، گانا سے ہوتا تھا اب وہاں بھی بامقصد پروگرام پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جس کی مجھے بے حد خوشی ہے کہ میں جس مقصد کے ساتھ مارننگ شو کرنے کیلئے اس میدان میں اتری تھی اب اس میں کامیابی مل رہی ہے۔

حالانکہ مجھے بے جا تنقید کا نشانہ بنایا گیا، لیکن میں ایک بات جانتی ہوں کہ کامیابی کی منزل کٹھن ضرور ہوتی ہے لیکن محنت اورنیک نیتی کے ساتھ کوئی کام کیا جائے تواس میں کامیابی ضرورملتی ہے۔ دعا ملک نے مزید بتایا کہ میری بڑی بہن عمائمہ ملک نے اپنی محنت سے اپنا منفرد مقام بنایا۔ اس شعبے میں آنے کے بعد اس نے مجھے بھی یہی بات سیکھائی ہے کہ زندگی میں جوبھی کرنا ہے وہ خود کرو تاکہ تم کواس کی باریکیوں اور پیچیدگیوں کے بارے میں پتہ چل سکے اور جب کبھی کوئی مشکل گھڑی آئے توتم اس مشکل کواپنے تجربے کی بناء پر دور کر سکوں۔



عمائمہ کی یہ بات مجھے بہت پسند آئی اوراس کواپنے ساتھ لے کرآگے بڑھ رہی ہوں۔ بطور گلوکارہ اورمیزبان توکام کررہی ہوں لیکن مستقبل میں اگرکسی بامقصد فلم میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی تو ضرور کام کروں گی لیکن جہاں تک بات کمرشل فلم میں اداکاری کی ہے تواس میں کام کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ہم اپنا پروڈکشن ہاؤس بنانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں اوراس کے بینر تلے بھی اچھے اور معیاری ڈرامے، فلمیں اور دیگر پروگرام بنائیں گے۔

انٹرویوکے آخرمیں دعا ملک نے بتایا کہ مجھے ''ایکسپریس نیوز'' نے ایک منفرد پہچان دی ہے اوراب میں جب شاپنگ کے لیے کسی شاپنگ مال یا مارکیٹ میں جاتی ہوں تولوگ تصویریں بنوانے اور آٹوگراف لینے کے لیے اکھٹے ہوجاتے ہیں۔ یہ سب ''سُرساتھ سویرا'' کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ جلد ہی ہم اپنے مارننگ شو میں پاکستان کی ثقافت کو بھرپور انداز سے اجاگر کرنے کے لیے بھی پروگرام پیش کریں گے جس سے نوجوانوں کو پاکستان کے خوبصورت کلچرکے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا اور ہمارے ملک کا سافٹ امیج پوری دنیا تک پہنچے گا۔
Load Next Story