دہشتگردی کے واقعات میں بیرونی عناصر ملوث ہوسکتے ہیں نگراں وزیر اطلاعات کے پی
امن وامان خراب کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی ہوگی، بیرسٹر فیروز جمال
فوٹو: ایکسپریس
خیبرپختونخوا کے نگران وزیر اطلاعات بیرسٹر فیروز جمال کاکاخیل نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی عناصر ملوث ہوسکتے ہیں۔
سول سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیروز جمال نے کہا کہ نگران وزیراعلیٰ محمد اعظم خان کی زیر صدارت محکمہ داخلہ اور تمام سیکیورٹی اداروں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں تمام تر صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں دہشت گردی کے حالیہ چاروں واقعات کی مذمت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ نگران حکومت عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت چوکس ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے نہیں دیا جائے گا۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا عزم اور حوصلے جوان ہیں اور کوئی بھی انہیں شرپسندانہ اقدامات سے پست نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ حیات آباد، ریگی، باڑہ اورخیبرمیں یہ چاروں واقعات رونما ہوئے۔ گزشتہ روز مسجد کو ہدف بنایا گیا۔ امن وامان کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے46 نئی چیک پوسٹیں اور ضم اضلاع میں 7 نئے تھانے بنائے گئے ہیں جبکہ ہمارے 8000 جوانوں کو عسکری حکام تربیت دیں گے تاکہ وہ بہتر انداز میں دہشت گردی کا مقابلہ کرسکیں۔
نگران وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ روز خیبر واقعہ میں عدنان کے ساتھیوں نے ویڈیو بنائی جبکہ عدنان خود مشتبہ شخص سے بات کرنے گیا جہاں خود کش نے اپنے آپ کو اڑادیا جس کی وجہ سے عدنان آفریدی شہید ہوگئے، جنہوں نے یقینی طور پر بہادری کی نئی داستان لکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان واقعات کی تفتیش کا سلسلہ جاری ہے، پشاورمیں مارے جانے والے سکھوں کے واقعات کے ملزمان کوگرفتارکیا گیا ہے اورتفتیش بھی جاری ہے۔ کسی کو امن وامان کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جس نے بھی ایسا کیا اس کے خلاف بھرپور کاروائی ہوگی۔
اس موقع پر سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید نے کہا کہ بارڈر کنٹرول اور خودکشوں کے داخلے کے حوالے سے دو چاردن میں معلومات سامنے لائی جائیں گی۔ یہ معلومات اس وقت نہیں بتائی جاسکتیں کیونکہ اس کی وجہ سے تحقیقاتی عمل متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محرم کے حوالے سے جہاں بھی کوئی مسئلہ ہے وہاں سیکیورٹی موجود ہے۔
سول سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیروز جمال نے کہا کہ نگران وزیراعلیٰ محمد اعظم خان کی زیر صدارت محکمہ داخلہ اور تمام سیکیورٹی اداروں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں تمام تر صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں دہشت گردی کے حالیہ چاروں واقعات کی مذمت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ نگران حکومت عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت چوکس ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے نہیں دیا جائے گا۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا عزم اور حوصلے جوان ہیں اور کوئی بھی انہیں شرپسندانہ اقدامات سے پست نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ حیات آباد، ریگی، باڑہ اورخیبرمیں یہ چاروں واقعات رونما ہوئے۔ گزشتہ روز مسجد کو ہدف بنایا گیا۔ امن وامان کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے46 نئی چیک پوسٹیں اور ضم اضلاع میں 7 نئے تھانے بنائے گئے ہیں جبکہ ہمارے 8000 جوانوں کو عسکری حکام تربیت دیں گے تاکہ وہ بہتر انداز میں دہشت گردی کا مقابلہ کرسکیں۔
نگران وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ روز خیبر واقعہ میں عدنان کے ساتھیوں نے ویڈیو بنائی جبکہ عدنان خود مشتبہ شخص سے بات کرنے گیا جہاں خود کش نے اپنے آپ کو اڑادیا جس کی وجہ سے عدنان آفریدی شہید ہوگئے، جنہوں نے یقینی طور پر بہادری کی نئی داستان لکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان واقعات کی تفتیش کا سلسلہ جاری ہے، پشاورمیں مارے جانے والے سکھوں کے واقعات کے ملزمان کوگرفتارکیا گیا ہے اورتفتیش بھی جاری ہے۔ کسی کو امن وامان کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جس نے بھی ایسا کیا اس کے خلاف بھرپور کاروائی ہوگی۔
اس موقع پر سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید نے کہا کہ بارڈر کنٹرول اور خودکشوں کے داخلے کے حوالے سے دو چاردن میں معلومات سامنے لائی جائیں گی۔ یہ معلومات اس وقت نہیں بتائی جاسکتیں کیونکہ اس کی وجہ سے تحقیقاتی عمل متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محرم کے حوالے سے جہاں بھی کوئی مسئلہ ہے وہاں سیکیورٹی موجود ہے۔