معاشی ترقی کے دعوے

حکومت ابھی تک اپنی معاشی پالیسیوں کے واضح خدوخال عوام کے سامنے نہیں لا سکی۔

لوڈشیڈنگ کا یہ عالم ہے کہ دیہات میں 20,20 گھنٹے اور شہروں میں 18,18 گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افراط زر کی شرح بڑھنے اور دیگر وجوہات کی بنا پر اب ہمیں غربت کی نئی تعریف کرنا ہو گی اور سوا ڈالر کے بجائے یومیہ 2 ڈالر یومیہ کمانے والوں کو بھی غریب شمار کیا جائے، دنیا میں 40 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جن کی آمدنی 2ڈالر یومیہ سے کم ہے، ایشیائی عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے پورے خطے کو ترقی دینے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کا گراف جتنی تیزی سے اوپر گیا ہے اس کے حساب سے وفاقی وزیر خزانہ نے غربت کے معیار کے لیے 2ڈالر یومیہ کی جو حد مقرر کی ہے وہ بہت کم ہے۔ 2ڈالر یومیہ تقریباً 200 روپے روزانہ کمانے والا شخص غریب ہی نہیں بلکہ انتہائی غریب شمار ہوتا ہے۔ اتنی کم آمدنی میں ایک خاندان روز مرہ خوراک کے اخراجات ہی بمشکل پورے کر پاتا ہے چہ جائیکہ وہ زندگی کی دوسری لازمی ضروریات پوری کر سکے۔ ایک غریب خاندان کی روز مرہ ضروریات کا حقیقی معاشی پیمانے پر جائزہ لیا جائے تو وہ کسی طرح بھی پانچ ڈالر یومیہ سے کم نہیں ہوتیں۔ وفاقی وزیر خزانہ نے غربت کے معیار کے لیے 2 ڈالر یومیہ کا جو معیار مقرر کیا ہے اس حوالے سے پاکستان میں 70 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کے دن گزار رہی ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ نے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستانی حکومت کی نئی معاشی پالیسی اور عالمی معیار کے مطابق معاشی اصلاحات کی بدولت پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں جو کہ عالمی مالیاتی اداروں و سرمایہ کاروں کے اعتماد کا نتیجہ ہے' انھوں نے توقع ظاہر کی کہ 30ستمبر 2014 تک زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے' مالی سال 2013-14 کے دوران قومی معیشت میں 4 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گا' زرعی اور صنعتی شعبوں میں ترقی کے باعث افراط زر کی شرح یک ہندسہ رہے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ جن معاشی اصلاحات کی بدولت زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا دعویٰ کر رہے ہیں اس کا فائدہ ایک مخصوص طبقے کو تو پہنچا ہو گا مگر عام آدمی کی حالت میں تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ حکومت نے توانائی بحران جلد از جلد حل کرنے کا وعدہ کیا تھا' اسے برسراقتدار ہوئے ایک سال کا عرصہ بیت گیا ہے مگر توانائی کا بحران جوں کا توں موجود ہے۔


لوڈشیڈنگ کا یہ عالم ہے کہ دیہات میں 20,20 گھنٹے اور شہروں میں 18,18 گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے جس سے نچلے طبقے کا روزگار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ بجلی اور گیس نہ ملنے سے فیکٹریاں آج بھی اسی طرح بند ہو رہی ہیں جس طرح ماضی میں ہوتی رہیں۔ بے روز گاری روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے اور اس میں کمی کے کوئی مثبت اشاریے نظر نہیں آ رہے۔ حکمران اپنے بیانات اور تقریروں میں بار بار یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے باعث براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ ملک کے عمومی معاشی حالات اور عام آدمی کے معاشی معیار کا جائزہ لیا جائے تو حکومتی دعوے اس سے قطعی میل نہیں کھاتے۔ حکومت نے ڈالر کی قیمت کم کر کے ایک مثبت قدم ضرور اٹھایا تھا جس کے درآمدات پر خوش کن اثرات مرتب ہوئے' ڈالر کی قیمت کم ہونے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی قدرے کمی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اور وزیراعظم یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ وہ ڈالر کی قیمت مزید کم کر سکتے تھے مگر انھوں نے ملکی مفاد کی خاطر اسے مزید کم نہیں ہونے دیا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ڈالر کی قیمت مزید کم کر دیتی تو اس سے پٹرول کی قیمت مزید کم ہو جاتی، غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بھی کم ہو جاتا اور مالیاتی خسارے میں بھی کمی واقعہ ہو جاتی جس کا فائدہ عام آدمی کو بھی پہنچتا ۔ حکومت نے ڈالر کی قیمت مزید کم نہ ہونے دے کر ممکن ہے کہ ایک خاص طبقے کو فائدہ پہنچایا ہو مگر مجموعی طور پر ملک کے معاشی نظام کو نقصان پہنچا ہے۔ پٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی واقعہ نہیں ہوئی اور نہ ہی روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں کوئی کمی آئی ہے بلکہ مہنگائی کا گراف بلند ہوتا جا رہا ہے جس سے غریب' غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔

حکومت ابھی تک اپنی معاشی پالیسیوں کے واضح خدوخال عوام کے سامنے نہیں لا سکی۔ دنیا میں جن ممالک نے ترقی کی ہے ان کی معاشی پالیسیوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ انھوں نے اپنی داخلی اور خارجہ پالیسیوں کو سیاسی مفادات کے بجائے اقتصادی ترجیحات اور مفادات کو سامنے رکھ کر تشکیل دیا ہے جب کہ ہمارے ہاں اس کے برعکس عمل درآمد ہوتا چلا آ رہا ہے۔ پاکستان کو معاشی بھنور سے نکالنے کے لیے حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں کا رخ درست سمت موڑنا ہو گا۔ حکمران طبقے' بااثر سیاستدانوں' جاگیرداروں' سرمایہ داروں اور وڈیروں کو بھی اسی طرح ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا جس طرح عام آدمی ہے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ وہ طبقہ جو تمام سرکاری مراعات اور سہولتوں سے فیض یاب ہو رہا ہے وہ یا تو ٹیکس ادا ہی نہیں کرتا یا کسی نہ کسی سطح پر ٹیکس چوری میں ملوث ہوتا ہے۔ ملک میں غربت کا خاتمہ تب ہی ممکن ہے جب حکومتی معاشی اصلاحات کا فائدہ عام آدمی تک پہنچے گا ۔
Load Next Story